ٹیگز: Chitral

ہز ہاینس پرنس کریم آغا خان

پرنس کریم آغا خان کے18اپریل2008ء کو گلف نیوزکو دیے گئے انٹرویو کا اُردو ترجمہ


 اُردو ترجمہ افسر خان چترالی

"مسلم اُمّہ”کے لئے ایک ایسی جمہوریت کی تشکیل ضرروری ہے جوانکی معاشرتی، اخلاقی، مذہبی اورمعاشی ساخت کے لئے موزوں ہو۔پرنس کریم آغا خان کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ”ہمیں جمہوریت کے فطری صفات کو دیکھنا چاہئے،میں نہیں سمجھتا کہ جمہوریت کی ایک ہی شکل ان تمام ضروریات کا احاطہ کرتاہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اُمّہ دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح اپنے لئے ایک ایسی جمہوری نظام کی تشکیل کریں جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کوشکست دے سکیں۔

پرنس کریم آغا خان نے کہا کہ امت مسلّمہ آج ایک کثیر الثقافت جماعت ہے اور یہ کہ یہ پڑوسی برادر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر تے ہیں۔ "کثیرالثقافتی نظام کی پسندیدگی یا قبولیت اوراس میں سرمایہ کاری ایک ایسی بنیاد ہوگی جس سے ہم مسلمانوں کو درپیش مسائل کوحل کرنے کے قابل ہونگے۔”انہوں نے کہا۔

اپنے دوبئی کے دورے کے دوران ،جہا ں آپ نے اسماعیلی سنٹر کے افتتاح کے سلسلے میں گئے تھے،گلف نیوز کے ہفتہ وار سیکشن ویکنڈ ریویو کے ساتھ ایک ایکسکلوسیو انٹریو میں ،آغا خان نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔”میں ذاتی طور پر ان چیزوں کو اسلام سے منسوب نہیں کرتا۔ میں انہیں سیاسی مسائل سے منسوب کرتا ہوں۔ چاہے یہ مسائل مشرق وسطیٰ میںہوں ، افغانستان یا کشمیر میں۔”انہوں نے کہا

کرشماتی شخصیت اورانہتائی نرم گفتار پرنس کریم آغا خان کے دنیا بھر میں 20ملین پیروکارہیں۔ آج اسماعیلی دنیاکے 25ممالک میںرہتے ہیں، زیادہ تر مغرب اور سنٹرل ایشیاء، افریقہ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ اورمغربی یورپ میں رہتے ہیں ۔متحدہ عرب امارات میں بھی اسماعیلی کافی تعداد میںموجود ہیں۔

ملاقات میں پرنس کریم آغاخان نے اسماعیلی سنٹرز کے قیام کے مقاصد ،تعلیم وصحت کے میدان ،فن تعمیرات، تہذیب وتمدّن کی ترقی، مائیکروفنانسنگ اور غربت کے خاتمے کیلئے اپنی وژن کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے دبئی میں اسماعیلی سنٹر کی تعمیر کے لئے زمین دینے پر یو اے ای کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران ہس ہائنس شیخ محمدبن رشید المکتوم کا شکریہ ادا کیا۔

انٹرویو کے اقتباسات

سوال: امت مسلمہ کو کن مسائل کا سامنا ہے؟
پرنس کریم آغا خان: اولاًیہ کہ،عالمی سطح پر مسلم امہ کی تہذیبوںکا ادراک بحران کا شکار ہے۔ ہمیں مسلم تہذیبوںکی خوبصورتی کو غیر مسلموں میں متعارف کرا نا چاہئے،نہ صرف غیر مسلموں میں بلکہ مسلم دنیا دوسرے حصوں میںبھی ، کیونکہ ہم اس وقت تک تعظیم و تکریم کے لائق اور اپنی پہچان نہیں بنا سکتے جو کہ امہ کا حق ہے، جب تک کہ ہم اُمّہ کو معاشرے کے ایک معزز شہری کے طور پر پیش نہ کریں۔

مغرب میں ابھرنے والے اسلام اور مسلمانوںکے متعلق غلط تصور صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم ابھی تک عالمی تہذیب و تمدن سے دور رہے ہیں۔ ہمیں اسلام کی مدنی تعلیمات کو ثانوی نظام تعلیم میں شامل کرنے کے لئے مغربی نظام تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

مجھے بے حد خوشی ہے کہ دبئی اور خلیج کے دوسرے ممالک اس سلسلے میںمیوزیمز کی تعمیر کے ساتھ آغاز کیا ہے۔ہماری تاریخی ورثے کو پھر سے زندہ کررہے ہیں اور ان کو دور جدید میں واپس لے کر آنابہت اہم ہے۔

سوال: آپ عالمی سطح پر دہشت گردی کے مسئلے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا باعث ہے یا یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموںکے درمیان؟
پرنس کریم آغا خان: میں ذاتی طور پران (انتہاپسندی اور دہشت گردی )کو اسلام سے منسوب نہیں کرتا۔ میں ان کو سیاسی مسائل کے زمرے میں دیکھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سیاسی مسائل ہی مشرق وسطی کو درپیش مسئلے کی اصل وجہ ہیں۔ یہ 1977ء میں شروع ہواتھااس وقت سے آج تک یہ مسئلہ روز بروزگھمبیر ہوتا جارہاہے۔
کشمیر کا مسئلہ بھی سیاسی مسئلہ ہے جو انگریزوں کے برصغیر چھوڑنے کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ بالکل اسی طرح عراق کا مسئلہ بھی سیاسی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن اب ہمیں اس چیز کو قابو کرنا ہے۔ جب تک یہ مسائل مسلم امہ کے اندر موجود رہیں گے ، کُل امت مسلمہ اس کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا۔
میڈیا جہاں تک ان مسائل کو اجا گر کر رہی ہے ویسے ہی مسلم امہ کی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان سارے حالات کا منفی تصویرپیش کرنا غلط ہے کیونکہ تصوراسلام کااس سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ اسلامی دنیا کی سیاست سے متضمن ہے۔
دوسری بات یہ کہ ، یہ ( انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ)صرف اور صرف اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیاہواہے ، مغربی یورپ کے ممالک، آئرلینڈ اور سپین بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ امت مسلمہ مستحکم نہیں ہے اور باقی دنیا مستحکم اور مکمل ہے۔

سوال: اس مسئلے کے حل کے لئے کیا اقدامات کر نے چاہئیں؟
پرنس کریم آغا خان: سیاسی بحرانوں کو حل کرنے کے لئے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہاں حکومتیں اور ادارے ہیںوہ جانتے ہیں کہ یہ مسئلے کتنے طویل ہیں، ان کو حل کرنابہت مشکل کام ہے۔جس طرح کہ ، آئرش اورسپین کے مسئلے کئی عشرون سے موجود ہیں۔

سوال: دنیا میں خانہ جنگی اورامن وامان کے مسئلے کے حوالے سے بہت سی نظریات قائم ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دنیا”قدرتی وسائل پر قبضے کی جنگ”کے عنوان کی جانب بڑھ رہی ہے؟
پرنس کریم آغا خان: میں آ پ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ لوگ بہتر طرز زندگی کی تلاش میں ہیں اور وہ اس کے لئے بہت جلد بازی سے کام لے رہے ہیں۔ بہت سے ممالک میں وقت کے زیاں کا احساس موجود ہے اور جب وقت کے زیاں کا احساس موجود ہو تو ضرورت کا بھی احساس رہتا ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں ضرورت کے احساس میں اضافہ ہورہا ہے، میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ وسائل کی طرف دھیان دیا جارہا ہے جو ترقی کی پروسس کو بڑھاتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں،بہت سے ممالک میں دولت مرتکز چیز ہے۔ وہ قومی اور حکمت عملی کے مقاصدکی تکمیل کے لئے نئے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ اس صورتحال کو نیوکلیر پاور کی طرف توجہ دیکر تبدیل کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ اس کے اندر عالمی معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لئے استعداد موجود ہے۔

سوال: آپ کی امامت کی گولڈن جوبلی پر مبارک باد قبول ہو۔ کیا آپ اس خصوصی سال کے اندر کوئی اہم منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: مجھے امید ہے کہ اس سال کے آخر تک ہم دو نئے منصوبوں کو ترقی دیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا منصوبہ ، دنیا بھرکے کمیونیٹیزکامعاشرتی تجزیہ ہے جس کے ذریعے سے ہم غربت کے اصل اسباب کا تغین کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہت سے ممالک کی آبادی کے بہت سے حصے غربت کی انتہائی نچلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جیسے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ معیشت بہتر ہورہی ہے، لیکن ہم حیران ہیں کہ یہ حصے غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اس کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںتاکہ اس کو اگر ختم نہیں کر سکتے تو کم ازکم اس کو کم کیا جاسکے۔ہم جانتے ہیںکہ غربت نہ صرف معاشی بلکہ معاشرتی بھی ہے۔ بہت سے خاندانوں کی رسائی کسی ایسے پلیٹ فارم تک نہیں ہے کہ جس سے وہ ترقی کی راہ تلاش کرسکیں، اور نہ صحت کی ضروریات ، تعلیم، مائیکروکریڈٹ اورنہ انکی کسی قسم کی عام امدادی نظام تک رسائی ہے۔ یہ ایک مسئلہ ہے جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔

جہاں تک ہمارے دوسرے پروگرام کا تعلق ہے اس میں ،ہم درازی عمر (صحت کے مسائل)پر توجہ دے رہے ہیں۔ لوگ زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور کثیر تعداد میں معمر لوگ اپنے آپ کو اپنے خاندانوں اور معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک پروگرام ڈیویلپ کررہے ہیں۔جب سے صنعتی دنیا میں مشترکہ خاندانی نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ،اب اس مسئلے پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہوگیاہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہم ضعیف العمر افراد کو باعزت زندگی گزارنے میں مدد انکی کریں گے۔
اس کے علاوہ اس جوبلی سال کے دوران ہم بہت سے تعلیمی اور صحت کے مراکز کی بنیاد رکھیں گے۔

سوال: آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے پاس کمیونیٹیز کی فلاح وبہبود کے کئی منصوبے ہیں۔ آپ علاقوں کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں،اور کیوں؟
پرنس کریم آغا خان: منصوبوں کے اجراء کے لئے علاقوں کا انتخاب ضروریات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔منصوبے کا آغاز کرنے سے پہلے علاقہ کاتجزیہ کیا جاتا ہے کہ کس قسم کی سہولیات کا فقدان ہے اور اس کے مطابق منصوبہ دیا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی پسماندہ علاقہ میں دیکھتے ہیں کہ وہاں پر کریڈت سسٹم نہیں ہے ، تو ہم اس علاقے میں مائیکرو کریڈٹ پروگرامز شروع کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایک حکومت کسی صنعت کونجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور وہ غلط جاہاہے ، ہم وہاں پرمداخلت کی کوشش کرتے ہیں۔ بس یہی ہمارے دنیا بھر میں تعلیمی ، صحت اور تہذیب و تمدن کی ترقی کے منصوبوں کے ساتھ بھی ہے۔

سوال: ترقی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: یہ حقیقت ہے کہ ترقی انسانیت کی بنیادوں پر ہونا چاہئے۔اور اسی بنیاد پر اس کی پیمائش ہونی چاہئے، آپ کو زندگی کی استعداد کو دیکھنا ہے جس کا براہ راست تعلق تعلیم ،تعمیرات اور صحت کی دیکھ بھال سے ہے ۔
آج ، دنیا کے بہت سے معاشی اور تجارتی ادارے صرف اور صرف معاشی کاموں کے لئے قرضے نہیں دے رہے۔ وہ تعلیم اور صحت سے متعلق منصوبوں کے لئے بھی قرضے فراہم کرتے ہیں۔ یہ ترقی کے عمل میں تعاون کے پرانے نظام کو تبدیل کر رہاہے۔
تعلیم ، صحت کی دیکھ بھال اور مائیکروکریڈٹ کے میدان میں نجی شعبہ بھی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ دونوں نجی اور عوامی اداروں کے اشتراک سے مخلوط سہولیات کا حصول ترقی پزیر ممالک کے بہتر مفاد میں ہے۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ نے اپنے کمیونیٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس کے وسیع نیٹ ورک میں کامیابی حاصل کی؟
پرنس کریم آغا خان: کامیابی کا انحصار منصوبے کی پختگی پر ہے۔ ہمارے پاس اپنے صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں بہت پختگی ہے اور انہی مقاصد کے لیے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ تاہم ہم اپنے ثقافت سے متعلق منصوبوں میں اس مقام تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ ہم ثقافتی منصوبوں کی طرف رجحان کودیکھنا شروع کر رہے ہیں اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ میں ثقافتی منصوبوں سے مطمئن ہوں لیکن وہ ابھی تک نا پختہ ہیں۔
ثقافتی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ کیرو میں الازہر پارک کی تعمیرو ترقی ہے جس کا مقصد زندگی کی استعداد کار کو بہتر کرنا ہے۔میں اطمینان کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم اس طرح کے ثقافتی منصوبے دنیا کے دوسرے حصوں میں دہرا سکتے ہیں۔
اس قسم کے ثقافتی منصوبوں کے اجراء سے ،ہمار ا مرتکز توجہ زندگی کی استعداد کو بہتر کرنااور انتہائی غریب طبقے کے لئے مواقع پید کرنا ہے۔

سوال: آ پ نے دبئی میں اسماعیلی سنٹرکیوں قائم کیا اور دوسرے ممالک میں اس قسم کے سنٹرز کے قیام کے پیچھے آپ کی بصیرت کیا ہے؟
پرنس کریم آغا خان: مجھے امید ہے کہ یہ سنٹر اداراتی مقاصد کااحساس لائے گا۔ ہم انہیں سفاراتی تعمیرات کہتے ہیں کیونکہ وہ اسماعیلی جماعت اور انکے امنگوں کے نمائندے ہیں۔
ہم نے سب سے پہلے مغرب میں سینٹر کے قیام کا آغاز کیا۔ جیسا کہ لندن میں اسماعیلی سنٹر، ونکووراور لزبن۔ دبئی کے اسماعیلی سنٹرفارورڈ آوٹ لک، دوستی اوردسری جماعتوں کے روبط کو فروغ دے گا۔اس قسم کے مزید سنٹرز ٹورنٹو اور دوشنبے میںتعمیر کر رہے ہیں۔
اس تعمیر کے دو مقاصد ہیں ۔پہلا، یہ اسماعیلی کمیونیٹی کے لئے ادارے کے طور پر کام کریںگے اور دوسرا ،لوگوں سے رابطہ قائم ہوجائے گا ،معیاری نمائشوں ،ثقافتی اور موسیقی نمائندوں کیلئے نمائشوں کے انعقاد کے لئے جگہ بھی فراہم کریں گے۔ ان سینٹرز کے ذریعے مختلف کمیونیٹیز ،علاقوں اور ثقافتوں کو ملانے کا کام کریں گے۔

سوال: آپ بہت سے امور سے وابستہ ہیں۔فرصت کے لمحات میں کیا کرتے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: مسکراتے ہوئے؛ عموماًکام، کام اور زیادہ کام۔بعض اوقات، اگر تھوڑا ساوقت ملا، تو میں سمندر کے کنارے جاتا ہوں یا برف پریا گھوڑوں کو دیکھتا ہوں جو ہم نے پالے ہوئے ہیں، کیونکہ جووقت میرے پاس ہے ،اس کے مطابق فی الحقیقت یہی مشعلہ معقول اور مناسب ہے ۔

سوال: جماعت کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
پرنس کریم آغا خان: اسلام کی اصل روح یہ ہے کہ تعلیم کو دوسروں تک پہنچائیںاور میں ہمیشہ جماعت کو یہ بتاتا ہوںکہ مادی اصطلاح میں نہ سوچیں۔دانش مندی کی اصطلاح پر سوچیں اور سوچیں کہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہمارے اداروں کے لئے کیا خدمت پیش کر سکتے ہیں ۔

صحت ،تعلیم ، فنانشل سروسز اور شہری معاشروں میں ہماری کارکردگی کو مزیدبڑھائیں۔ مشرق وسطیٰ سے کئی نوجوان مغرب میں رہائش پزیر ہیں۔ سوچیں کتنی اچھی بات ہوگی کہ اگریہ نوجوان خواتین اور مرد جب اپنے ممالک میں واپس جائیں اداروں کو مظبوط بنائیں اور اپنے اپنے ملکوںکے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ ***

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) : آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) غیر طباقی ترقیاتی ایجنسیز کانجی گروپ ہے ،اس کے انتظامی درجات صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم سے لیکر فن تعمیرات، دیہی ترقی اور نجی شعبے کے اداروںکی ترقی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ایجنسیز اور ادارے ایک ساتھ کام کرتے ہیں جماعتوں اور افراد کی خود اختیاری ،اکثرنامساعد حالات میںطرز زندگی کی بہتری اور مواقع پید کرنا،اورترقی کی راہ حائل مسائل کے حل کے لئے جو خصوصاً ایشیاء اور ایسٹ افریقا میں معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیںکے حل کے لئے اختراعی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔
وہ ایک ہی مقصدکے لئے یعنی ایسے اداروںکی تعمیر اور پروگرامز کی تشکیل جو معاشرے،معیشت اور تہذیب و تمدن کو درپیش چیلنچز کوتسلسل کے ساتھ مقابلہ کرسکیںکے، ملکر کام کرتے ہیں۔ یورپ ، ایشیاء ، افریقہ اور نارتھ امریکہ کے 20سے زائد ممالک میں مصروف عمل ہیں۔ نیٹ ورک کا بنیادی تحریک اخلاقی دردمندی کی بنیاد پر معاشرے کے غیر محفوظوں کے لئے ہے۔ اس کے ایجنسیز اور ادارے تمام شہریوں کی بغیر کسی ذات پات ،جنس یا مذہبی تفریق کے عمومی بھلائی کے لئے کام کرتے ہیں ۔ نیٹ ورک کے ایجنسیز گلف اور مشرق وسطیٰ کے شہری علاقوں کی ترقی، تحفظ، بحالی، تعلیم ، صحت ،مائیکرو فنانس، اعلیٰ تعلیم ، ثقافت اور دیہی علاقوں کی ترقی کے عمل میں مصروف ہیں۔ اے کے ڈی این ایک آزاد خود اختیار ایجنسیز، اداروں اور پروگرامزکا نظام ہے جو اسماعیلی امامت کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ ان اداروں کی امداد و تعاون کا اہم ذریعہ اسماعیلی جماعت ہے جو اپنی روایتی انسانی ہمدردی ،رضاکارانہ خدمت اور خودانحصاری کے جذبے سے امدادفراہم کرتے ہیں۔

پرنس کریم آغاخان : پرنس کریم آغا خان اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے بعد11جولائی، 1957کو شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کی امامت کی مسندپر جلوہ افروز ہوئے ۔آپ شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے انچاسویں امام ہیں۔ پرنس علی خان اور پرنسس تاج الدولہ علی خان کے صاحبزادے ہیں، آغا خان 13دسمبر 1936ء کو جنیوا میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنا بچپن نیروبی ،کینیامیں گزارے اور اس کے بعد آپ9سال تک سوئزر لینڈ کے لی روزی سکول(Le Rosey School) میں زیر تعلیم رہے۔آپ سن1959میں اسلامی تاریخ میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ آ پ نے تصور اسلام کو روحانی سچائی، ایسے مذہب جوانسانوںسے محبت ، بردباری کا پیکراور انسانیت کی قدر دان کے طور پر نمایاں کیا ۔ تاریخ کے اوراق میں اسماعیلی جماعت کی،اپنے ہرزمانے کے اماموں کی بہترین رہنمائی میں اسلامی معاشرے کی ترقی و ترویج میں خدمات سنہرے حروف سے موجود ہیں ۔

پرنس کریم آغا خان کی ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔ ان کے نام بالترتیب پرنسس زہرا، پرنس رحیم،پرنس حسین اور پرنس علی محمد ہیں۔

اسماعیلی جماعت ان دنوں اپنے امام زماںکی امامت کی گولڈ جوبلی کی تقریبات منارہی ہے جو 11جولائی 2007ء سے شروع ہوئیںاور یہ تقریبات سال رواں کے 11جولائی تک جاری رہیںگے۔ اس جوبلی سال میں پرنس کریم آغاخان تقریبا 35ممالک کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس موقع پر ان ممالک کے سربراہان اور حکومتوں کے ساتھدوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔نئے منصوبوں اور پروگراموں کے اجراء سمیت ،آپ اسماعیلی امامت کے ساتھ کام کرنے والوں کومستقبل کے لئے ہدایات دیں گے۔ بشکریہ گلف نیوز

افسر خان چترالی،
ای میل:khansconcepts@gmail.com, afsar.kn@gmail.com
سیل نمبر:0346-2231281