سیاحت ۔ چترال

دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں سے ایک چترال 

afsar.kn@gmail.com از افسر خان چترالی 

یہ خو بصورت وادی اپنی خوبصورتی اور دل کش نظاروں کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں بے حد مشہور ہے۔ یہاں کی منفرد روایات سیاح کو بہت بھلی لگتی ہیں ۔ چترال کی حسین اودی سطح سمندرسے 370 فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ یہاں پر سیاح ہائیکنگ، مچھلی اور دوسرے جنگلی جانوروں کے شکار جیسے دلچسپ مشاغل سے لطف اندوز ہو تے ہیں ۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے 28 سال بعد، یعنی دسمبر 1970 ء تک چترال ایک خود مختار ریاست تھی۔ 1971ء میں پاکستان کے ساتھ الحاق ہو ا اور اسکے بعد یہاں ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ چترال پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ لواری ٹاپ ہے۔ جس کا انحصار موسم پر ہے۔سردیوں میں یہ راستہ بالکل بند ہوتا ہے اور چھ ماہ تک چترال کا رابطہ ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع رہتا ہے۔ لواری ٹاپ دیر اور چترال کے درمیان واقع ہے اور یہ دشوار ترین گزر گاہ جون سے کر نومبر تک آمد روفت کے لئے کھلی رہتی ہے۔

پشاورسے چترال تک کا سفر چودہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ جبکہ فوکر جہاز میں یہ سفر پینتایس منٹ پر مشتمل ہے۔ مگر جہاز میں سفر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ سردیوں کے موسم میںیہاں شدید ترین سردی پڑتی ہے اور سردی سے بچائو کے لئے یہاں کے غریب عوام لکڑی جلاتے ہیں ،جس کی وجہ سے یہاں کے جنگلات کو شدید خطرہ لاحق ہے اور کٹائو کا یہ سلسلہ اسی طرح جار ی رہا تو توقع ہے کہ جنگلات بہت جلدختم ہو جائیں گے۔ قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ان علاقوں میں غر بت اور پس ماندگی سیاح کو غم زدہ کر دیتی ہے۔ چترال میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک ترچ میر چوٹی یہاں موجود ہے جس کی بلندی 7[L: 44]705 میٹر ہے۔ سیاح یہاں سے کوہ ہندودش کے بلند و بالا پہاڑی سلسوںکا بھی نظارہ کر سکتے ہیں ۔ چترال کی دل کش وادی میں بہتی ندیاں ، بلندیوں سے گرتے ہوئے خوبصورت آبشار، سرسبز باغات، پھلوں اور پھولوں سے لدے باغات، لہلہاتے کھیت ،خوبصورت پرندے بکثرت نظر آتے ہیں۔

چترال کا یہ بے مثال حسن دیکھنے والوں پر سحر طاری کردیتا ہے اور وہ چند لمحوں کے لئے اپنی زندگی کے غموں اور پر یشانیوں کو فراموش کر دیتے ہیں ۔ یہاں کے جنت نظیر نظارے سیاح کو ساری زندگی یاد رہتے ہیں ،بے مثال حسن کو دیکھ کر آنے والے قدرت کی صناعی کی داد دےئے بغیر نہیں رہ پاتے ۔ یہ ایسی وادی ہے جہاں جا کر زندگی چند لمحے اور جی لینے کیو جی چاہتا ہے کہ گو یا یہ حسین نظارے اوجھل نہ ہو جائیں اور یہ رنگین لمحات آنکھوں اور دل میں محفوظ کر لیی جائیں ۔ان سب خوش رنگینیوں کے ساتھ چترال کے سادہ لوح اور شرافت کی نعمت سے سرشاریہاں کے باشندوں کی مہمان نوازی اور برتائو سیاح کو ساری زندگی یاد رہتی ہیں۔یہاں کے لوگ سیاحوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اور ان کو ضرورت کے وقت ہر قسم کی تعاون فراہم کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاح دور دراز سے اس علاقے میں آتے ہیں، اور چترال دنیا کے چند اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s