پاکستان میں17 لاکھ افراد غلامانہ طرز زندگی گزار رہے ہیں, ،روزنامہ جنگ

منگل‏، 02‏ دسمبر‏، 2008

لاہور(رپورٹ :ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل) آج پوری دنیامیں غلامیت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہاہے لیکن دوسری جانب اکسویں صدی میں بھی غربت کے باعث ترقی پذیر ممالک میں غلامانہ طرز کی جھلک عام نظر آتی ہے کم آمدنی والے کئی ممالک میں یا تو جبری مشقت کے باعث انسان ذہنی وجسمانی لحاظ سے جکڑا ہواہے یا پھر وہ فروخت ہوکر دولت مندوں کی ہوس کا نشانہ بنتا ہے۔جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل کی رپورٹ کے مطابقپاکستان میں 17 لاکھ افراد غلامانہ طرز زندگی گزار رہے ہیں، بالخصوص بھٹہ مزدوروں سے16 تا18 گھنٹے روزانہ کام لیاجارہا ہے، ان مزدورں کی رجسٹریشن ہوتی ہے نہ ان کے شناختی کارڈ بنتے ہیں، دنیا میں 8سے 9لاکھ افراد سالانہ جبری مشقت اور جنسی سرگرمیوں کیلئے فروخت کئے جاتے ہیں جن کا 80فیصد خواتین پر مشتمل ہے اورایسی خواتین کا 70فیصد جنسی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار حاصل کئے ہیں ان کے مطابق آج بھی دنیا میں 2کروڑ 70لاکھ افراد غلامانہ طر ز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ایک کروڑ 25لاکھ افراد جبری مشقت کررہے ہیں۔ 84لاکھ بچے بھی غلامانہ طرز زندگی گزاررہے ہیں یہ بچے یا تو سمگل کردیئے جاتے ہیں یا پھر انہیں جنسی مقاصد کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔ سالانہ 12لاکھ بچے مزدوری یا جنسی مقاصد کیلئے سمگل کردیئے جاتے ہیں۔ دنیا میں غلامانہ زندگی گزارنے والے افراد کی بڑی تعداد کا تعلق جنوبی ایشیاء کے خطے سے ہے جو بھارت ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور نیپال میں موجود ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ برائے2007کے مطابق پاکستان میں 17لاکھ افراد غلامانہ طرز زندگی گزاررہے ہیں یہ افراد بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے بارے میں کسی قسم کی آگاہی نہیں۔ بھٹہ مالکان پورے خاندان سے انتہائی کم معاوضے پر کام لیتے ہیں اور بعض اوقات ایک خاندان کئی سالوں تک غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتاہے۔ پاکستان اور بھارت میں باونڈڈ لیبر کے نام پر اس طرز کی غلامی نما مزدوری اپنی بد ترین شکل میں موجود ہے۔ عالمی سطح پر 20لاکھ بچے انتہائی خطرناک ماحول میں مختلف صنعتوں کا حصہ ہیں جبکہ سالانہ 22ہزار بچے کام کرنے کے دوران ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ملک میں لیبر فورس کا 7فیصد بیماری کے دوران بھی کام کرتے ہیں جو مختلف حادثات کے دوران زخمی ہوجاتے ہیں ۔ملک میں سرجیکل انڈسٹری کے ساتھ منسلک بچے انتہائی خطرناک ماحول میں کام کررہے ہیں۔ یونیسف کے مطابق 57لاکھ بچے بیگار کیمپوں میں غلامانہ طرز سے کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s