زمرہ: موسم

پرندے اور ہماری زمین

ہر چیز کے حدودمقرر ہیں۔۔۔۔ اور وہ حسین و جمیل ہے ہماری سوچ سے !بڑھ کر۔۔۔۔۔

تحریر افسر خان چترالی

اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ وہ حسین و جمیل ہے ہماری سوچ سے بڑھ کر، اور ہماری عقل سے بڑھ کر اور حسن و جمال کو پسند فرماتا ہے ۔قدرت کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ہم بہت سے حسین مناظر کا نظارہ کرتے ہیں۔جن کو دیکھ ہمارا ایمان مضبوط اور پختہ ہوجاتا ہے۔ قدرت کے یہ حسین مناظر اللہ تعالیٰ کے ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ پرندے اللہ تعالیٰ کی حسین تخلیق ہیں،جو ہمارے ارد گرد کے ماحول میں بسیرا کرتے ہیںاور مکانوں درختوں پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں او ر بہت دلکش اورخوبصورت انداز میں ہم ان کو دانہ چنتے ہوئے اور حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر خود کو محظوظ کرتے ہیں۔پرندوں کی ہر جگہ موجودگی اور رنگا رنگی، ہوشیاری اور ان کی شوخی انداز ہم سب کے اندر ان کی مقبولیت کے لئے کافی ہیں۔ یہاں ہر آدمی پرندوں سے محبت کرتا ہے ۔ دنیا میں پرندوں کی کوئی 9703 قسمیں پائے جاتے ہیںاورپرندے عام طور پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں، سمندر ہو یا جنگل، پہاڑ ہوں یا ریگستان ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے پرندے پائے جاتے ہیںتاہم پرندوں کی دنیا میںصحیح تعداد کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہمارے اجرام فلکی کے اندر ایک وقت میں 100000اور200000کی تعداد میں بالغ یا کم عمر پرندے ہوتے ہیں۔

موسموں میں تبدیلی کے ساتھ ہی پرندے نقل مکانی کرنا شروع کرتے ہیں، گرم علاقوں سے ٹھنڈے علاقوں کی طرف اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔چترال میںموسم بہار کے شروع ہوتے ہی مختلف پرندے نمودار ہوتے ہیں۔مارچ سے شروع ہوکر جون تک چترال کی خوبصورتی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے اور اس دوران یہاں طرح طرح کے پرندے دوسری جگہوں سے نقل مکانی کرکے آتے ہیں جو یہاں کے طبعی حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ مارچ سے یہاں پہاڑوں پر سے برف پگھلنا شروع ہوتا ہے ۔ پہاڑوں پر سے برف پگھلتے ہی پرندوں کے ساتھ ساتھ یہاں جنگلی بکریاں بھی نمودار ہوتے ہیں جو یہاں کے جنگلات کی حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔یہاں کے پہاڑوں پر کستوری ہرن، آئی بیکس (کوہ ایلپس کا بکرا)،ریچھ، اور شکار ہونے والے پرندوں میں تیتر، چکور،فاختہ، شامل ہیںاور آبی جانوروں میں بطخیں، بگلے، اور دوسرے آبی پرندے شامل ہیں۔اس موسم میںبے رحم اور بے دل شکاری حضرات کی بے رحمی بھی اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ان ننے مننے پرندوںکو یہ لوگ اپنی بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔پہاڑی جانوروں کے شکار کے لئے بھیس بدل کریہ لوگ نماز فجر سے پہلے شکار گاہ کی طرف نکل جاتے ہیںجب لوگ اللہ تعالی کا شکر بجا لانے کے لئے اپنی اپنی عبادت گاہوں کو جا رہے ہوتے ہیں ۔جہاں یہ جانور اپنی خوراک کی تلاش میں آتے ہیں ان جگہوں پر شکاری حضرات خندقیں کھود کر رکھتے ہیں، اور ان کے آنے کا وقت بھی ان کو معلوم ہوتا ہے۔ چہرہ پر جانوروں کا ماسک پہن لیتے ہیں، جس کی وجہ سے جانور اپنے بچائو کی بھی کوشش نہیں کرتے ہیںاور آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ آبی جانوروں کے شکار کے لئے مصنوعی تالاب بنائے جاتے ہیں۔جس کے ارد گرد مضبوط بندھ بندھا ہوتاہے، اور مضبوط دیوار ہوتی ہے۔عام طور پر یہ جانور صبح اور شام کے وقت سفر کرتے ہیں، راستے میں آئے ان تالابوںمیں ، جیسے کہ ان کی فطر ت میں تیرنے کا شوق ہوتا ہے، اپنے شوق کوپورا کرنے کے لئے ان تالابوں میں آتے ہیں، اور یوں شکاری پہلے سے وہاں موجود ہوتا ہے اس پر فائر کھول دیتاہے۔یوں یہ لوگ اپنے شوق اور بھوک کو کم کرنے کے لئے قدرت کے ان حسین نظاروں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو زمانہ قدیم جس وقت منظم کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنے کا رواج نہیں تھا یا یوں کہیں کہ لوگ اس فن سے نا آشنا تھے۔ جبکہ اب اس دور میں انسان کو اپنی بھوک مٹانے کے لئے ہزاروں نعمتیں دستیاب ہوں،اور وقت گزارنے اور درجنوں دورے ذرائع ہوں وہاں ان جانوروں کا قتل عام اور نسل کشی قدرت سے بغاوت کے مترادف ہے۔

ان قانوں شکن لوگوں کے سامنے حکومت کا قانون بھی بے بس نظر آتا ہے۔اور اس سے بڑھ یہ کہ حکومت ان کو تحفظ دینے کے لئے ان کو اسلحہ لائسنس جاری کرتی ہے جس کے بل بوتے وہ کھلے عام شکار کرتے ہیں، اور وہ جن کے پاس لائسنس نہیں ہے ان کو بھی کوئی روکنے والا نہیں ۔حکومت نے جو رکھوالی کرنے والے مقرر کیا ہے وہ تو خود شکار کے مشتاق ہوتے ہیں۔ وہ بلا کسی کو کیا روکیںگے ۔اپریل سے لیکر مئی کے مہینے تک فاختوں کی پرواز ہی ان لوگوں کو گوارا نہیں۔ ہوا میںپرواز کرتے ہی اڑا دیتے ہیں۔صبح صادق سے فائرنگ کی آوازیںآتی ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ دو دشمنوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ قدرت کے ان حسین نمونوں کو ختم ہونے سے بچائیں ،اور ان ظالموں کو باز رکھنے کے لئے سخت سے سخت اقدامات کریں، اورقانونی اور غیر قانونی شکار کرنے والوں کے لئے سزا مقرر کریں ، اور واقعی میں ان لوگو ں کو سزائیں دیں تاکہ ہمارے ماحول کی حسن برقرار رہے اور لوگوں میںشعور اجاگر کیا جائے کہ جانوروں کو مار نا صرف گناہ ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ جنگ ہی نہیں بلکہ اپنے ماحول کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز انسان کی خاطر پیدا کی ہے، کچھ کو انسان خوراک کے طور پر استعما ل کرتا ہے ، اور کسی سے باربرداری کا کام لیتاہے ۔ گوشت حاصل کرنے کے لئے گائے، بیل، بکریاں، بھیڑ،مرغیاں اور دوسرے پالتوں جانور شامل ہیں جن کے ساتھ ہم محنت کرتے ہیں ، وہ ہمارے لئے حلال ہیں۔اور بہت سے ایسے جانور ہیں جو ہمارے ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں ، اور ہمیں ان سے دوسرے بہت سے فوائد حاصل ہیں۔ہم ان کو ماریں کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ نا شکری نہیں ہے؟

Advertisements

Weather – موسمیات

Heavy snowfall leads to closure of Lowari Top

Sunday, November 16, 2008

By by Our correspondent 

CHITRAL: Heavy snowfall has blocked the Lowari Top for all kinds of traffic, officials said Saturday.

The Lowari Top received about four feet of snow, forcing the authorities to close the route for all kinds of traffic. Chitral remains cut off from the rest of the country during the entire winter and the people of Chitral use Kunar (Afghanistan) as alternate route. 

MNA Shahzada Mohiuddin said he would discuss with the Afghan authorities to allow the people of Chitral travel via Kunar province. Reports said rain continued to lash the Chitral city while the mountains received heavy snowfall. The area is facing shortage of petroleum products and other items because of the blockade of the route. 

Mastuj, Sanogor, Khut, Rech, Terich, Rain, Bomboret, Berir, Rambur and Garam Chashma also received snowfall.

Sources said with the beginning of the chilly weather, demand for warm clothes has also increased. The locals have demanded of the government to immediately supply petroleum products to the area. The News International: