دن: نومبر 20، 2008

پرندے اور ہماری زمین

ہر چیز کے حدودمقرر ہیں۔۔۔۔ اور وہ حسین و جمیل ہے ہماری سوچ سے !بڑھ کر۔۔۔۔۔

تحریر افسر خان چترالی

اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ وہ حسین و جمیل ہے ہماری سوچ سے بڑھ کر، اور ہماری عقل سے بڑھ کر اور حسن و جمال کو پسند فرماتا ہے ۔قدرت کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ہم بہت سے حسین مناظر کا نظارہ کرتے ہیں۔جن کو دیکھ ہمارا ایمان مضبوط اور پختہ ہوجاتا ہے۔ قدرت کے یہ حسین مناظر اللہ تعالیٰ کے ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ پرندے اللہ تعالیٰ کی حسین تخلیق ہیں،جو ہمارے ارد گرد کے ماحول میں بسیرا کرتے ہیںاور مکانوں درختوں پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں او ر بہت دلکش اورخوبصورت انداز میں ہم ان کو دانہ چنتے ہوئے اور حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر خود کو محظوظ کرتے ہیں۔پرندوں کی ہر جگہ موجودگی اور رنگا رنگی، ہوشیاری اور ان کی شوخی انداز ہم سب کے اندر ان کی مقبولیت کے لئے کافی ہیں۔ یہاں ہر آدمی پرندوں سے محبت کرتا ہے ۔ دنیا میں پرندوں کی کوئی 9703 قسمیں پائے جاتے ہیںاورپرندے عام طور پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں، سمندر ہو یا جنگل، پہاڑ ہوں یا ریگستان ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے پرندے پائے جاتے ہیںتاہم پرندوں کی دنیا میںصحیح تعداد کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہمارے اجرام فلکی کے اندر ایک وقت میں 100000اور200000کی تعداد میں بالغ یا کم عمر پرندے ہوتے ہیں۔

موسموں میں تبدیلی کے ساتھ ہی پرندے نقل مکانی کرنا شروع کرتے ہیں، گرم علاقوں سے ٹھنڈے علاقوں کی طرف اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔چترال میںموسم بہار کے شروع ہوتے ہی مختلف پرندے نمودار ہوتے ہیں۔مارچ سے شروع ہوکر جون تک چترال کی خوبصورتی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے اور اس دوران یہاں طرح طرح کے پرندے دوسری جگہوں سے نقل مکانی کرکے آتے ہیں جو یہاں کے طبعی حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ مارچ سے یہاں پہاڑوں پر سے برف پگھلنا شروع ہوتا ہے ۔ پہاڑوں پر سے برف پگھلتے ہی پرندوں کے ساتھ ساتھ یہاں جنگلی بکریاں بھی نمودار ہوتے ہیں جو یہاں کے جنگلات کی حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔یہاں کے پہاڑوں پر کستوری ہرن، آئی بیکس (کوہ ایلپس کا بکرا)،ریچھ، اور شکار ہونے والے پرندوں میں تیتر، چکور،فاختہ، شامل ہیںاور آبی جانوروں میں بطخیں، بگلے، اور دوسرے آبی پرندے شامل ہیں۔اس موسم میںبے رحم اور بے دل شکاری حضرات کی بے رحمی بھی اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ان ننے مننے پرندوںکو یہ لوگ اپنی بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔پہاڑی جانوروں کے شکار کے لئے بھیس بدل کریہ لوگ نماز فجر سے پہلے شکار گاہ کی طرف نکل جاتے ہیںجب لوگ اللہ تعالی کا شکر بجا لانے کے لئے اپنی اپنی عبادت گاہوں کو جا رہے ہوتے ہیں ۔جہاں یہ جانور اپنی خوراک کی تلاش میں آتے ہیں ان جگہوں پر شکاری حضرات خندقیں کھود کر رکھتے ہیں، اور ان کے آنے کا وقت بھی ان کو معلوم ہوتا ہے۔ چہرہ پر جانوروں کا ماسک پہن لیتے ہیں، جس کی وجہ سے جانور اپنے بچائو کی بھی کوشش نہیں کرتے ہیںاور آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ آبی جانوروں کے شکار کے لئے مصنوعی تالاب بنائے جاتے ہیں۔جس کے ارد گرد مضبوط بندھ بندھا ہوتاہے، اور مضبوط دیوار ہوتی ہے۔عام طور پر یہ جانور صبح اور شام کے وقت سفر کرتے ہیں، راستے میں آئے ان تالابوںمیں ، جیسے کہ ان کی فطر ت میں تیرنے کا شوق ہوتا ہے، اپنے شوق کوپورا کرنے کے لئے ان تالابوں میں آتے ہیں، اور یوں شکاری پہلے سے وہاں موجود ہوتا ہے اس پر فائر کھول دیتاہے۔یوں یہ لوگ اپنے شوق اور بھوک کو کم کرنے کے لئے قدرت کے ان حسین نظاروں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو زمانہ قدیم جس وقت منظم کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنے کا رواج نہیں تھا یا یوں کہیں کہ لوگ اس فن سے نا آشنا تھے۔ جبکہ اب اس دور میں انسان کو اپنی بھوک مٹانے کے لئے ہزاروں نعمتیں دستیاب ہوں،اور وقت گزارنے اور درجنوں دورے ذرائع ہوں وہاں ان جانوروں کا قتل عام اور نسل کشی قدرت سے بغاوت کے مترادف ہے۔

ان قانوں شکن لوگوں کے سامنے حکومت کا قانون بھی بے بس نظر آتا ہے۔اور اس سے بڑھ یہ کہ حکومت ان کو تحفظ دینے کے لئے ان کو اسلحہ لائسنس جاری کرتی ہے جس کے بل بوتے وہ کھلے عام شکار کرتے ہیں، اور وہ جن کے پاس لائسنس نہیں ہے ان کو بھی کوئی روکنے والا نہیں ۔حکومت نے جو رکھوالی کرنے والے مقرر کیا ہے وہ تو خود شکار کے مشتاق ہوتے ہیں۔ وہ بلا کسی کو کیا روکیںگے ۔اپریل سے لیکر مئی کے مہینے تک فاختوں کی پرواز ہی ان لوگوں کو گوارا نہیں۔ ہوا میںپرواز کرتے ہی اڑا دیتے ہیں۔صبح صادق سے فائرنگ کی آوازیںآتی ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ دو دشمنوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ قدرت کے ان حسین نمونوں کو ختم ہونے سے بچائیں ،اور ان ظالموں کو باز رکھنے کے لئے سخت سے سخت اقدامات کریں، اورقانونی اور غیر قانونی شکار کرنے والوں کے لئے سزا مقرر کریں ، اور واقعی میں ان لوگو ں کو سزائیں دیں تاکہ ہمارے ماحول کی حسن برقرار رہے اور لوگوں میںشعور اجاگر کیا جائے کہ جانوروں کو مار نا صرف گناہ ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ جنگ ہی نہیں بلکہ اپنے ماحول کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز انسان کی خاطر پیدا کی ہے، کچھ کو انسان خوراک کے طور پر استعما ل کرتا ہے ، اور کسی سے باربرداری کا کام لیتاہے ۔ گوشت حاصل کرنے کے لئے گائے، بیل، بکریاں، بھیڑ،مرغیاں اور دوسرے پالتوں جانور شامل ہیں جن کے ساتھ ہم محنت کرتے ہیں ، وہ ہمارے لئے حلال ہیں۔اور بہت سے ایسے جانور ہیں جو ہمارے ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں ، اور ہمیں ان سے دوسرے بہت سے فوائد حاصل ہیں۔ہم ان کو ماریں کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ نا شکری نہیں ہے؟

لواری ٹنل2010ء میں کھلے گا

لواری ٹنل2010ء میں کھلے گا، نیشنل ہایی وے اتھارٹی

اسلام آباد: لواری ٹنل کے سال2009ء میں قابل استعمال ہونے اور اسے عوام کے لیے کھولے جانے کی اور تکمیل سے متعلق خبروں پر نیشمل ہایی وے اتھارٹی نےحا ل ہی میں اپنا درجہ ذیل بیان جاری کردیا ہے۔

  ہم اس موقع پر لواری ٹنل منصوبے کی تکمیل اور اس کے باقاعدہ کھولے جانے سے متعلق عوام کو اصل حقیقت بتا نا چاہتے ہیں۔ لواری ٹنل کی سرنگ کی کھدایی کا کام اس سال سردیوں میں مکمل ہونا متوقع ہے۔ تاہم،کھدایی کا کام مکمل ہونے کے بعد ٹنل تیکنیکی تجزیوں کے لیے ایک مخصوص مدت تک بند رہے گا،تاکہ اس دوران یہ بات یقینی بنایی جایے گی کہ ٹنل کے اندرچھت سے کسی قسم کے پتھریا چٹان وغیرہ نہ گر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کھدایی کا کام مکمل ہونے کے بعد ٹنل کے اندر سے ہر قسم کی مشینری باہر نکالی جاییں گی۔

 ٹنل کا کام ہر طرح سے مکمل ہونے کے بعد اسے کھولنے سے پہلے انجینیرزکی جانب سے محفوظ قرار دیا جایے گا۔ اس وقت ٹنل میں کام جاری ہے اور 2010ء کے اختتام تک اس کا حسب ضابطہ افتتاح متوقع ہے۔

القایدہ کی دھمکی

BBC News:

Al-Qaeda vows to hurt Obama’s US

A clip from al-Qaeda’s message

For video clip click here http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7737710.stm

The second-in-command of Islamic militant network al-Qaeda has called on Muslims to harm "criminal” America.

In a message purportedly from Ayman al-Zawahiri, the al-Qaeda deputy accused US President-elect Barack Obama of betraying his Muslim roots.

He likened him to a "house slave” – who had chosen to align himself with the "enemies” of Islam.

Mr Obama has said stamping out al-Qaeda "once and for all” will be a top priority during his administration.

On Sunday, he said capturing or killing Osama Bin Laden was "critical” to US security.

He has also promised to bolster the US presence in Afghanistan – a policy that would fail, said the al-Qaeda deputy.

The US said the message did not signal any increased threat against America.

 

You were born to a Muslim father, but you chose to stand in the ranks of the enemies of the Muslims, and pray the prayer of the Jews 
Al-Qaeda message

This is undoubtedly a message aimed at sustaining anti-American sentiment among Muslims in the face of Barack Obama’s election, says the BBC’s defence correspondent Rob Watson.

But it is a risky approach, our correspondent says.

Barack Obama is hugely popular world-wide and his colour and background make him a much tougher target to attack than President George W Bush in the eyes of a global audience, he says.

‘Trespassing crusader’

Zawahiri, an Egyptian by birth, is often referred to as Osama Bin Laden’s right-hand man and the chief ideologue of al-Qaeda.

The audio message, which ran with photographic stills and some video footage, appeared on militant websites.

Mr Obama’s election did not mean that US policy towards the Muslim world had changed, Ayman al-Zawahiri said, according to the 11-minute message.

He warned Mr Obama of failure if he followed the policies of the Bush administration.

The change of leadership in the US did not mean that America should be perceived differently, he added.

"America, the criminal, trespassing crusader, continues to be the same as ever, so we must continue to harm it in order for it to come to its senses,” he said.

Zawahiri also criticised Mr Obama – whose father is Muslim – for betraying the Islamic world.

"You were born to a Muslim father, but you chose to stand in the ranks of the enemies of the Muslims, and pray the prayer of the Jews, although you claim to be Christian, in order to climb the rungs of leadership in America,” he said.

Mr Obama was not an "honourable black American” like Malcolm X, he said, but an "abeed al-beit” – a word that translates as house slave but was rendered "house negro” in the message’s English subtitles.

The audio was accompanied by footage of a speech by Malcolm X in which he distinguished between "field negroes” who hated their white masters and "house negroes” who, he said, were loyal to them.

US State Department spokesman Sean McCormack described the message as "more despicable comments from a terrorist”.

Mr Obama visited Israel in July and expressed his "abiding commitment” to its security.

On Sunday, in his first television interview since his 4 November election win, he reiterated his commitment to shift more US troops to bolster the military presence in Afghanistan.

The last message purporting to be from Zawahiri emerged on 8 September. He is thought to be in hiding in the Afghan-Pakistan border area.

Story from BBC NEWS:
http://news.bbc.co.uk/go/pr/fr/-/2/hi/middle_east/7737710.stm

http://newsvote.bbc.co.uk/mpapps/pagetools/print/news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7737710.stm?ad=1

 

The Aga Khan دے آغا خان

 Thanks to Asian Pacific Post Logo

The Aga Khan builds a better world

Wed, November 19 2008: Two year-old Rose Mwaka had her foot amputated last August after an intern misdiagnosed her illness and gave her the wrong injection.

She is another statistic in the Kenyan medical horror story that estimates up to 50 per cent of the deaths in hospitals are due to misdiagnosis.

In the village of Kiboje, on Unguja Island, Zanzibar, Riziki Emmanuel is a five year old who cannot use her legs. Her impoverished parents have always carried her around because they have been unable to afford the crutches to help Riziki move on her own and go to school.

Like many of the poor in Northern Pakistan, Sifat Gul’s family survived on less than $1 a day. The roof of her home leaked during the rains and her children had no education. Her husband did odd jobs and traditions barred her from working outside the home.

Today, thanks to a humanitarian called the Aga Khan, hope has taken root in the lives of Rose, Riziki and Sifat. While Rose is getting the medical attention she needs, The Aga Khan University Hospital is developing a system to capture community healthcare data from the grassroots level in Kenya. The plan involves connecting all hospitals in Kenya with the Internet, to help doctors make informed diagnoses before they administer any drugs.

Riziki’s life has changed and today she can count, sing songs, narrate stories, and draw pictures. The Aga Khan Foundation of Canada helped build a preschool in her village and her father brings her to class on his bicycle every day. Riziki is thriving.

As for Sifat Gul, a US$30 loan from The First MicroFinanceBank, a part of the Aga Khan Development Network, got her a sewing machine which she has turned into a thriving business. Today her two daughters and son are studying in a private school while she runs a tailoring program for illiterate girls in the area. These triumphs over adversity are but a small reflection of how the Aga Khan and his global network of private, non-denominational development agencies are working all over the world to eradicate social problems.

His Highness the Aga Khan may not rule a country, but his nation knows no boundary.
He may not have an army. But his soldiers are everywhere fighting poverty, without regard to faith, origin or gender. This is one side of Islam we seldom see in the wake of the negativity that has engulfed the Muslim world.

Celebrating his Golden Jubilee as the spiritual leader of millions of Ismaili Muslims, the Aga Khan brings his message of pluralism, peace and prosperity to Canada this week.

It’s a familiar story for us, one we too often take for granted. Canada, built on a foundation of inclusiveness, shines as a beacon in a world of increasing discord and intolerance, the Aga Khan says. Pluralism, he says, is a deliberate set of choices that a society must make if it is to avoid costly conflict and harness the power of its diversity in solving human problems.

“Canada has an experience of governance of which much of the world stands in dire need,” he writes in his latest book, Where Hope Takes Root.

The Aga Khan, by his words and actions, challenges us to learn from our past and use our present to make a better tomorrow.

It is a challenge we should all accept.

 Source>>> http://www.asianpacificpost.com/portal2/c1ee8c441db66525011db7223d860126_The_Aga_Khan_builds_a_better_world.do.html