لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیرڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

اصولی طور پر فرح بیٹی کے نمبر بڑھوانے کا راز کھلنے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے عہدے کا وقار برقرار رکھنے کے لئے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا بشرطیکہ انہیں اتنے بلند عہدے کا وقار عزیز ہوتا یا پھر اپنا وقار ملحوظ خاطر ہوتا، لیکن اصل پرابلم یہ ہے کہ ہم اصولوں کی بات اس معاشرے میں کر رہے ہیں۔ جہاں بے اصولی ہی اصول بن چکی ہے اور ہر طاقتور اصولوں کو ہماری نگاہوں کے سامنے پامال کر رہا ہے۔ جس معاشرے میں لوگ عہدے، دولت اوراثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر قوانین کو اپنی ضرورت کے سانچے میں ڈھالنے لگیں اور اصولوں کو روندنے لگیں ایسے معاشروں میں ہم جیسے قلمکاروں کی آواز صدابصحرا ہوتی ہے اور خلق خدا چپ چاپ ظلم و بے انصافی سہنے کی عادی ہو جاتی ہے۔ اپنے اردگرد نگاہ ڈالئے اور دیکھئے کہ ہمارے با اثر کس طرح قوانین اوراصولوں کا مذاق اڑا رہے ہیں جبکہ بے اثر و بے سہارا انہی قوانین کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قوم دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک بااثر طبقہ جو ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہے اور دوسرا بے اثر عوام کا ہجوم جن پر ہر قسم کا قانون لاگو کیا جاتا ہے اور وہ چپ چاپ ظلم سہتے رہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہ صورت حال اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی قائم نہیں کی جاتی لیکن سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی میں کونسی قوتیں حائل ہیں؟ کون لوگ ہیں جو قانون کی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں اور ظاہر ہے کہ قانون کی حکمرانی سے صرف امراء، حکمران اور اعلیٰ طبقے خوفزدہ ہیں اور صرف وہی اس کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ عدلیہ کو اپنا تابع فرمان بنا کر رکھیں تاکہ وہ قانون کو جس طرح چاہیں اپنی ضروریات و مفادات کے سانچے میں ڈھالتے رہیں اورانہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ موٹی سی بات ہے کہ اگر ہمارے ”محبوب“ حکمران افتخار چوہدری اور ان کے معزول ساتھیوں کو بحال کر دیتے تو اس سے ملک میں چھوٹا سا خاموش انقلاب آ جاتا اورعدلیہ مضبوط ہو کر قانون کی حکمرانی کے چراغ روشن کر دیتی لیکن یہ بات ہمارے حکمرانوں کو گوارہ نہیں تھی کہ عدلیہ ان کی من مانی اور قانون شکنی اور کرپشن پر گرفت کرے یا این آر او کے تحت حلال ہونے والے کھربوں روپوں کی جائیدادوں پر ہاتھ ڈالے چنانچہ انہوں نے معزول ججوں کو طریقے سے ”کھڈے لائن“ لگا دیا۔ اب صورت یہ ہے کہ ساری قوم ان کی بحالی کے حق میں ہے لیکن لوگوں کی رائے کا احترام کرنے کے دعوے دار حکمران آواز خلق کو سننے سے انکاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اب تو حکمران کئی قدم آگے جا کر مستقبل کی پیش بندی کر رہے ہیں اور آنے والے وقت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ ہائی کورٹس کیلئے جن ججوں کو منتخب کیا جا رہا ہے یا کیا جا چکا ہے ان کا یہ انتخاب پارٹی وفاداری کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ کل کلاں سیاست کی کڑی دھوپ میں ایسے جج سایہ دار درخت بن سکیں۔ اے کاش کوئی حکمرانوں کو سمجھاتا کہ مشکل اور کڑے وقت میں صرف دیانتدار اورباکردار جج ہی قانون کی پناہ مہیا کرتے ہیں جبکہ نااہل اور بے کردار حضرات اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں اور ہر حاکم کو خوش رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عدلیہ کو اپنے پسندیدہ ججوں سے بھرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ عدلیہ کے ہاتھوں ہی پھانسی چڑھ گیا۔
اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ اقتدار اور طاقت انسان کا بہترین امتحان (
TEST) ہوتا ہے اوراس لئے کہا جاتا ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ کچھ بزرگ تو اولاد اور دولت کو اس لئے فتنہ قرار دیتے ہیں کہ یہ اکثر اوقات انسان کی تذلیل کا باعث بن جاتی ہیں۔ حضرت عمر نے بحیثیت خلیفہ اپنے بیٹے کو شراب نوشی کے جرم میں اتنے کوڑے مارے کہ وہ مر گیا کیونکہ وہ روز قیامت جوابدہی سے ڈرتے تھے یوں وہ دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہوگئے اور قانون کی حکمرانی کی روشن ترین مثال چھوڑ گئے جو قیامت تک انصاف کی راہوں میں روشن مینار کی مانند چمکتی دمکتی رہے گی۔ لیکن ماشااللہ ہمارے ملک میں جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا قانون کے حمام میں تقریباً سبھی ننگے ہیں۔ آج ہم چیف جسٹس ڈوگر صاحب کا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ وہ انصاف کی بلند ترین کرسی پر متمکن ہیں لیکن ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے موجودہ ہیرو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اپنے ڈاکٹر بیٹے کو ایف آئی اے اور پھر پولیس کیڈر کا حصہ بنانے کے لئے اسی طرح اپنے اثرورسوخ کو استعمال کیا تھا۔ لیکن پی سی او کے تحت کئی بار حلف اٹھانے کے باوجود ان کے جنرل پرویز مشرف کے سامنے ”انکار“ نے انہیں ہیرو بنا دیا۔ بعض اوقات انسان کا ایک ”فعل“ اس کے سابق گناہوں کا کفارہ ادا کر دیتا ہے لیکن بدقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی بھر کفارہ ادا کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری اور سب سے بڑا متحان ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوگیا وہ سرخرو ہوگیا لیکن میں نے کم کم لوگوں کو اس پل صراط سے گزرتے دیکھا ہے اوربڑے بڑے انصاف اور قانون کے علمبرداروں کو اس امتحان میں بری طرح ”فیل“ ہوتے دیکھا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک قانون کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوا ہی نہیں اور نہ ہی میں اسے طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
پنجاب کی ہائی کورٹ کے ایک سابق جج اور پھر چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کو حکمرانوں کی منت سماجت کرکے پی آئی اے میں ملازم کرایا ۔ بیٹا نالائق تھا اور کسی مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ خود ان جج صاحب کو بھی ان کے ایک قریبی عزیز اور وزیر قانون نے ایڈیشنل جج نامزد کروایا تھا کیونکہ وکالت چلتی نہ تھی۔ پھر ان جج صاحب نے مسلم لیگی حکومت کے حکمرانوں پر اپنے عہدے کا جادو چلایا اوراپنے بیٹے کو پی آئی اے سے نکال کر پی سی ایس کیڈر میں اٹھارویں گریڈ میں تعینات کروا دیا جبکہ غربا کے بچے جو مقابلے کا امتحان پاس کرکے پی سی ایس ہوتے ہیں انہیں عام طور پر اٹھارویں گریڈ میں آنے کیلئے بارہ سے پندرہ سال کی سروس درکار ہوتی ہے پی سی ایس ایسوسی ایشن نے قانون کی اس خلاف ورزی کیخلاف رٹ کی لیکن بردار ججوں نے اس رٹ کو اس طرح دبایا کہ بس گم سم ہوگئی۔ ماشااللہ ایسے مواقع پر سب برادر جج اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ شاید اس طرح کے جذبے کے تحت اب فرح ڈوگر کیس میں پارلیمینٹ کی کمیٹی کی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا گیا ہے اوراس طرح ریاست کے دو اہم اوربنیادی ستونوں کے درمیان تصادم کے لئے زمین ہموار کر دی گئی ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے ایک سیاسی حکمران نے اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلوانے اورپھر دوسرے کالج میں مائیگریشن کروانے کے لئے سبھی قوانین پامال کر ڈالے مختصر یہ کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں اور ملک میں لاقانونیت کی جڑ بھی یہی ہے کیونکہ جب قانون کے محافظ ، عدل و انصاف کی علامات، حکمران اور ”بڑے لوگ“ دن دیہاڑے قانون اور اصولوں پر ڈاکے ڈالیں تو پھر لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند کون باندھے گا؟ قانون کے احترام کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا؟ جس ملک کی اشرافیہ اور بالائی طبقے قانون کو روندنے میں مصروف ہوں اس معاشرے کو لاقانونیت کا شکار ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ذاتی مفادات کی خاطر ملک و قوم کو برباد کرنے والو ذرا سوچو تو۔۔۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s