دن: نومبر 19، 2008

عدل و انصاف

بشکریہ روزنامہ جنگ ۔

پاکستان میں عدلیہ کو آزادی ملی نہ اچھے لوگوں کی حکمرانی آئی، صرف بے خوف ججوں کے آزادانہ فیصلے پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھ سکتے ہیں،جسٹس افتخار

11/19/2008

نیویارک( رپورٹ: عظیم ایم میاں) معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کو آزادی ملی اور نہ اچھے لوگوں کی حکمرانی آئی، صرف بے خوف ججوں کے آزادانہ فیصلے ہی پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھ سکتے ہیں، عدلیہ کی آزادی کی ساری تحریک میں بطور جج اور ایک شہری میرا کردار معمولی ہے، حقیقی اور بھرپور آواز پاکستانی عوام اور ساتھی وکلاء نے بلند کی، یکساں انصاف بے خوف جج ہی دے سکتے ہیں، ہر شہری کیلئے یکساں انصاف اور بے خوف ججوں کے فیصلے ہی دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی اور انتظامیہ کے اختیارات اسی صورت میں قائم رہ سکتے ہیں کہ جب بے خوف اور آزاد جج عدالتی فیصلے دیں ورنہ پورا نظام بے معنی اور مفلوج ہو جاتا ہے، پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کیلئے آواز اٹھانے پر امریکا اور وکلاء کی عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیویارک سٹی کی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے شہر کے مرکزی اور معروف علاقے مین ہٹن میں معزول پاکستانی چیف جسٹس افتخار چوہدری کو نیویارک بار کی تاحیات اعزازی رکنیت دینے کیلئے ایک پروقار اور سادہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس اعزاز کے اصل حق دار پاکستانی عوام ہیں جنہوں نے عدلیہ کی آزادی اور بالادستی کیلئے میرا اور وکلاء کا بھرپور ساتھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری کو یہ اعزازی رکنیت 9 جنوری 2008ء کو دی گئی تھی تاہم پاکستان میں وکلاء کی جاری تحریک اور جسٹس افتخار پر پابندیوں اور مصروفیات کے باعث وہ امریکا نہ آسکے، لہٰذا یہ اعزازی رکنیت اور شیلڈ انہیں بار ایسوسی ایشن کی خاتون صدر پٹریشیا ہائنز اور نیویارک میں امریکی وفاقی جج جڈراکوف نے تقریب میں پیش کی، جس میں نیویارک کے پاکستانی۔ امریکن وکلاء ، نیویارک بار ایسوسی ایشن کے جڈ راکوف ممتاز اراکین اور ریاست نیویارک کے بعض جج بھی شریک ہوئے۔ گزشتہ دس سال میں جسٹس افتخار محمد چوہدری آٹھویں شخصیت ہیں جنہیں عدلیہ اور آئین و اصول کی خدمات کے اعتراف میں یہ رکنیت پیش کی گئی ہے ۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان آٹھ شخصیات میں کتنے امریکی اور کتنے غیر ملکی شہری ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیویارک سٹی بار ایسوسی ایشن کی صدر پٹریشیا ہائینز نے جسٹس افتخار چوہدری کی جرأت اور قانون پرستی کی داد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چیف جسٹس عدلیہ کی بالادستی اور جرأت کے ساتھ اور اصولوں کی خاطر سختیاں برداشت کرتے رہے۔ آج ہمیں اپنے بار کی رکنیت تاحیات کا اعزاز پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ امریکا کی وفاقی عدالت کے جج جڈ راکوف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر مشرف پرویز نے تو یہ سوچ کر افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنایا کہ وہ ان کیلئے حفاظت کا ذریعہ بنیں گے لیکن افتخار چوہدری نے عدلیہ کی بالادستی اور آئین کی حفاظت کا ذریعہ بننے کا جرأتمندانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال میں سات افراد کو یہ اعزازی رکنیت دی گئی ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری کو ہمارے بار نے 9جنوری 2008ء کو یہ رکنیت دی تھی لیکن جسٹس افتخار اپنے گھر میں پابند سلاسل، نامساعد حالات اور وکلاء کی تحریک میں مصروف رہے لہٰذا ہمیں اس بات کی دوہری خوشی ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری آج نیویارک میں ہیں اور یہ اعزاز حاصل کر رہے ہیں، ہم پاکستان کے وکلاء کی آئین و قانون کی بالادستی کیلئے تحریک پر داد دیتے ہیں۔

پرنس کریم آغا خان کے گولڈن جوبلی دورہ

 

 

canada, canadian search engine, free email, canada news                                                                                        

Wednesday » November 19 » 2008

Aga Khan in Canada to celebrate 50 years of leadership of Ismailis 

Ismailis from across globe pour into Canadian cities

By Salim Jiwa

Vancouver Province

Tuesday, November 18, 2008

CREDIT: By Chris Wattieseen – Reuters

Thousands of Ismaili Muslims have begun a week of celebration to mark the arrival of His Highness Prince Karim Aga Khan on an eight-day visit to Canada, during which he is to meet Canadian officials and his followers in major cities across Canada.

The Aga Khan is spiritual leader of the world’s 15 million Shia Imami Ismaili Muslims who live in large numbers in countries as diverse as Canada, India, Pakistan, Afghanistan and even remote corners of Tajikistan.

His arrival at Ottawa airport on Tuesday — where he was greeted by John Baird. minister of transport and communities on behalf of the government — prompted a jubilant gathering of Ismailis at the main mosque in Burnaby.

Those who visited the early morning celebration Tuesday said the ceremony was marked by the raising of the Canadian flag followed by the singing of "O Canada.” This was followed by the raising of the Ismaili flag and the singing of the Ismaili anthem.

Tens of thousands of Ismailis from overseas have begun pouring into Canada from around the world for the celebration of the 50th anniversary of his hereditary appointment as the Imam of the Ismailis.

During the Golden Jubillee celebrations, the Aga Khan, known for his philanthropic work across the length and breadth of the globe — in particular in poor countries in Africa and Asia — has visited 35 countries.

The Aga Khan — hailed as a modern Muslim leader — has branded tensions between Islamic nations and the Western world in the wake of the 9/11 attacks as a "clash of ignorance” rather than a clash of civilizations. His main emphasis has been to stress the importance of pluralism among diverse cultures.

The Aga Khan Council for Canada said in a press release that the Aga Khan — who received the Order of Canada in 2005 — will meet with Governor General Michaelle Jean, Ontario Premier Dalton McGuinty and with B.C. Premier Gordon Campbell. Rideau Hall press office said the meeting between the Aga Khan and the Governor General will take place on Wednesday afternoon.

Among the many discussions with  officials will be the collaborative role of the Aga Khan Development Network and the Aga Khan Foundation Canada with Canadian development agencies in promoting development in poorer countries. The AKDN’s annual budget for social development is US $500 million and is used according to the creed "compassion for the vulnerable in society.”

The Aga Khan will be in Vancouver next Tuesday where he will celebrate 50 years of his Imamat with thousands of his followers.

sjiwa@theprovince.com