Category: کالمز

Persevering savioursثابت قدم مسیحاییں

Persevering savioursثابت قدم مسیحاییں 

The News – Wednesday, December 24, 2008, By Aroosa Masroor, Karachi

Rescuing survivors of a disaster is possibly one of the toughest jobs one can do, and given the frequency of both natural and man-made disasters in Pakistan, rescue workers stand at constant vigil to protect citizens. Rozina Qadir, is one such worker who has been volunteering for people’s safety for over two years now. 

At the age of 35, Rozina defies the stereotype that only men are fit for search and rescue operations. During each of her operations, Rozina’s life is on the line, but she faces all such missions fearlessly. She is one of nine females in a team of 40 members of FOCUS Humanitarian Assistance, an international crisis and response and disaster risk reduction agency, which has been working in Pakistan for over a decade now. 

FOCUS was founded in 1998 by the Ismaili community and is affiliated with the Aga Khan Development Network in Pakistan. Operating in Karachi, Islamabad, Peshawar, the Northern Areas and Chitral, the team is trained in urban, mountain, avalanche, and water search and rescue. 

More than their rigorous training, what is surprising is the commitment of these workers – all of whom are volunteers. From Karachi alone there are 20 members comprising professionals, students, and housewives. “I had always wanted to help humanity in some way, but when my children were younger, I knew I could not engage in an emergency operation. Now that they are older, I feel its time I give something back to society,” said Rozina, now a mother of three teenaged children.

Amyn Dossa, Chairman FOCUS Pakistan, believes it is all about commitment. “You can only become a rescue worker if you understand the value of human life and are committed towards serving humanity. No one can force or train you to be one unless you are convinced from within,” he said. He added that the team has been trained with the help of international rescue teams, including Avalanche and fire-fighting rescue workers from Sweden and France. 

Moreover, Rapid UK regularly visits to train the Pakistani rescue team. Dossa, however, stressed that it is not just training that the workers need. “Possessing the right equipment and technical expertise is just as essential.” 

Citing the example of the recent Marriott bomb blast in Islamabad, he said that government rescue teams were unable to evacuate the top floors of the hotel because they lacked the sophisticated equipment needed to carry out rescue operations. 

In the aftermath of the October 2005 earthquake, FOCUS provided relief to victims initially in Margalla Towers, Islamabad and later in Balakot and Muzaffarabad. The team was also present in the recent Balochistan earthquake in October 2008. “Before the rescue operation begins,” said Dossa, “a Disaster Assessment Response Team first carries out the initial damage and needs assessment in the area after which the rescue team follows through.”

The team has not only responded to the disasters within the country, but also in neighbouring countries including China (during the May 2008 earthquake) and India (during the 2004 tsunami). Dossa added that the government recently approached FOCUS to train CDGK’s Urban Search and Rescue team, and is working in collaboration with the government’s National Disaster Management Authority. “It is difficult to work in isolation, and such efforts should be collective. In areas where FOCUS does not have access, we work in assistance with the Army too.”

When not working in disaster-struck areas, the team shifts its focus to disaster-prone areas of the country through its PMP (Prevention, Mitigation and Preparedness) programme. “Through the PMP programme, we have trained communities in ‘red zone’ areas of Gilgit and Chitral – two naturally hazardous regions of the country,” said Dossa, adding that people residing in these strong seismic zones were earlier unaware of the risks of living in the area. “An attitude change has been noticed. 

People are now aware of the importance of such training, and this awareness in itself is a powerful source of motivation,” he said. This degree of self-reliance has helped women in the area overcome their fear too. “They feel safer and better prepared now,” he added.

During the training programme, necessary equipment is stored in each participating village as well. A standard emergency stockpile comprises blankets, shovels, tarpaulins, tents, ropes, torches, batteries, axes, bamboo poles, crowbars and first aid kits. “Satellite telephones for emergency communications have also been introduced.” When asked why more people have not volunteered for the programme in a span of ten years, Dossa explained: “The problem is that we do not value human life as we should. The need for more rescue teams will not be realised until we educate people and convince them to come forward.” 

Keeping in mind the climate change and severe weather conditions, natural disasters across the world are expected to rise in the coming years, including Pakistan. “Urban and rural communities are equally vulnerable. We need to prepare ourselves so we can help minimise the impact of disasters.” For this, Dossa suggests that more volunteers like Rozina, irrespective of their gender or profession, should come forward. 

لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیرڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

اصولی طور پر فرح بیٹی کے نمبر بڑھوانے کا راز کھلنے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے عہدے کا وقار برقرار رکھنے کے لئے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا بشرطیکہ انہیں اتنے بلند عہدے کا وقار عزیز ہوتا یا پھر اپنا وقار ملحوظ خاطر ہوتا، لیکن اصل پرابلم یہ ہے کہ ہم اصولوں کی بات اس معاشرے میں کر رہے ہیں۔ جہاں بے اصولی ہی اصول بن چکی ہے اور ہر طاقتور اصولوں کو ہماری نگاہوں کے سامنے پامال کر رہا ہے۔ جس معاشرے میں لوگ عہدے، دولت اوراثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر قوانین کو اپنی ضرورت کے سانچے میں ڈھالنے لگیں اور اصولوں کو روندنے لگیں ایسے معاشروں میں ہم جیسے قلمکاروں کی آواز صدابصحرا ہوتی ہے اور خلق خدا چپ چاپ ظلم و بے انصافی سہنے کی عادی ہو جاتی ہے۔ اپنے اردگرد نگاہ ڈالئے اور دیکھئے کہ ہمارے با اثر کس طرح قوانین اوراصولوں کا مذاق اڑا رہے ہیں جبکہ بے اثر و بے سہارا انہی قوانین کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قوم دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک بااثر طبقہ جو ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہے اور دوسرا بے اثر عوام کا ہجوم جن پر ہر قسم کا قانون لاگو کیا جاتا ہے اور وہ چپ چاپ ظلم سہتے رہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہ صورت حال اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی قائم نہیں کی جاتی لیکن سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی میں کونسی قوتیں حائل ہیں؟ کون لوگ ہیں جو قانون کی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں اور ظاہر ہے کہ قانون کی حکمرانی سے صرف امراء، حکمران اور اعلیٰ طبقے خوفزدہ ہیں اور صرف وہی اس کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ عدلیہ کو اپنا تابع فرمان بنا کر رکھیں تاکہ وہ قانون کو جس طرح چاہیں اپنی ضروریات و مفادات کے سانچے میں ڈھالتے رہیں اورانہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ موٹی سی بات ہے کہ اگر ہمارے ”محبوب“ حکمران افتخار چوہدری اور ان کے معزول ساتھیوں کو بحال کر دیتے تو اس سے ملک میں چھوٹا سا خاموش انقلاب آ جاتا اورعدلیہ مضبوط ہو کر قانون کی حکمرانی کے چراغ روشن کر دیتی لیکن یہ بات ہمارے حکمرانوں کو گوارہ نہیں تھی کہ عدلیہ ان کی من مانی اور قانون شکنی اور کرپشن پر گرفت کرے یا این آر او کے تحت حلال ہونے والے کھربوں روپوں کی جائیدادوں پر ہاتھ ڈالے چنانچہ انہوں نے معزول ججوں کو طریقے سے ”کھڈے لائن“ لگا دیا۔ اب صورت یہ ہے کہ ساری قوم ان کی بحالی کے حق میں ہے لیکن لوگوں کی رائے کا احترام کرنے کے دعوے دار حکمران آواز خلق کو سننے سے انکاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اب تو حکمران کئی قدم آگے جا کر مستقبل کی پیش بندی کر رہے ہیں اور آنے والے وقت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ ہائی کورٹس کیلئے جن ججوں کو منتخب کیا جا رہا ہے یا کیا جا چکا ہے ان کا یہ انتخاب پارٹی وفاداری کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ کل کلاں سیاست کی کڑی دھوپ میں ایسے جج سایہ دار درخت بن سکیں۔ اے کاش کوئی حکمرانوں کو سمجھاتا کہ مشکل اور کڑے وقت میں صرف دیانتدار اورباکردار جج ہی قانون کی پناہ مہیا کرتے ہیں جبکہ نااہل اور بے کردار حضرات اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں اور ہر حاکم کو خوش رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عدلیہ کو اپنے پسندیدہ ججوں سے بھرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ عدلیہ کے ہاتھوں ہی پھانسی چڑھ گیا۔
اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ اقتدار اور طاقت انسان کا بہترین امتحان (
TEST) ہوتا ہے اوراس لئے کہا جاتا ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ کچھ بزرگ تو اولاد اور دولت کو اس لئے فتنہ قرار دیتے ہیں کہ یہ اکثر اوقات انسان کی تذلیل کا باعث بن جاتی ہیں۔ حضرت عمر نے بحیثیت خلیفہ اپنے بیٹے کو شراب نوشی کے جرم میں اتنے کوڑے مارے کہ وہ مر گیا کیونکہ وہ روز قیامت جوابدہی سے ڈرتے تھے یوں وہ دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہوگئے اور قانون کی حکمرانی کی روشن ترین مثال چھوڑ گئے جو قیامت تک انصاف کی راہوں میں روشن مینار کی مانند چمکتی دمکتی رہے گی۔ لیکن ماشااللہ ہمارے ملک میں جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا قانون کے حمام میں تقریباً سبھی ننگے ہیں۔ آج ہم چیف جسٹس ڈوگر صاحب کا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ وہ انصاف کی بلند ترین کرسی پر متمکن ہیں لیکن ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے موجودہ ہیرو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اپنے ڈاکٹر بیٹے کو ایف آئی اے اور پھر پولیس کیڈر کا حصہ بنانے کے لئے اسی طرح اپنے اثرورسوخ کو استعمال کیا تھا۔ لیکن پی سی او کے تحت کئی بار حلف اٹھانے کے باوجود ان کے جنرل پرویز مشرف کے سامنے ”انکار“ نے انہیں ہیرو بنا دیا۔ بعض اوقات انسان کا ایک ”فعل“ اس کے سابق گناہوں کا کفارہ ادا کر دیتا ہے لیکن بدقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی بھر کفارہ ادا کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری اور سب سے بڑا متحان ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوگیا وہ سرخرو ہوگیا لیکن میں نے کم کم لوگوں کو اس پل صراط سے گزرتے دیکھا ہے اوربڑے بڑے انصاف اور قانون کے علمبرداروں کو اس امتحان میں بری طرح ”فیل“ ہوتے دیکھا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک قانون کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوا ہی نہیں اور نہ ہی میں اسے طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
پنجاب کی ہائی کورٹ کے ایک سابق جج اور پھر چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کو حکمرانوں کی منت سماجت کرکے پی آئی اے میں ملازم کرایا ۔ بیٹا نالائق تھا اور کسی مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ خود ان جج صاحب کو بھی ان کے ایک قریبی عزیز اور وزیر قانون نے ایڈیشنل جج نامزد کروایا تھا کیونکہ وکالت چلتی نہ تھی۔ پھر ان جج صاحب نے مسلم لیگی حکومت کے حکمرانوں پر اپنے عہدے کا جادو چلایا اوراپنے بیٹے کو پی آئی اے سے نکال کر پی سی ایس کیڈر میں اٹھارویں گریڈ میں تعینات کروا دیا جبکہ غربا کے بچے جو مقابلے کا امتحان پاس کرکے پی سی ایس ہوتے ہیں انہیں عام طور پر اٹھارویں گریڈ میں آنے کیلئے بارہ سے پندرہ سال کی سروس درکار ہوتی ہے پی سی ایس ایسوسی ایشن نے قانون کی اس خلاف ورزی کیخلاف رٹ کی لیکن بردار ججوں نے اس رٹ کو اس طرح دبایا کہ بس گم سم ہوگئی۔ ماشااللہ ایسے مواقع پر سب برادر جج اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ شاید اس طرح کے جذبے کے تحت اب فرح ڈوگر کیس میں پارلیمینٹ کی کمیٹی کی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا گیا ہے اوراس طرح ریاست کے دو اہم اوربنیادی ستونوں کے درمیان تصادم کے لئے زمین ہموار کر دی گئی ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے ایک سیاسی حکمران نے اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلوانے اورپھر دوسرے کالج میں مائیگریشن کروانے کے لئے سبھی قوانین پامال کر ڈالے مختصر یہ کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں اور ملک میں لاقانونیت کی جڑ بھی یہی ہے کیونکہ جب قانون کے محافظ ، عدل و انصاف کی علامات، حکمران اور ”بڑے لوگ“ دن دیہاڑے قانون اور اصولوں پر ڈاکے ڈالیں تو پھر لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند کون باندھے گا؟ قانون کے احترام کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا؟ جس ملک کی اشرافیہ اور بالائی طبقے قانون کو روندنے میں مصروف ہوں اس معاشرے کو لاقانونیت کا شکار ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ذاتی مفادات کی خاطر ملک و قوم کو برباد کرنے والو ذرا سوچو تو۔۔۔۔۔