دن: نومبر 14، 2008

سیاحت ۔ چترال

دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں سے ایک چترال 

afsar.kn@gmail.com از افسر خان چترالی 

یہ خو بصورت وادی اپنی خوبصورتی اور دل کش نظاروں کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں بے حد مشہور ہے۔ یہاں کی منفرد روایات سیاح کو بہت بھلی لگتی ہیں ۔ چترال کی حسین اودی سطح سمندرسے 370 فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ یہاں پر سیاح ہائیکنگ، مچھلی اور دوسرے جنگلی جانوروں کے شکار جیسے دلچسپ مشاغل سے لطف اندوز ہو تے ہیں ۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے 28 سال بعد، یعنی دسمبر 1970 ء تک چترال ایک خود مختار ریاست تھی۔ 1971ء میں پاکستان کے ساتھ الحاق ہو ا اور اسکے بعد یہاں ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ چترال پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ لواری ٹاپ ہے۔ جس کا انحصار موسم پر ہے۔سردیوں میں یہ راستہ بالکل بند ہوتا ہے اور چھ ماہ تک چترال کا رابطہ ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع رہتا ہے۔ لواری ٹاپ دیر اور چترال کے درمیان واقع ہے اور یہ دشوار ترین گزر گاہ جون سے کر نومبر تک آمد روفت کے لئے کھلی رہتی ہے۔

پشاورسے چترال تک کا سفر چودہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ جبکہ فوکر جہاز میں یہ سفر پینتایس منٹ پر مشتمل ہے۔ مگر جہاز میں سفر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ سردیوں کے موسم میںیہاں شدید ترین سردی پڑتی ہے اور سردی سے بچائو کے لئے یہاں کے غریب عوام لکڑی جلاتے ہیں ،جس کی وجہ سے یہاں کے جنگلات کو شدید خطرہ لاحق ہے اور کٹائو کا یہ سلسلہ اسی طرح جار ی رہا تو توقع ہے کہ جنگلات بہت جلدختم ہو جائیں گے۔ قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ان علاقوں میں غر بت اور پس ماندگی سیاح کو غم زدہ کر دیتی ہے۔ چترال میں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک ترچ میر چوٹی یہاں موجود ہے جس کی بلندی 7[L: 44]705 میٹر ہے۔ سیاح یہاں سے کوہ ہندودش کے بلند و بالا پہاڑی سلسوںکا بھی نظارہ کر سکتے ہیں ۔ چترال کی دل کش وادی میں بہتی ندیاں ، بلندیوں سے گرتے ہوئے خوبصورت آبشار، سرسبز باغات، پھلوں اور پھولوں سے لدے باغات، لہلہاتے کھیت ،خوبصورت پرندے بکثرت نظر آتے ہیں۔

چترال کا یہ بے مثال حسن دیکھنے والوں پر سحر طاری کردیتا ہے اور وہ چند لمحوں کے لئے اپنی زندگی کے غموں اور پر یشانیوں کو فراموش کر دیتے ہیں ۔ یہاں کے جنت نظیر نظارے سیاح کو ساری زندگی یاد رہتے ہیں ،بے مثال حسن کو دیکھ کر آنے والے قدرت کی صناعی کی داد دےئے بغیر نہیں رہ پاتے ۔ یہ ایسی وادی ہے جہاں جا کر زندگی چند لمحے اور جی لینے کیو جی چاہتا ہے کہ گو یا یہ حسین نظارے اوجھل نہ ہو جائیں اور یہ رنگین لمحات آنکھوں اور دل میں محفوظ کر لیی جائیں ۔ان سب خوش رنگینیوں کے ساتھ چترال کے سادہ لوح اور شرافت کی نعمت سے سرشاریہاں کے باشندوں کی مہمان نوازی اور برتائو سیاح کو ساری زندگی یاد رہتی ہیں۔یہاں کے لوگ سیاحوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اور ان کو ضرورت کے وقت ہر قسم کی تعاون فراہم کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاح دور دراز سے اس علاقے میں آتے ہیں، اور چترال دنیا کے چند اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 

ایل جی الیکٹرونکس

ایل جی الیکٹرونکس نے جدید ویکیوم کلینر متعارف کردیا

کراچی، 10نومبر 2008ء: ایل جی الیکٹرونکس ، گھریلو مصنوعات کی تیاری میں دنیا کی ممتاز کمپنی نے اپنا کمپریسر کی اضافی قوت کے ساتھ نیا بیگلس سائیکلون ویکیوم کلینر متعارف کر دیا ہے۔اس دلکش ڈیزائن کے حامل ویکیوم کلینر میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اور ایل جی کی جدید ڈسٹ کمپریسر سسٹم اور سائیکلون سسٹم سے صارفین گھروں کی صحت بخش صفائی کویقینی بنا سکتے ہیں۔

"مارکیٹ ریسرچ ادارے کنزیومر انسائٹ کے مطابق، ایل جی نے اپنے بیگلس ڈسٹ کمپریسر ویکیوم کلینر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا ہے، تاکہ اس کا استعمال آسان ہو، اور گھروں سے گرد اور الرجی پیدا کرنے والی عناصر کا بہتر انداز میں خاتمہ کرے۔”ایل جی الیکٹرونکس ڈیجیٹل اپلائنسز کمپنی کے صدر اور سی ای او نے کہا۔” ایل جی کمپریسر پلس صفائی کے عمل ، صحت مند طرز زندگی اور صفائی کے عمل میںلوگوں کی مشقت کو کم کرنے کے لئے ،ایک بہترین حل ہے۔ ایل جی اپنے صارفین کی آسائش اور انکی طرز زندگی سے موافق جدید اور اختراعی مصنوعات تیار کر رہا ہے ۔ ایل جی کمپریسر پلس کے آلات استعمال میں نہایت آسان ہیںاور اس کے مختلف آلات کی تنصیب کا عمل بہت سادہ اور آسان ہے جس کی بدولت صارف کا وقت اور محنت نہیں لگتی۔ یہ بلٹ ان آلات جیسا کہ اضافی ٹربو کمبی نوزل صفائی کی مختلف مشکل صورتحال میں بہتر صفائی کرتے ہیں ،ایسے کونو تک پہنچ جاتے ہیں جہاں پہنچنا عموماً مشکل ہوتا ہے اور نازک سطحوں، کارپٹس اور فلور کی بہتر صفائی کرتے ہیں۔

ایل جی کمپریسر پلس کی نرم ، گول بنا ہوا ڈیزائن اور مختصر جسامت ان صارفین کو اپنی طرف مبذول کریگا جوبیگلس کلینرز کے بارے میں نہیں جانتے۔یہ ویکیوم کلینرمختصر اور وزن میں ہلکا ہونے کی وجہ سے استعمال میں بہت آسان ہے۔ ایل جی کمپریسر پلس صفائی کی زیادہ سے زیادہ بہتر کارکردگی کے لئے ڈیزئن کیا گیا ہے ، اور یہ مختلف رنگوں میں دستیاب ہے۔ ایل جی اپنے اس نئے جدید پروڈک سے یورپ کی بیگلس ویکیوم کلینر کی مارکیٹ میں اپنے حصے کو بڑھا نا چاہتا ہے۔ حال ہی میں کمپریسر پلس کوبہترین ڈیزائن، تیکنیکی طور پر بہتر کارکردگی اور مکمل صحت مند صفائی کی وجہ سے 2008ء کی جانس انڈسٹریل ایوارڈ میں بہترین ڈیزائن اور مصنوعات کا ایوار ڈ دیا گیا۔

***

زونگ ۔ چاینا موبایل

زونگ کی جانب سے کم لاگت یوایس بی موڈیم کا اجراء

کراچی،11 نومبر 2008 ء: چائنا موبائل کے پہلے انٹرنیشنل برانڈ زونگ نے جو پاکستان میںتیزی سے مقبولیت حاصل کرتا جارہا ہے ایک آسان، اسمارٹ اور نفیس یو ایس بی جی پی آر ایس/ایج موڈیم(USB GPRS/EDGE Modem) متعارف کی ہے جواپنی کارکردگی اور قابل خرید قیمت کی وجہ سے صارفین بشمول موبائل فون، لیپ ٹاپ کمپیوٹر استعمال کرنیوالوں اوراکثر سفر میں رہنے والے افراد کی تمام ضروریات پر پورا اترنے کے قابل ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیوائس میں انٹرنیٹ کی تیز ترین براؤزنگ ، فوری رسائی اور ڈیٹا کو بلا رکاوٹ اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈکرنے کی سہولیات موجود ہیں۔چمکدار ڈیزائن اور انتہائی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ زونگ کے صارفین اس سے گھرمیں اور سفر کے دوران تیزر فتار وائرلیس رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔پلگ میں لگاتے ہی یہ ڈیوائس،خواہ اس کا استعمال ایک پی سی پر ہو، لیپ ٹاپ یا ہاتھ سے استعمال ہونیوالی ڈیوائس سے ہو، ونڈوز2000 (SP4یااس سے بہتر)، ونڈوز ایکس پی (SP2یا اس سے بہتر) ، ونڈوز وسٹا اور میک پر استعمال ہوسکتی ہے۔موڈیم میں ایس ایم ایس سوفٹ ویئر بھی موجود ہے جس سے کمپیوٹر کے ذریعے تحریر وں کو براہ راست بھیجا جا سکتا ہے۔

موڈیم کے اجراء کے موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے جناب سلمان واسع، ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے بتایا:”یو ایس بی/ایج (EDGE) کا اجراء یقینا ہمارے صارفین کو ثبوت فراہم کریگا کہ زونگ تیکنیکی طور پر جدید ترین مصنوعات اور قابل خریدقیمتوں پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔”

وہ مزید کہتے ہیں:” ہمیں یقین ہے کہ صارفین موبائل لائف اسٹائل سے خوش ہوں گے۔ صارفین موبائل سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں سے جدید ترین سہولیات کی توقع کرتے ہیں اور زونگ کو خوشی ہے کہ وہ ان کی یہ توقعات پورا کررہا ہے۔۔

اپنی یوایس بی/ایج(USB / EDGE) کے اجراء کے ساتھ زونگ اس انتہائی مقابلے والی ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ میں مزید آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتا ہے اور نئے کنکشنز کی فروخت میں اضافے کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس بات کوآسانی سے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ زونگ اپنی نئی پروڈکٹ یوایس بی/ایج(EDGE) کی بھی سب سے زیادہ فروخت حاصل کرلے گا۔

چائنا موبائل کے بارے میں: 20اپریل 2000کو سرکاری طور پر قائم چائنا موبائل کمیونیکیشنز کارپوریشن(مختصراً "چائنا موبائل”) کا رجسٹرڈ سرمایہ 51.8بلین آرایم بی یوان اور اثاثے 400بلین آر ایم بی یوان سے زائد پر مشتمل ہیں۔چائنا موبائل لمیٹیڈ نے چین میں 31صوبوں (خودمختارخطّے اور مرکزی حکومت کے تحت قائم میونسپلٹیز) میں اپنی سبسیڈریز قائم کرنے کے بعد ہانگ کانگ اور نیو یارک اسٹاک ایکسچینج میںسرکاری طور پر شمولیت اختیارکی ۔ اس وقت ، اپنی مارکیٹ ویلیوکے لحاظ سے، چائنا موبائل لمیٹیڈسمندر پار کمپنیوں کی فہرست میں سب سے زیادہ بڑی کمپنی ہے۔

 ختم شد

سیاسی عمل میں خواتین کا کردار

"سیاسی عمل میں چترالی خواتین کی محرومیوں کے اسباب”

تحریر افسر خان

دنیابھرمیں خواتین نے ہردورمیںمختلف حیثیتوں میں اپنی مضبوطی ،اتحاد، تحمل مزاجی ، انصاف اور مسلسل ثابت قدمی کی خصوصیات سے پوری انسانیت کی تقدیربدل کررکھ دی۔ انہوں نے معاشرہ کی جانب سے متعین ماں،بیٹی،بیوی،بہو، ساس، خالہ ،پھوپھی، نند، دیورانی اور بہن کاکردارجس احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں اس کی کیا مثال دی جا سکتی ہے ۔اور آج کے اس برق رفتا دور میں اپناحق استعمال کرتے ہوئے ایک ایسے فرد کی حیثیت اختیارکی جس کااپناذاتی تشخص اور ذاتی رائے ہو۔

کسی ملک کی سربراہی ہو یا وزارت ، ڈاکٹرز،وکلا،آجرین،ہوا بازی یاانسانی حقوق کی سرگرم کارکن یہ پیشے ان خواتین کیلئے مشکل نہیں ہیں جنہوں نے مردوں کے زیرتسلط ہونے کے باوجود اپنامقام پیداکیا۔خواتین بحری حیاتیات کی ماہر ،خلاباز،علم جرائم کی ماہر،سیاستدان،مزاح نگار اور دیگرپیشوں میں پیش پیش ہیں۔لیکن خواتین کاان شعبوں میں داخلہ آسان نہیں تھااس کے لئے انہیں محنت کرنی پڑی اور ایک معاون مرد باپ، بھائی، شوہر کی روپ میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ انہیں پہلے ان پیشوں میں اپنی مہارت دکھانی پڑی اور ثابت کیاکہ معاشرہ نے جوکردار ان کے سپرد کیا ہے وہ اسکی پوری طرح اہل ہیں۔پاکستانی خواتین کی مثال لیں آپ کوان میں بے پناہ ہمت وجرأت اور پیشہ ورانہ ذکاوت وفراست کی ایسی مثالیں نظرآئیں گی جو دوسروں بشمول مردوںکیلئے بھی قابل تقلیدہیں۔بے نظیر بھٹو، باپسی سدھوا سے بلقیس ایدھی،ثریا بجیا، وادی کیلاش کی پھر تیلی اور ذہین خاتون لکشن بی بی تک متعدد خواتین ہیں جومختلف شعبوں میں سنجیدگی سے جدوجہدکرکے اپناکرداراداکررہی ہیں،ان کامیاب خواتین کی ایک طویل فہرست ہے ۔اگر آپ پاکستان سے باہر جھانگ کر دیکھیں تو آپ کو کامیاب خواتین کی ایک لمبی قطانظر آئے گی ۔آپ روزانہ اپنے اردگردایسی بہت سی خواتین دیکھتے ہیں یہ خواتین آہستہ آہستہ اوسط درجہ سے بلندہوکرنمایاں حیثیت اختیارکرلیتی ہیں۔وہ صورتحال کوجوں کاتوں برقراررکھنے پر استفہامیہ اندازاختیارکرتے ہوئے اپنی انفرادیت پیداکرنے کی راہ نکالتی ہیں۔ہمارے ملک میں ایسی خواتین ہیں جن پرہم بہترین استادکرشمہ سازشخصیت کی سفیر،بہترین سرجن اورصحافی کی حیثیت سے فخرکرسکتے ہیں۔

مزیدبراںہمارے پاس اپنی کامیاب خواتین کوسراہنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کاکافی جوازموجودہے۔کسی تکلف کے بغیرہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک امتیازی رویہ کوچیلنج کرنے کاتعلق ہے مغربی خواتین کواتنی مشکلات کاسامنانہیں کرناپڑتا۔ہماری خواتین کومعاشرہ میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے تمام حلقوں کی جانب سے زبردست بائوکاسامناکرناپڑتاہے۔ پاکستانی معاشرہ خصوصاً صوبہ سرحد میں خواتین کوہولناک رویہ کے مسائل کاسامناکرناپڑتاہے،سماجی طورپر ممنوعہ رواج اور پابندیاں شامل ہیںجنکی دنیامیں ابھی ابتدانظرآتی ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں کام کرنے کیلئے خواتین کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی انہیں صرف اس مفروضے پرقتل تک کردیاجاتاہے کہ کسی مردکے ساتھ نظرآئیں جوان کے خاندان کانہیں تھا خواہ مذکورہ شخص خاتون سے عمرمیںبیس سال بڑایابیس سال چھوٹاہی کیوں نہ ہواور خواہ لڑکی خودکمسن ہو۔ ریکارڈپرآنے والے والے بیشترواقعات میں غیرت کے نام پرقتل ذاتی انتقام کے نتیجہ میں رونماہونے والے واقعات ہوتے ہیں۔ اکثر سخت قسم کے مذہبی سوچ رکھنے والے خواتین کو گھر کی چار دیواری تک محدود رکھتے ہیں۔ ان پر گھرکی دہلیز پار کرنے پر پاپندی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ وہ اپنی مرضی کے ساتھ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں اور آڑوس پڑوس میں بھی نہیں جا پاتی۔ اس طرح عورت کوسب سے آسانی سے قربانی کابکراسمجھاجاتاہے۔ایسے ماحول میں کسی خاتون کے لئے کسی سیاسی عمل یا اجتماعی محفلوں اور اجتماعات میں شرکت نا ممکن سی بات ہے ۔اگرمیڈیا،سوشل ویلفیئرآگنائزیشنز،این جی اوز اورانسانی حقوق کیلئے سرگرمی سے کام کرنے والی خواتین تنظیمیں جنہوں نے یہ مسئلہ حکومت اور بین الاقوامی سطح پرنہ اٹھایاہوتاتوایسے معاشرے میں جس میں مردوں کاتسلط ہوغیرت کے نام پرقتل آرام سے مشغلہ کے طورپرجاری رہتا۔اور پاکستان اور دنیا بھر میں خواتین غلامی کی زندگی گزار رہی ہوتیں۔

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو برابری کی سطح پر حقوق دئیی ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ،اے لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک وعورت سے پیدا کیااور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو،اور تم میںمیرے ہاں بہتر وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ بے شک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبر دار ہے۔[Al-Qur’an 49]

صوبہ سرحد کے ایسے ماحول میں خواہ وہ چترال ہو یا کوئی اورشہر یا قصبہ جہاں اب بھی خواتین کا گھر سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے، اور خواتین کو صرف عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے ایسے ماحول میں کسی خاتون کے لئے سیاسی عمل میں شرکت اوراس میں عروج کے منازل طے کرنا کوئی آسان بات نہیں، سرحد کی پسماندگی اور دقیانوسی سوچ کے آگے ایسا حوصلہ اور ہمت کی ضرورت ہے جوان کی ترقی و ذہنی نشونماکی راہ میں کھڑی چٹان جیسی رسم و رواج ، روایات اور سر قبیلی نظام کی رکاوٹ کو توڑ سکے ۔

ہم ہمیشہ یہ جوازپیش کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو مغربی عورت کے مقابلے میں زیادہ استحقاق حاصل ہے جس کے ضمن اس قسم کی مثالیں دیتے ہیں کہ بلوں کی ادائیگی کیلئے بینک پرعلیحدہ لائن ہوتی ہے،ٹائرپنکچرہونے کی صورت میں کارکودھکالگانے اور بس میں بیٹھاہوامردخاتون کواپنی نشست پیش کردیتاہے لیکن یہ وہی معاشرہ ہے جس میں عورت پر تشددکیاجاتاہے اور تشددکے مرتکب افرادکوچھوڑدیاجاتاہے۔اخبارات روزانہ اس قسم کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیںکہ قتل یادشمن کی بے حرمتی کیلئے عورتوں کاتبادلہ کیاگیا۔عورتوں کوتشدداور بدسلوکی کانشانہ بنایاجاتاہے کیونکہ جرگہ اس قسم کے احکامات جاری کرتاہے اور عورتوں کوخاندانی قرض کی ادائیگی کیلئے فروخت تک کردیاجاتاہے۔ہماری ثقافت خصوصاً دیہی علاقوں کی ثقافت زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے جو قرونِ اولیٰ کی ثقافت سے قریب ترین نظرآتی ہے۔

چترالی خواتین کی سیاسی عمل سے محرومی کے بہت سے اسباب و عوامل ہیں۔چترال کے اندر ایسی خواتین کی شدید کمی ہے جن کے اندر لیڈرشپ کی قابلیت ہو یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ خواتین کو آزادی حق رائے دہی اور خواتین کی حوصلہ افزائی کی رواج نہیں ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنی رائے قائم نہیں کرسکتیں، یا کسی قسم کے سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں بلا جھجک شریک نہیں ہوسکتیں۔خیرتعلیم یافتہ خواتین کی کمی تو نہیں لیکن ان میں خوداعتمادی، فیصلہ سازی کی اہلیت کی کمی ہے جسے دور کرنے کے لئے روشن خیال باپ ، بھائی یا شوہر کا ساتھ ہونا ضروری ہے ۔مرد حضرات کی ان پر تسلط کی وجہ سے وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار نہیں کر پاتیں۔عوامی طریقہ کارمیں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ضابطہ بندی ، عوامی کاموں، ترجیحات کے تعین، منصوبہ سازی ، ترقیاتی کاموں کی انجام دہی اور تشخیص مالیت میں خواتین کوشریک نہیں کیا جاتا ہے۔صوبہ سرحد کا سیاسی سسٹم میں رجلیت/مردانہ پن کا راج ہے۔رشوت خوری بد دیانتی اور خرد برد اور پیسے کی سیاست بھی خواتین کو سیاسی عمل میں شرکت سے باز رکھتی ہے۔عورتوں کو ہمارے ملک میں حق رائے دہی سے ایک عرصہ تک محروم رکھا گیا اور چترال میں یہ سلسلہ تا حال جاری ہے، اسکی کئی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں، مثلاً دقیانوسی سوچ، مذہبی روایات، ثقافت۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ عورتوں کا سیاست میں حصہ لینا گھر کا سکون برباد کردے گا اور خاندان کا ادارہ بد نظمی اور انتشار کا شکار ہوجائے ۔حق رائے دہی میں شوہر اور زن میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔چترالی خواتین کی سیاسی عمل میں حصہ نہ لینے کی اور بھی وجوہات ہیں ، معاشی معاملات میں خواتین خود کفیل نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ مردوں پر انحصار رکرتی ہیں چنانچہ اس امر نے عوتوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے میں تقویت بہم پہنچائی ۔تاہم اب حالات کو بدلنے کی ضرورت ہے آجکل تقریباً ہر شعبہ میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں وہ مختلف کارخانوں اور دفتروں میں کام کرتی ہیں ۔ انہوں نے ہر شعبہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور کر رہی ہیںاور مزید یہ کہ دو عالمی جنگوں میں عورتوں نے جو خدمات انجام دیں اس امر نے بھی عورتوں کے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ جن کی بناء پر امتیاز کی پالیسی انسانیت اور سماجی عدل کے منافی ہے۔ چنانچہ جمہوری ملکوں میں عورتوں کے حقوق مردوں کے برابر تسلیم کرتے ہوئے حق رائے دہی میں عورتوں کو بھی حق رائے دہی کا حق ملنا چاہئے۔دیہی علاقوں میں عورتیں گھریلو معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں اور ان میں اکثریت ان پڑھ ہوتی ہیں۔ ان کو بھی حق رائے دہی حاصل ہونا چاہئے، اور ان کی تربیت کا انتظام ہونا چاہئے۔ عام طور پر حق رائے دہی میں میں بھی وہ اپنی رائے دہی کا حق استعمال گھر کے مردوں کی مرضی پر کرتی ہیں۔انہیں حق رائے دہی حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے لئے مناسب لیڈ ر منتخب کرسکیں اور سیاسی عمل میں شرکت کی خواہش مند خواتین کو سیاسی تربیت کا اہتمام ہونا چاہئے۔

نما نہاد مذہبی اسکالر ز نے اسلام کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے۔خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔وہ خواتین کو عزت کی علامت سمجھتے ہیں۔مذہبی رہنمائوں اور اسکالرز کو چاہئے کہ مذہب اسلام کی صحیح ترویج کریں اور خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کریں۔ جیسا کہ حدیث مبارک ہے کہ علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔ لہذا خواتین کے ساتھ مساوی بنیادوں پرسلوک برتا جائے۔

چترالی خواتین کوسیاسی عمل میںفغال بنانے کے لئے جی اوزاور این جی اوز کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔خواتین میںشغو ر اجاگر کر نے کے لئے ورکشاپس منعقد کریں۔ سکولوں اور کالجوں کی سطح پر لیچکرز اور دوسرے مقابلوں کا اہتمام کریں۔تقریری، مضمون نویسی اور مکالماتی مقابلے منعقد کرائے جائیں۔سیاست کو خدمت کا ذریعہ کے طور پر خواتین میں متعارف کرا یا جائے۔خواتین کو بوقت ضرورت مالی معاونت بھی فراہم کریں ۔ترقی پسند اور روشن خیال سیاسی جماعتیں مختلف سطحوں پر خواتین کے لئے سیٹیں مقرر کریں۔آج کے دور میں ابلاغ عامہ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، حکومت یا کسی بھی تنظیم کے لئے ابلاغ کے ذرائع کا استعمال لنگڑے کی بے ساکھی کی طرح ہے جس کے بغیر وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ ذرائع ابلاغ کے نظام کو مخصوص، خود مختار اور غیر جانبدارانہ بناتے ہوئے ، انہیںاس مہم میں شامل کیا جائے۔انٹرنیٹ،مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن،بجلی اور ٹیلی فون کے بلوں کے پشت پر تشہیری مہم شروع کی جائے۔چترال میں خواتین کی شراکت داری کو وسیع تر بنانے کے لئے ابھی جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔وہ عوامل جو خواتین کے سیاسی عمل میں شرکت کی راہ میں رکاوٹ ہیں ، جیسے ثقافتی عوامل،دستوری عوامل کے اندر مثبت تبدیلی کی اشدضرورت ہے۔جس طرح وقتاً فوقتاً اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام کا ادارہ خواتین کی ترقی و عطائے اختیار کے لئے حکومت پاکستان کو فنڈز فراہم کر تا ہے اس کے دائرہ استعمال میں چترال کو بھی شامل کر لینا چاہئے۔ اکتوبر 2004ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور وزارت برائے ترقی خواتین پاکستان نے5.4ملین ڈالر ز کے ایک منصوبہ پر دستخط کئے ۔ اس منصوبے کا مقصد خواتین کے لئے "ویمنز پولیٹیکل سکول”کا قیام تھا۔اس قسم کے سکول کے قیام کا بنیادی اوراہم مقصد ان خواتین کے لئے سیاسیات کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام کرنا ہے جو سیاسی عمل میں حصہ لیتی ہیں۔اس سکول کے قیام اوائل سالوں میں,40,000نئی تحصیل ، یونین کونسل اور ضلعی سطح پر منتخب ہونے والی خواتین کو تربیت دی گئی۔یہ سکول لاہور میں قائم کیا گیا ہے ۔ اس سکول میںمنتخب ہونے والی تحصیل اور یونین کونسل اور ضلعی سطح کی خواتین کو نسلرزتعلیم و تربیت دی جاتی ہے ۔اس پروگرام کے تحت (جس کا ناروے کی حکومت اور یو این ڈی پی مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں ) تقریبا 80فیصد سے زائد ان منتخب خواتین کونسلرز کو جو مقامی حکومتوں کے انتخابات2000-2001میں منتخب ہوئی تھیں تربیت دی گئی۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ان چترالی خواتین کو اس قسم کے سکولوں میں تربیت کے لئے لے کر جانا چاہئے جو سیاسی عمل میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

*ختم شد*

تحریر(بسلسلہ مقابلہ مضمون نویسی): افسر خان
ای میل:
afsar.kn@gmail.com
مضمون بعنوان "سیاسی عمل میں چترالی خواتین کی محرومیوں کے اسباب”

جنرل پرویز مشرف

Monday, 18 August 2008

مستعفی صدر سابق جنرل پرویز مشرف کے قوم سے خطاب کا مکمل متن

 اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) مستعفی صدر پرویز مشرف نے پیر کو قوم سے خطاب میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ مستعفی صدر کے قوم سے خطاب کا متن درج ذیل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے عزیز ہم وطنو‘ بہنو اور بھائیو‘ السلام علیکمٓ

ملک آج جن حالات سے گزر رہا ہے مجھے بھی اور سب کو معلوم ہے۔ میں نے ملک کی باگ ڈور 9 سال قبل سنبھالی، اس وقت صورتحال کیا تھی، یہ ملک ایک دہشتگرد ریاست قرار دیاجانے والا تھا، یہ ملک معاشی لحاظ سے ناکام ریاست قرار دیا جانے والا تھا‘اس وقت میرے ذہن میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی خیال تھا کہ میری اس ملک سے بے پناہ محبت ہے اور میں نے سوچا کہ تقدیر میں اس ملک کو بچانا اور اسے ترقی کی طرف لے کر جانا ہے تو میں اپنے تن، من ،دھن کی بازی لگا دوں گا،

  کی مدد شامل حال رہتی ہے اور تمام مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔ پچھلے9 سالوں میں میں نے اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو جو درپیش چیلنجز اور بحران آئے ان کا سامنا کیا۔ میرے خیال میں نو سالوں میں جو چیلنجز پاکستان کے سامنے آئے ہیں، کسی اور وقت کسی اور پریڈ میں چیلنجز نہیں آئے ہیں ، چاہے وہ معاشی تباہی سے پاکستان کو بچانا ہو چاہئے وہ 2000ءکی خشک سالی کا مقابلہ کرنا ہو اور عوام کو مصیبتوں سے بچانا ہو، چاہے وہ 2001ءکی ہندوستان کے ساتھ محاذآرائی ہو، جس میں کہ جنگ کے بادل پاکستان کے آسمانوں پر پاکستان پر منڈلا رہے تھے10 مہینے کےلئے، اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو ،چاہئے وہ نائن الیون کا سانحہ ہو اور اس کے ”فال آﺅٹس“ (اثرات) کے اس تمام خطے اور خاص طور پر پاکستان پر، چاہئے وہ 2005ءکا زلزلہ ہوجس سے شمالی علاقہ جات اور کشمیر کو ترقی کی طرف واپس اور چیلنج کو ایک موقع کی طرح تبدیل کرنا ہو، ان تمام بحرانوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی۔ ہم نے ان تمام بحرانوں کا چیلنجزکا مقابلہ کیا اور ان سے نمٹا اور مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور اس کی عوام کو محفوظ رکھا۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو بھی حل دیکھا کسی مشکل کا ، کسی سانحہ کا ، کسی چیلنج کا اس میں ملک اور قوم کے مفادکو ہمیشہ ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ہوکر ملک کو اور عوام کو ترجیح دی۔ ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگایا، یہ نعرہ قوم کو دیا، یہ محض دکھاوا نہیں تھا، یہ میرے دل کی گہرائیوں کی آواز تھی اور اب بھی یہی آوازرہے گی، مستقبل میں بھی آواز سب سے پہلے پاکستان ہی رہے گی۔ اس ملک کے لئے پاکستان کےلئے دو جنگیں لڑیں اور ہمیشہ خون کا نذرانہ دینے کےلئے تیار رہے اور مجھے فخر ہے کہ اب بھی میرے میں یہی جذبہ قائم ہے اور آئندہ بھی یہی جذبہ رہے گا۔ بدقسمتی ہماری کچھ عناصر اپنے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے اوپر رکھتے ہیں۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات میرے پر لگائے، جھوٹ کو سچ ، سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کرتے رہے ، عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی، عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ، ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میرے خلاف تو شاید ان کو کامیابی مل جائے لیکن اس کا ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا انہوں نے کبھی احساس نہیں کیا۔ یہ عناصر وہ تھے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری تمام پالیسیاں پچھلے نو سال غلط رہی ہیں،معاشی تباہی کی طرف ہم جارہے ہیں وہ پچھلے آٹھ سال کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے ۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بجلی کا بحران بھی ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ یہ بلکل غلط اور ملک کے ساتھ فریب ہے۔ کچھ حقائق میں قوم کے سامنے رکھنا چاہوں گا ۔ سب سے پہلے تو معیشت کی بات کرنا چاہوں گا ۔ یہ وقت اس کی تفصیلات میں جانے کا نہیں ہے اس کی تفصیلات ایک پیپر میں لکھ دی ہیں وہ میں ریلیز کردوں گا پریس میں کہ آپ سب کو کہ آپ سب آگاہ ہوجائیں کہ اصل صورتحال ہماری معیشت کی کیا ہے لیکن فی الحال میں یہ کہنا چاہوں گا کہ معیشت کے حوالے سے چند باتیں دسمبر 2007ءیعنی 8 مہینے پہلے پر ذرا نظر ڈالیں۔ کیا حالت تھی؟ معیشت بالکل ٹھیک تھی بلکہ پختہ تھی آٹھ مہینے پہلے ، جی ڈی پی ہماری 7 فیصد اوسط سے بڑھ رہی تھی اور 63 ارب ڈالر سے 160، 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی ، ڈبل سے زیادہ، غیر ملکی زرمبادلہ کے ہمارے ذخائر 17 ارب ڈالر پر پہنچ گئے، ہماری ریونیو وصولیاں ایک ٹریلین یا ایک ہزار ارب روپے پر پہنچ گئی تھیں، ہماری سٹاک ایکسچینج انڈیکس تقریباً16 ہزار کے قریب پہنچ گیا تھا اور سب سے بڑی بات ایکسچینج ریٹ ایک ڈالر کی قیمت 8 سال تک 60 روپے کے اردگرد رہی۔ یہ ہماری اکانومی کی طاقت تھی اس کی وجہ سے یہ ساری (مین انڈیکیٹرز ) بنیادی اعشاریے جو میں نے آپ کو بتائے ہیں معاشی خوشحالی کے اعشاریے اور میں یہ آٹھ مہینے پہلے کی صورتحال آپ کو بتا رہا ہوں۔ اس وجہ سے دنیا کی اسسمنٹ ایجنسیز (Assesment Agencies) ، ایویلو ایٹنگ ایجنسیز (Evaluating Agencies) انہوں نے پاکستان کو این 11 میں قرار دیا ۔ این 11 ، نیکسٹ 11 اور یہ نیکسٹ 11 وہ ممالک دنیا کے جو برک ممالک کے بعد اور برک کون سے۔۔۔۔؟ برازیل، روس ، انڈیا، چین ، برکس۔۔۔ یہ چار تو پروگریسو اکانومیز ، ڈائی نیمک اکانومیز ان کے بعد پوری دنیا میں جو نیکسٹ 11 تھیں ان میں پاکستان کا بھی شمار کیا گیا ۔ یہ میں کوئی ایسی چیز نہیں بتا رہا ہوں اپنی طرف سے دنیا کے کسی ادارے میں معلوم کریں اور آپ کو پتہ ہوجائے گا صورتحال پاکستان کی، معیشت کی پختگی کی یہ صورتحال تھی آٹھ مہینے پہلے۔ یہ بحران معاشی بحران تو چھ مہینے پہلے شروع ہوا، ہماری فارن ایکسچینج ریزروز 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلی گئیں۔ ایکسچینج ریٹ جو آٹھ سال سے 60 روپے پے تھا آج 77 روپے پے چلا گیا ہے ۔ سٹاک ایکسچینج جو 15 ہزار 700 یا 16 ہزار کے قریب تھا آج 10 ہزار کے ارد گرد منڈلا رہا ہے ۔ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہورہی ہے، لوگ اپنا سرمایہ بیرون ملک لے جارہے ہیں۔ سرمایہ کار چاہے وہ اپنے لوگ ہوں یا باہر کے انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا ہے۔ اس کا اثر غریب عوام پے مہنگائی کی صورت میں سامنے ہے، آٹا، دال، گھی کی قیمتیں، ڈیڑھ سے دگنی ہوگئی ہیں اور ان سے عام غریب عوام کو تکلیفیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ یہ انٹرنیشنل بحران جس کا پاکستان کو بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ انٹرنیشنل بحران تیل کی قیمتوں کی وجہ سے ، فوڈ گرینز خاص طور پر گندم کی قیمتوں کی وجہ سے اور ہمارے لئے کھانے کے تیل بھی جو ہم درآمد کرتے ہیں کی قیمتوں کی وجہ سے یہ ضرور ہماری معیشت کے اوپر اثر انداز ہوا لیکن چونکہ ہماری معیشت پختہ تھی 2007 ءنومبر تک ہم نے یہ تمام دھچکے ہماری معیشت نے سہے اور اسی لئے ایکسچینج ریٹ بھی مستحکم رہا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھتے رہے، سب معاملات معاشی لحاظ سے ٹھیک چلتے رہے لیکن اب یہ (ڈاﺅن سٹرائیک) تنزلی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ کہنا کہ یہ پالیسی نو سال سے ہی خراب تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی یہ کہتا ہے پاکستان کیلئے نقصان دہ اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ بجلی کا بحران جو میں تفصیلی میں نہیں جانا چاہتا ہوں بجلی کی طلب میں چونکہ معاشی حالت بہتر ہورہی تھی، عوام میں ترقی ہورہی تھی، پیسے زیادہ ہوگئے تھے، تو بجلی کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے پچھلے سات آٹھ سال میں اور میں اعتراف کروں گا کہ اس کے مقابلے میں ہم نے اپنی (بجلی کی) پیداواری صلاحیت کو اسی رفتار سے اور مقدار میں نہیں بڑھا سکے لیکن یہ کہنا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا پچھلے نو سالوں میں یہ سراسر غلط ہے۔ تین ہزار میگاواٹ سے زیادہ جنریشن گزشتہ نو سال میں ہوئی ہے لیکن جیسے میں نے کہا کہ ناکافی رہی کیونکہ اقتصادی ترقی بہت تیز تھی اور بجلی کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ لیکن یہ کہنے کے بعد میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اب کیا صورتحال ہے۔ جون 2007 ءمیں ہم 14 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے تھے۔ جون 2008 ءمیں 10 ہزار میگاواٹ ہم پیدا کررہے ہیں ۔ کیوں؟ پیداواری صلاحیت وہی ہے لیکن ”سرکلر ڈیٹ“ کا مسئلہ ہوا ہوا ہے۔ پیسے نہیں مل رہے ہیں (بجلی)جنریٹ کرنے والی( نجی کمپنیاں ) آئی پی پیز کو اس لئے ان بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے بجلی پیدا کرنی کم کردی ہے تو لہذا یہ لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگئی۔ یہ حائق میں نے اس لئے بتائے کہ قوم کو خاص طورپر یہ دو باتیں جن کے اوپر ایک فضا بنائی جارہی ہے کہ پچھلی حکومت نے گزشتہ نو سال کے دوران کچھ بھی نہیں کیا یہ سراسر جھوٹ ہے، قوم کے ساتھ فریب ہے اور میں یہ کہوں گا کہ یہ ساری باتیں کھلیں تو قوم کو اور ملک کو اور زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔

اس لئے ماضی کو چھوڑیں آئندہ کو مستقبل کو دیکھیں یہ جتنے بھی معاملے ہیں یہ حل ہوسکتے ہیں، حکومت کو ان کا حل ڈھونڈنا چاہئے اور میں چاہتا ہوں کہ اور میری یہ دعا ہے کہ اور یہ کیونکہ یقین بنایا جاسکتا ہے اس لئے میری دعا یہی ہے کہ حکومت مستقبل کی طرف دیکھ کر ان مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے۔

بہنو اور بھائیو
کچھ اور حقائق میری نظر میں ہیں، میں ان پر نظر ڈالنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں‘ میں یہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے ان پچھلے نوسالوں میں ہر شعبے کی بہتری کیلئے‘ ہر شعبے کے (مسائل) پر توجہ دی اور ہر شعبے میں پاکستان کو آگے ترقی کی طرف لے کر گئے۔ ترقیاتی منصوبوں کی سب سے پہلے میں بات کرنا چاہوں گا، بہت اختصار کے ساتھ ۔ سڑکوں کو دیکھیں، مواصلاتی نظام کو دیکھیں۔ ایک ایم ٹو بنائی گئی تھی راولپنڈی سے لاہور تک، اس کا بہت چرچا ہوا تھا، اس کے علاوہ مجھے نہیں نظر آتا کہ پہلے کیا گیا تھا اس ملک میں‘ لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان نو سالوں میں ساڑھے سات سو کلو میٹر کی کوسٹل ہائی وے بنائی گئی۔ ایم ون پشاور سے راولپنڈی اسلام آباد سڑک بنائی گئی، ایم تھری لاہور سے فیصل آباد کی طرف سڑک بنائی گئی، اسلام آباد مری ایکسپریس وے بنائی گئی۔ کراچی نادرن بائی پاس بنایا گیا۔ لواری ٹنل زیرتعمیر ہے، گوادر سے رتوڈیرو نوسوپچاس کلو میٹر کی سڑک زیر تعمیر ہے، شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئی ہیں جو چترال، گلگت ، ہنزہ، سکردو کو آپس میں ملاتی ہیں اور ان کے علاوہ کراچی ، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد کی طرف نظر ڈالیں تو سڑکوں کا نظام، کتنی ترقی کررہا ہے یہ آپ خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔ آبی منصوبوں کو لے لیں، جس کے بارے میں کچھ نہیں کیا جارہا تھا اس سے پہلے، تیس سال گزر گئے ہم نے بڑے ڈیم بنائے تھے، اب اللہ تعالی کے فضل وکرم سے میرانی ڈیم تیار ہوگیا ہے، سبکزئی ڈیم تیار ہوگیا اس کا افتتاح ہوگیا، ست پارہ ڈیم سکردو میں تیار ہوکر اس کا افتتاح ہوگیا ، منگلا ڈیم کی اونچائی مکمل ہوگئی ہے آج کل ادھر پانی بھرا جارہا ہے ، تیس فٹ زیادہ پانی اس کی اب پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت دوگنا ہوجائے گی اس سے جتنا زیادہ آبپاشی کو فائدہ ہوگا وہ آپ خود ہی جانتے ہیں۔ گومل زام ڈیم بنایا جارہا ہے ۔ اگر نہروں کو لیا جائے تو کچھی کینال بنایا جارہا ہے، ساٹھ ستر فیصد تک مکمل ہے تقریباً اس سے سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔ رینی کینال بن رہا ہے۔ ٹل کینال بن رہا ہے، یہ کینال جب بن جائیں گے اور ڈیمز جو بن گئے ہیں یہ مجموعی طورپر تین ملین ایکڑ زمین، غیر کاشت شدہ زمین کو سیراب کریں گے۔ اس کا ہماری زراعت کو کیا فائدہ ہوگا اس کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔ تیس لاکھ ایکڑ غیر کاشت شدہ زمین اس سے سیراب ہوگی۔ اس کے علاوہ کھالوں کو پختہ کرنے کا عمل چاروں صوبوں میں جاری ہے۔ ستر فیصد مکمل ہوگیا ہے۔ 65 ارب روپے کا یہ منصوبہ تھا اس سے بھی کاشتکاروں کا فائدہ ہے جو آخری سرے پر کاشتکار ہیں ان کا فائدہ ہوگا۔ گوادر بندرگاہ بن چکی ہے، نئے ہوائی اڈے بن رہے ہیں کچھ بنائے گئے ہیں، کچھ کو بہتر بنایا گیا ہے، ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب آگیا ہے۔ پانچ سال پہلے پانچ چھ لاکھ موبائل فون ہوتے تھے آج آٹھ کروڑ موبائل ٹیلی فون ہیں، ٹیلی ڈینسٹی 2.9فیصد تھی جو آج پچاس فیصد سے زائد ہے یہ ایک انقلاب ہے۔ یہ تھی ترقیاتی منصوبوں کی بات۔

صنعت کو دیکھیں ہرطرف صنعتیں‘ ہرطرف انڈسٹری پھیل رہی تھی لوگوں کو نوکریاں مل رہی تھیں، سرمایہ کاری آرہی تھی، اسی سے اندازہ لگائیں کہ کسی ہوٹل میں جائیں۔ تو سو فیصد کمرے بک ہوتے تھے اس کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی چار پانچ ہوٹل بنائے جارہے تھے۔ یہ صورتحال تھی سرمایہ کاری کی پاکستان میں اور چونکہ انڈسٹری یہاں لگ رہی تھی، بیرون ملک سے لوگ آرہے تھے ۔ ملک کے اندر اور باہر سے لوگ صنعتیں لگا رہے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو نوکریاں مل رہی تھیں، جب نوکریاں مل رہی ہوں تو بیروزگاری میں کمی آتی ہے۔ بے روزگاری کام ہونے سے غربت کم ہوتی ہے۔ جو 34 فیصد سے کم ہوکر 24 فیصد پر آگئی۔ یہ صورتحال تھی عوام کی بہتری اور خوشحالی کی، تعلیم کے شعبے کو اگر دیکھا جائے تو اس کی تفصیلات میں میں نہیں جانا چاہتا ہوں ، خواندگی کے مسئلے کو بحال کررہے تھے ، ہم سیکنڈری، پرائمری سطح پر توجہ دے رہے تھے لیکن میں یہاں پر صرف دو چیزوں کا ذکر کروں گا۔ فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت اس کا جال پھیل رہا تھا نیوٹیک کے نیچے اس میں آرمی بھی شامل تھی ، بورڈ اس میں شامل تھے کئی ہزار بچے ووکیشنل ٹریننگ لے رہے تھے اور ان کو نوکریاں مل رہی تھیں، ہنر سیکھ رہے ہیں اور پیسے کما رہے ہیں۔ یہ صورتحال تھی ٹیکینکل ایجوکیشن اور ووکیشنل ایجوکیشن کی، ہائر ایجوکیشن کا اگر میں نے ذکر نہ کیا تو بہت زیادتی ہوجائے گی۔ ہائیرایجوکیشن میں دو باہر کی یونیورسٹیاں، ترقی یافتہ ممالک کی ،ہمارے ساتھ مشترکہ منصوبہ کے تحت آغاز کررہی تھیں۔ معاہدے ہورہے تھے اور وہ آنے کو تیار تھیں ،اراضی مختص کی جا چکی ہے ، پیسے مختص ہوچکے تھے، اور آگے کی ہم سوچ رہے تھے۔ اور اس کے علاوہ ایک پی ایچ ڈی پروگرام جو کہ ایک بہترین پروگرام ہے، جبکہ پہلے دو تین درجن پی ایچ ڈی سائنس اور انجینئرنگ کے مضامین میں ہوتے تھے آج فخر سے کہتا ہوں کہ ہمارا ہدف ڈیڑھ ہزار پی ایچ ڈی سالانہ 2010 ءتک بنایا ، اور میں یہ بات بھی فخر سے کہتا ہوں کہ تقریباً تین ساڑھے تین سو پی ایچ ڈی ملک واپس آگئے ہیں اور اس وقت تقریباً ایک ہزار پی ایچ ڈی پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ تعلیم کے شعبے میں۔

 پھر صحت کا شعبہ، اس میں میں یہی کہوں گا کہ ہم نے پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو ترجیح دی ، اس میں بے شمار بنیادی مراکز صحت ، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو قائم کیا اور سب سے بڑی بات کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ جس میں ہم نے پانی صاف کرنے کے پلانٹ پورے پاکستان بھر میں جال پھیلانے کا منصوبہ بنایا اس پر اربوں روپے لگائے گئے ہیں۔ ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ یونین کونسل تک چھ ہزار پینے کا صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹ لگائے جائیں تاکہ یہ جو بیماریاں پھیلتی ہیں پینے کے پانی سے ، اس سے لوگوں کو عوام کو محفوظ رکھا جاسکے، یہ منصوبہ الگ تھا، خواتین کے شعبہ کی میں ضرور ذکر کرنا چاہوں گا، اس میں کیا ہوا ، خواتین کو بااختیار بنانے ، خواتین کی ترقی کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا جب تک کہ ہم خواتین کو جائز رول نہ دے سکیں اور برابری نہ دے سکیں۔ اس شعبہ میں ہم نے تین نکاتی حکمت عملی اختیار کی یعنی، سیاسی طورپر باختیار بنانا، معاشی طور پر بااختیار بنانا اور قوانین میں ترمیم لاکر خواتین کے ساتھ جو زیادتیاں ہورہی تھیں ، امتیازی قوانین کو ٹھیک کرنا۔ سیاسی طورپر بااختیار نہ بناتے تو آج جو بھی خواتین چاہے وہ اپوزیشن میں ہی بیٹھی ہوئی ہیں، چاہے وہ اتحادی حکومت کی ہیں سب کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہماری پالیسی خواتین کو بااختیار بنانے کی جس میں ان کیلئے مخصوص نشستیں بنائی گئیں۔ لوکل گورنمنٹ لیول پر، صوبائی سطح پر، قومی سطح پر سینٹ میں جس کی وجہ سے وہ آج یہاں بیٹھی ہوئی ہیں اور اپنی آواز بلند کرسکتی ہیں۔ جیسا کہ معاشی طور پر انہیں بااختیار بنانے اور امتیازی قوانین کے بارے میں میں نے آپ کو بتا دیا، عزت کے نام پر قتل اور حدود آرڈیننس کو بھی ہم نے جائز طریقے سے اسلامی نظریے کے مطابق، اقلیتوں کا بھی ہم نے خیال رکھا ان کو بااختیار بنایا وہ بھی خوش ہیں۔ کیونکہ ہم نے ان کو مخلوط طرز انتخاب دے دیا اور دوہرا فائدہ دیا کہ وہ اپنی مخصوص نشستیں بھی قائم رکھیں۔ ثقافت اور ورثہ اس کو بھی ہم نے فروغ دیا اس کو بھی ہم نے نظرانداز نہیں کیا ، ہر ملک کو اپنے ورثہ اور ثقافت کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ دنیا بھی دیکھے کہ ہم نئی عوام اور قوم نہیں ہیں ہماری ایک بھرپور تاریخ اور ثقافت ہے، اس میں آپ دیکھیں گے کہ ہم نے قائداعظم کے مزار کے ساتھ ہم نے بہتری کی جس کی وجہ سے وہاں ہزاروں لوگ ہر شام بیٹھ سکتے ہیں اور تفریح کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں آپ دیکھیں یہاں ایک ثقافتی میوزیم بنایا جس میں ہزاروں لوگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کیا ہے اور ہماری ثقافت کیا ہے، علاقائی ثقافت کیا ہے پھر ہم نے یہاں قومی یادگار بنائی ہے جو خوبصورت یادگار ہے لوگ وہاں جاتے ہیں اس کے ساتھ ایک اور میوزیم بنایا گیا ہے جو تحریک پاکستان کے بارے میں عوام کو اور آنے والی نسلوں کو بتائے گا، ہم نے یہاں ایک آرٹ گیلری کھولی ہے جو دنیا کے لوگ وہاں آتے ہیں اسے دیکھتے اور حیران ہوتے ہیں کہ یہ اتنی زبردست آرٹ گیلری کھولی ہے اگر آپ لاہور جائیں تو بہت خوبصورت باغ پاکستان بنایا جا رہا ہے، والٹن میں بنایا گیا ہے، یہ خوبصورت قومی یادگار ایک سال بن کر سامنے آیا ہے، کراچی جائیں تو وہاں نیپا ”نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ “ یہ ہم نے بنائی ہے اور اس میں فخر سے کہتا ہوں کہ آج پرفارمنگ آرٹ جسے بعض لوگ عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے آج پڑھے لکھے جوان ، بچے بچیاں یہاں سے ڈگریاں لے رہے ہیں۔ تین سال کا کورس کر کے ڈگریاں لے رہے ہیں۔ یہ ہم نے پرفارمنگ آرٹ کو فروغ دیا ہے اور ثقافت اور ورثہ کو آگے لے کر گئے ہیں۔

جمہوریت کی بات بہت ہوتی ہے ،میں فوجی ہوں، میرے خلاف یہ ہے کہ میں جمہوریت کے خلاف ہوں میرے خیالات اس کے بالکل برعکس ہیں، پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی وہ صرف بوتل پر جمہوریت کا لیبل تھا اس بوتل کے اندر جمہوریت کی روح نہیں ہوتی، ہم نے گذشتہ نو سال کے اندر اس میں جمہوریت کی روح ڈالی۔لوکل گورنمنٹ کا نظام متعارف کرایا، لوکل گورنمنٹ کا نظام وہ ہے جو پالیسی تشکیل دینے اور اس پر عملدرآمد میں جو خلاءتھا اس کو پورا کرتا ہے۔یہاں اسلام آباد میں یا صوبائی درالحکومتوں میں بیٹھ کر پالیسیاں تو بہت بنتی تھیں لیکن نچلی سطح پر ان پر عملدرآمد یونین کونسل کی سطح پر ، گاں کی سطح پر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔یہ وہ ا یک ادارہ ہے جس نے عملدرآمد کے اس خلاءکو دور کیا۔ میری نظر میں جو شخص کوئی فرد اس کے خلاف بولتا ہے اس کے خلاف کارروائی کریںگے وہ میرے خیال میں پاکستان کے ساتھ پاکستان کو نقصان پہنچائے گا۔ہم نے دو انتخابات کرائے، سینٹ میں نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ، لوکل گورنمنٹ دو مرتبہ انتخابات کرائے اور تمام نے اپنی مدت پوری کی،اس کے علاوہ میں نے اقلیتوں اور خواتین کو با اختیار بنانے کے بارے میں پہلے بتا دیا ہے۔ یہ جمہوریت اس کی حقیقی روح کی میں بات کر رہا ہوں جسے ہم نے متعارف کرایا ہے۔ 
دنیا میں پاکستان کا رتبہ 1999ءسے پہلے کہاں تھا، پاکستان کی کوئی پہچان نہیں تھی، پاکستان کو کوئی جانتا نہیں تھا، پاکستان کی بات کوئی سنتا نہیں تھا، ہم نے پاکستان کو ایک رتبہ دیا،ہماری بات سنی جاتی ہے، فورمز پر جب ہم جاتے ہیں تو ہماری بات کی ا یک اہمیت ہوتی ہے تولہذا پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ڈال دیا اور اس کو اہمیت دی، اس کو رتبہ دیا، جو آج بھی اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہے۔ امن وامان کی بات بہت ہوتی ہے ، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس میں ہم اپنی پوری کوشش کی اور کچھ کامیابیاں ہوئیں، امن و امان نافذ کرنے والے اداروں کو ہم نے چاہے وہ سول آرمڈ فورسز ہوں یا پولیس، پولیس میں بھرتیوں میرٹ پر مبنی، ان کی تربیت اس میں بہتری ان کیلئے ساز وسامان، ان کی استعداد کار میں اضافہ، فرینزک لیبارٹریاں کھولیں اور سول آرمڈ فورسز کی ان کی آرگنائزیشن بہتر کی اور ان کیلئے اسلحہ اور تربیت بہتر بنائی اس کے نتیجے میں میرے خیال میں جو کامیابی ملی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جو بھی کوئی اہم شخصیت جاتی تھی تو اس کے آگے پیچھے کلاشنکوف پکڑے ہوئے ہڈ پہنے ہوئے بعض اوقات لوگ ان کے آگے پیچھے گھوم رہے ہوتے تھے سڑکوں اورہوائی اڈوں پراور سب لوگوں کو پریشان کرتے تھے اور اگر کوئی جلسہ ہو رہا ہے تو وہاں سو آدمی ہڈ پہنے ہوئے کلاشنکوف پکڑے ہوئے کھڑے ہوتے تھے، یہ کیسا ملک چل رہا تھا،وہ الحمد اﷲ سب سلسلہ ختم ہوگیا تھا،اسلحہ کی نمائش ، کلاشنکوف کی نمائش اور نقاب پوش لوگوں کی عوامی جلسوں میں سڑکوں پر کہیں نظر نہیں آتے تھے، یہ کامیابی ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ستمبر گیارہ کے بعد ایک نیا دہشت گردی کا کردار بدقسمتی سے شروع ہوا، خود کش حملوں کے سلسلے سے نمٹنا پڑے گا۔ پوری قوم کو مل کر امن امان نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دے کر سے نمٹنا پڑے گا۔ یہ تمام کامیابیاں تھیں جن پر مجھے فخر ہے،دنیا کے رتبے کی اگر میں نے بات کی ہے تو اس کا ثبوت آپ ڈونرز کانفرنس پر نظر ڈالیں جو زلزلے کے بعد ہم نے ڈونرز کانفرنس بلائی،80 ممالک کے نمائندے اور مندوب آئے جبکہ ہمیں پانچ ارب ڈالر کی ضرورت تھی ہمیں ساڑھے چھ ارب ڈالر دینے کے وعدے کئے گئے، یہ ہمارا رتبہ تھا، یہ پاکستان کی پوزیشن تھی اور جیسے میں نے کہاکہ ان کامیابیوں پر مجھے فخر ہے۔ حکومت کو فخر ہے اور یہ تمام کامیابیاں پاکستان اور پاکستان کے عوام کیلئے کی گئیں۔

اب کچھ ان باتوں کے بعد موجودہ صورتحال پر آتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی دنگل میں شروع سے میری کوشش مفاہمت کی رہی ہے، یہی میری کوشش تھی کہ مفاہمت کی فضاءبنائی جائے، اس کا ثبوت میرا اپنا رویہ ذاتی سطح پر اور ادارے کی سطح پر ، ذاتی سطح پر اپنے اس رویے کی میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا، جو میں کہنا چاہا رہا ہوں لوگ وہ سمجھیں، کوئی انتقامی کارروائی، کوئی بدلہ لینے کا رویہ اختیار نہیں کیا اور میں نے ذاتی طور پر بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا، ہم تین مراحل میں تبدیلی کی بات کی تھی کہ 1999ءسے بتدریج تبدیلی لاءوں گا اور بتدریج جمہوری عمل کو فروغ دیا جائے یہی تین مرحلوں کا پروگرام چلتا رہا، اس کا تیسرا مرحلہ آیا جس میں نے بری فوج کے سربراہ عہدے کو چھوڑا اور پھر 18 فروری کو ایک بہت شفاف اور صاف انتخابات کرائی جو پوری دنیا مانتی ہے کہ اس ملک میں سب سے شفاف اور صاف انتخابات ہوئے اور ان انتخابات کے بعد بہت خوش اسلوبی سے اختیارات منتقل کر دیئے گئے۔یہ ثبوت ہے ہمارا اور میرا ذاتی طور پر یقین مفاہمت اور مفاہمت کی فضاءکو قائم کرنے کیلئے کوشش رہی۔

18 فروری کے انتخابات کے بعد عوام کی کچھ امیدیں، امنگیں اپنے منتخب نمائندوں اور حکومت کی طرف سے وابستہ ہوئیں۔ وہ کیا امیدیں تھیں؟ وہ کیا امنگیں تھیں؟، وہ چاہتے تھے کہ مسائل کا حل ملے، ماضی کو چھوڑا جائے، مستقبل کی طرف دیکھا جائے۔ پاکستان اور پاکستان کی عوام کو اور خاص طور پر غریب عوام کو ترقی کی طرف لے کر جایا جائے۔ بے روزگاری کم کی جائے، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے، کشیدگی ختم کی جائے، یہ ان کی امیدیں ہیں وابستہ تھیں حکومت سے اور اپنی منتخب نمائندوں سے۔ بدقسمتی میری تمام اپیلوں، مفاہمت کی طرف اور میری اپیلوں کہ پیچیدہ مسائل کو حل کیا جائے، ماضی کو چھوڑ کر مستقبل کو دیکھا جائے اور اس کے بارے میں سوچا جائے اور تمام کوششیں ، طاقتیں پیچیدہ مسائل پر لگا کر ان پر صرف کی جائیں لیکن میرے خیال میں بڑے افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ میری یہ تمام کوششیں ناکامیاب ہوئیں۔ کچھ عناصر ایسے تھے جو معیشت اور اکانومی کے ساتھ دہشت گردی کے ساتھ سیاست کھیل رہے ہیں۔نقصان پاکستان کا ہے، نقصان پاکستان کی عوام کا ہے۔مفاہمت کی بجائے تصادم کی فضاءشروع ہوگئی ، ایک انتقام میں بدلہ لینے کے بہانے مجھ پرالزام لگایا گیا کہ ایوان صدر سے سازشیں ہوتی ہیں یہ بالکل بے بنیاد الزام حقائق کے بالکل برعکس اور منافی ہے، میں بتانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے تو آپ یہ د یکھیں کہ شفاف اور صاف انتخابات 18 فروری کو ہوئے جس میں تمام جماعتوں اور لوگوں نے شرکت کی، حصہ لیا اور اس میں تمام لوگوں کی شمولیت میں نے ہم نے ممکن بنائی۔ اگر کوئی سازش ہوتی تو ہم یہ کیوں کرتے؟ کیوں فیئر کرتے؟کیوں سب کو انتخابات میں حصہ لینے دیتے؟ وزیراعظم کے انتخاب کو دیکھیں بلا مقابلہ کیسے انتخاب ہوگیا۔اپوزیشن نے بھی،سندھ اسمبلی کی کوششوں کو دیکھیں، ا یم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی اور دیگر تمام جماعتوں کی، بلوچستان کو دیکھیں یہ تمام کلچر آف ڈی سینسی دیکھیںاپوزیشن کی طرف سے، صحت مند اپوزیشن اسمبلی میں، اس میں بجٹ میں بھی پاس ہوگیا اپوزیشن نے اس کی حمایت کی، یہ تمام کیسے ممکن ہوئے؟ اگر میں سازشیں کر رہا ہوں حکومت کے خلاف اور افراد کے خلاف، میں نے عوام کے سامنے اپنی حمایت کا حکومت کیلئے اعلان کیا، وزیراعظم کیلئے حمایت کا اعلان کیا اور میں نے یہ تک کیا ہے کہ ان آٹھ سالوں میں میرا جو بھی تجربہ ہے وہ حکومت کو دینے کیلئے تیار ہوں، میری کوشش رہی ہے کہ کوئی سرمایہ ہے ، میرے اندر کوئی قابلیت ہے تو وہ میں حکومت کے حوالے کروں تاکہ جو پیچیدہ مسائل ہیں چیلنجز ہیں ، بحران ہے ، اس کی طرف میری کوشش ہو جائے حکومت کے ساتھ لیکن بدقسمتی سے اتحادی حکومت نے یہی سمجھا کہ میں ایک مسئلہ ہوں، حل نہیں۔

اب یہ میر امواخذہ کرنا چاہتے ہیں کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ میرے آئینی حق سے خوفزدہ ہیں، یہ آئینی حق ہے مجھے بہت سے چیزوں کا ،کیا یہ اپنے موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں کیا یہی ان کا مقصد ہے؟

میری بہنوں اور بھائیو!
مواخذہ اور چارج شیٹ دینا پارلیمنٹ کا حق ہے اور اس کا جواب دینا میرا بھی حق ہے، مجھے اپنے آپ پر یقین ہے اور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ ہے کہ کوئی بھی چارج شیٹ میرے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتی، کوئی ایک الزام بھی میرے خلاف ثابت نہیں ہوسکتا۔ مجھے اتنا اپنے آپ پر بھروسہ ہے کیونکہ میں نے اپنی ذات کیلئے کبھی کچھ نہیں کیا جو کچھ میں نے کیا وہ پاکستان کمز فرسٹ ، سب سے پہلے پاکستان، اس نظریے اور سوچ او رانداز کے ساتھ کیا۔عوام خاص طور پر غریب عوام ان کا درد ہمیشہ دل میں رکھا۔ ہر فیصلہ مشاورت سے کیا۔ تمام فریقین کو ساتھ ملا کر کیا۔ ہر فیصلے میں پیچیدہ ترین فیصلہ، خطرناک ترین فیصلہ اس میں پورے اعتماد کے ساتھ عوام کو کہتا ہوں کہ تمام فریقین کو اعتماد میں لیا اور یہ بات میری سنیں اور مانیں۔ وہ ”سٹیک ہولڈرز “ فوجی ہوں ،فوجیوں کو ہمیشہ اعتماد میں لیا۔ سیاستدان ہوں، سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا۔بیورو کریٹس ، سول سرونٹس ہوں ان کو اعتماد میں لیا۔سول سوسائٹی کے ارکان کو اعتماد میں لےا، بلا کر ان سے مشورہ کیا، علماءکو اعتماد میں لیا جس بھی معاملے میں ان کا تعلق تھا تو تمام فریقین کو جو بھی معاملے سے متعلقہ تھے ان سے ہمیشہ مشاورت کی اور پھر فیصلوں پر پہنچے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ جو چارج شیٹ ہے اس کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ کوئی ایک بھی الزام میرے خلاف ثابت نہیں کیا جا سکتا اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے۔

لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ مواخذہ کے اس معاملے کو ایک ذاتی انا کا مسئلہ بنایا جائے،اس کا ملک پر کیا اثر ہوگا، یہ سوال آتا ہے، یہ دو سوال اٹھتے ہیں میرے ذہن میں،کیا ملک مزید عدم استحکام ، غیر یقینی برداشت کر سکتا ہے؟ کیا ملک مزید تصادم کی فضاءسہ سکتا ہے، کیا ملک کی معیشت اور زیادہ مزید دباءو  برداشت کرسکتی ہے، کیا یہ صحیح ہوگاکہ صدر کا آفس قوم کی وحدت کی علامت ہے۔اس کو مواخذے کے عمل سے گزارا جائے کیا یہ صحیح ہوگا ، کیا یہ دانشمندانہ اقدام ہوگا، مجھے کچھ سال چند دنوں سے یہ سوالات میرے ذہن میں گھوم رہے ہیں اور میں سوچتا ہوں کی یہ شخصی مفاد میں بہادری دکھانے کا وقت نہیں۔ سنجیدگی کا وقت ہے۔ سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے، مواخذے میں میں جیتوں یا ہاروں، قوم کی ہر صورت میں شکست ہوگی۔ملک کی آبرو عزت پر ٹھیس آئے گی۔ صدر کا دفتر صدر کے دفتر کے وقار کو میری نظر میں بھی ٹھیس آ سکتی ہے۔ پاکستان میرا عشق ہے، پہلے بھی اور اب بھی اس ملک کیلئے اس قوم کیلئے جان حاضر رہی۔44 سال میں نے جان کو داﺅ پر لگا کر پاکستان اور اس کی قوم کی حفاظت کی ہے اور کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال اور سوچ ذہن میں آتے ہیں‘ بعض اوقات سوچتا ہوں کہ ملک جس بحران سے گزر رہا ہے میں کچھ کروں‘ اس ملک کو اس بحران سے نکالوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس بحران سے ملک کو نکالا جاسکتا ہے‘ اس میں صلاحیت ہے‘ اس کی عوام میں صلاحیت ہے اور اس کو اس بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ بعض دفعہ سوچتا ہوں کہ میں کچھ کروں کہ اس بحران سے اس ملک کو نکالوں‘ بعض دفعہ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز بھی نہ کروں جس میں کہ غیر یقینی کی فضا اور لمبی ہو جائے یہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا خیال بھی میرے ذہن میں آتا ہے کیوں اپنے ساتھیوں کو ایک مشکل امتحان میں ڈالوں‘ اس کا بھی خیال میرے ذہن میں آتا ہے۔ مواخذہ اگر ناکام ہو بھی جائے میری نظر میں حکومت کے تعلقات ایوان صدر سے کبھی ٹھیک نہیں ہونگے‘ کشیدگی رہے گی۔ ملکی اداروں میں کشیدگی رہے گی‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ریاستی ستونوں میں یعنی پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی ہو جائے‘ اختلافات ہو جائیں اور خدانخواستہ فوج بھی اس معاملے میں نہ گھسیٹی جائے جو کہ میں کبھی نہیں چاہوں گا لہٰذا اس تمام صورتحال کا جائزہ لے کر اپنے قانونی مشیروں سے‘ قریبی سیاسی حمایتیوں سے مشاورت کرکے اور ان کی ایڈوائس لے کر ملک اور قوم کی خاطر میں آج عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتا ہوں۔ میرا استعفیٰ آج سپیکر قومی اسمبلی کے پاس پہنچ جائے گا‘ مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے‘ کوئی غرض نہیں ہے‘ میں اپنے مستقبل کو قوم اور عوام کے ہاتھوں میں چھوڑتا ہوں‘ انہیں فیصلہ کرنے دیں اور انہیں انصاف کرنے دیں۔ میں اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جارہا ہوں کہ میں جو کچھ بھی اس ملک‘ اس قوم‘ عوام کے لئے کر سکتا تھا وہ میں نے دیانتداری‘ ایمانداری کے ساتھ کیا‘ ہر کچھ وہ کیا ایمانداری اور دیانتداری سے لیکن میں بھی انسان ہوں‘ ہو سکتا ہے کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں‘ مجھے امید ہے کہ قوم اور عوام ان کوتاہیوں سے درگزر کرےں گے‘ اس یقین کے ساتھ کہ میری نیت ہمیشہ صاف رہی‘ میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا‘ کوئی کوتاہی ہوئی ہوگی تو وہ غیر ارادی طور پر ہوئی ہوگی۔ مجھے آج جبکہ یہ تسلی ہے اور اطمینان ہے‘ مجھے رنج اور پریشانی یہ ضرور ہے کہ پاکستان تیزی سے پیچھے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے‘ غریب عوام پسا جارہا ہے‘ اس کا مجھے دلی رنج‘ پریشانی ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت ان کو ان پریشانیوں سے نجات دلانے کی طرف پوری کوشش کرے گی۔ میری دعا ہے کہ حکومت اس تنزلی کو روکے اور اس بحران سے کامیابی سے اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو چھٹکارہ دلائے۔

مجھے آج انتہائی خوشی ہے کہ آج میں ایک متحرک اور فعال میڈیا چھوڑ کے جارہا ہوں‘ مجھے امید ہے کہ جس طریقے سے یہ آزادی چل رہی ہے اتنی ہی ذمہ داری کے ساتھ آئندہ بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ میرے بہت سے حمایتی اور خیر خواہ اور کچھ آراءپر مشتمل سروے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ تقریباً 80,85 فیصد لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مجھے رہنا چاہیے۔ میرے حمایتیوں کو ہو سکتا ہے کہ توقع کسی اور فیصلے کی ہو اور ہاں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت میرے حمایتی اور خیر خواہ مجھے کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے۔ میں صرف ان سے یہ کہوں گا کہ میرے اس حقیقت پسندانہ فیصلے کو ملک و قوم کی خاطر قبول کریں۔ اگر ذاتی مفاد میں ہوتا تو میں ہو سکتا ہے کچھ اور کرتا لیکن جیسے میں نے کہا سب سے پہلے پاکستان‘ تو لہٰذا ” سب سے پہلے پاکستان“ ہمیشہ رہے گا اور میرے خیال میں اس وقت کا تقاضا یہی ہے جو میں نے فیصلہ کیا ہے۔ تمام دلائل میں نے آپ کے سامنے کھل کر دل کی آواز آپ کے سامنے کھل کر آج بتا دی ہے۔ میری نظر میں پچھلے کچھ مہینوں سے ایک خلفشار میرے ذہن میں تھا‘ میرے دل میں تھا اس قوم کے لئے‘ قوم کی عوام کے لئے میرے دل میں ہو رہا تھا کہ کس طرف جارہے ہیں‘ کہاں ہم اونچائی کی طرف جارہے تھے‘ کہاں میں سوچ رہا تھا کہ یونیورسٹیاں کھل جائیں گی یہاں‘ بچے تعلیم اور بہترین تعلیم کی طرف جائیں گے‘ عوام کی بہتری ہوگی‘ ان کی صحت بہتر ہوگی اور سماجی بہتری کی طرف جائیں گے‘ کہاں ہمیں اوپر جاتے ہوئے دنیا دیکھ رہی تھی اور اب ہم کہاں جارہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میرے بغیر بھی یہ قوم ‘ یہ عوام اتنی طاقت کے ساتھ اٹھے گی جو طاقت اور صلاحیت اس ملک نے ہمیشہ دکھائی ہے چاہے 1947ءکی آزادی ہو جبکہ یہ سمجھا جارہا تھا کہ یہ ملک نہیں رہے گا لیکن یہ قوم اور عوام تھی‘ لوگ تھے‘ اس کی طاقت تھی‘ اس کی صلاحیت‘ ہمت‘ جرات تھی جو پاکستان کو آگے لے کر گئی۔ آج بھی وہی جرات ‘ وہی ہمت چاہیے۔

مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت ہے‘ ہمارے پاس وسائل ہیں کہ ہم جو بھی مسائل ہیں‘ جو چیلنجز ہیں‘ جو بین الاقوامی فضا کی وجہ سے کا ہم مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت بھی ہماری میکرو اکانومی ٹھیک ہے‘ نیچے بہت چلی گئی ہے لیکن یہ ریل جو پٹڑی سے اتری ہوئی ہے اس کو ہم واپس پٹڑی پر ڈال سکتے ہیں‘ مجھے پورا یقین ہے لیکن اگر ہم مفاہمت کی اس فضا میں نہ پڑے‘ تصادم کا شکار رہے ‘ اس ملک کو دھوکہ دیتے رہے‘ عوام کو دھوکہ دیتے رہے تو ہم کچھ کر دکھانے میں ناکام ہو جائیں گے اور میرے خیال میں اس ملک کی قیادت کو عوام کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس موقع پر میں افواج پاکستان‘ آرمی ‘ نیوی ‘ ایئرفورس کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ جتنی انہوں نے مجھے محبت‘ مجھے احترام‘ عزت اور میرا کہا مانا‘ اپنائیت دی میں اس کو کبھی نہیں بھول سکوں گا اور جس دلیری سے جس بہادری سے‘ جس حب الوطنی سے افواج پاکستان نے ہمیشہ اس ملک کو بچایا ‘ عوام اور لوگوں کی حفاظت کی‘ اس ملک کی حفاظت کی‘ اپنی جانوں کا نذرانہ‘ قربانیاں دی ہیں اس کے لئے تمام قوم اور میں افواج پاکستان کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ امن و امان نافذ کرنے والے تمام ادارے‘ پولیس‘ سول آرمڈ فورسز جس دلیری اور بہادری سے دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہیں‘ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں‘ قربانیاں دیتے ہیں‘ یہ بے مثال ہے‘ میں ان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

میں شکر گزار ہوں میرے تمام سیاسی اور غیر سیاسی رفقاءکا جنہوں نے مجھے دور صدارت یا حکومت چلانے میں مدد کی‘ میرا ساتھ دیا اور مشکل وقت میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ میں ان کو کبھی بھلا نہ سکوں گا۔ میں تمام سول سرونٹس کو‘ بیورو کریٹس کا بھی شکر گزار ہوں‘ جن کے تعاون‘ جن کا کردار تمام حاصل کردہ اہداف میں حکومت کے نو سال میں‘ تعمیر و ترقی میں وہ انتہائی لائق تحسین ہے‘ میں ان سب کا بھی شکر گزار ہوں۔ میرے اپنے ساتھی ‘ میرا سٹاف جس محنت اور وفاداری کے ساتھ میرا ساتھ دیا اور میرے کام کو آسان بنایا‘ میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور میں ان کو کبھی بھول نہیں سکتا۔

پھر اس قوم ‘ عوام‘ پاکستان کے عوام خاص طور پر غریب‘ انہوں نے بھی بے پناہ محبت مجھے دی اور اپنائیت دی‘ مجھے احترام دیا‘ مجھے پیار دیا‘ ان کو میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا اور اس لئے بھی کہ میں بھی کیونکہ عوام میں سے ہوں۔ میں کسی اونچے خاندان سے نہیں آیا‘ کوئی آسمان سے زمین پر نہیں آیا ہوں‘ میں ایک مڈل کلاس آدمی ہوں اور مڈل کلاس سے ابھرا ہوں‘ میں اس عوام میں سے ہوں۔ اس لئے مجھے ان کے دکھ درد کا ہمیشہ احساس رہتا ہے اور مجھے مشکلات‘ زندگی کی مشکلات اور ان کی تکلیفوں کا ہمیشہ احساس رہتا ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ میں عوام میں سے ہوں اور ان کا دکھ درد ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے‘ میں ان کا شکر گزار ہوں‘ ان کی حمایت کا میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میری ماں کی دعائیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں اور مجھے میری اہلیہ اور بچوں کی ہمیشہ بھرپور حمایت حاصل رہی جو بلاشبہ میرے لئے ایک طاقت ہے‘ آج بھی ان کی یہ حمایت مجھے حاصل ہے۔ میری اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے‘ اللہ تعالیٰ اس ملک کو سازشوں سے محفوظ رکھے‘ اللہ تعالیٰ عوام کی مشکلیں آسان کرے۔ میری جان ہمیشہ اس ملک ‘ اس قوم کے لئے ہمیشہ حاضر رہے گی جیسے پہلے رہی تھی ویسے ہی اس کے بعد بھی رہے گی۔ 
پاکستان کا اللہ حامی و ناصر ہو‘ پاکستان ہمیشہ پائندہ باد۔ (بشکریہ اے پی پی))

اختتام)

ہز ہاینس پرنس کریم آغا خان

پرنس کریم آغا خان کے18اپریل2008ء کو گلف نیوزکو دیے گئے انٹرویو کا اُردو ترجمہ


 اُردو ترجمہ افسر خان چترالی

"مسلم اُمّہ”کے لئے ایک ایسی جمہوریت کی تشکیل ضرروری ہے جوانکی معاشرتی، اخلاقی، مذہبی اورمعاشی ساخت کے لئے موزوں ہو۔پرنس کریم آغا خان کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ”ہمیں جمہوریت کے فطری صفات کو دیکھنا چاہئے،میں نہیں سمجھتا کہ جمہوریت کی ایک ہی شکل ان تمام ضروریات کا احاطہ کرتاہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اُمّہ دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح اپنے لئے ایک ایسی جمہوری نظام کی تشکیل کریں جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کوشکست دے سکیں۔

پرنس کریم آغا خان نے کہا کہ امت مسلّمہ آج ایک کثیر الثقافت جماعت ہے اور یہ کہ یہ پڑوسی برادر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر تے ہیں۔ "کثیرالثقافتی نظام کی پسندیدگی یا قبولیت اوراس میں سرمایہ کاری ایک ایسی بنیاد ہوگی جس سے ہم مسلمانوں کو درپیش مسائل کوحل کرنے کے قابل ہونگے۔”انہوں نے کہا۔

اپنے دوبئی کے دورے کے دوران ،جہا ں آپ نے اسماعیلی سنٹر کے افتتاح کے سلسلے میں گئے تھے،گلف نیوز کے ہفتہ وار سیکشن ویکنڈ ریویو کے ساتھ ایک ایکسکلوسیو انٹریو میں ،آغا خان نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔”میں ذاتی طور پر ان چیزوں کو اسلام سے منسوب نہیں کرتا۔ میں انہیں سیاسی مسائل سے منسوب کرتا ہوں۔ چاہے یہ مسائل مشرق وسطیٰ میںہوں ، افغانستان یا کشمیر میں۔”انہوں نے کہا

کرشماتی شخصیت اورانہتائی نرم گفتار پرنس کریم آغا خان کے دنیا بھر میں 20ملین پیروکارہیں۔ آج اسماعیلی دنیاکے 25ممالک میںرہتے ہیں، زیادہ تر مغرب اور سنٹرل ایشیاء، افریقہ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ اورمغربی یورپ میں رہتے ہیں ۔متحدہ عرب امارات میں بھی اسماعیلی کافی تعداد میںموجود ہیں۔

ملاقات میں پرنس کریم آغاخان نے اسماعیلی سنٹرز کے قیام کے مقاصد ،تعلیم وصحت کے میدان ،فن تعمیرات، تہذیب وتمدّن کی ترقی، مائیکروفنانسنگ اور غربت کے خاتمے کیلئے اپنی وژن کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے دبئی میں اسماعیلی سنٹر کی تعمیر کے لئے زمین دینے پر یو اے ای کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران ہس ہائنس شیخ محمدبن رشید المکتوم کا شکریہ ادا کیا۔

انٹرویو کے اقتباسات

سوال: امت مسلمہ کو کن مسائل کا سامنا ہے؟
پرنس کریم آغا خان: اولاًیہ کہ،عالمی سطح پر مسلم امہ کی تہذیبوںکا ادراک بحران کا شکار ہے۔ ہمیں مسلم تہذیبوںکی خوبصورتی کو غیر مسلموں میں متعارف کرا نا چاہئے،نہ صرف غیر مسلموں میں بلکہ مسلم دنیا دوسرے حصوں میںبھی ، کیونکہ ہم اس وقت تک تعظیم و تکریم کے لائق اور اپنی پہچان نہیں بنا سکتے جو کہ امہ کا حق ہے، جب تک کہ ہم اُمّہ کو معاشرے کے ایک معزز شہری کے طور پر پیش نہ کریں۔

مغرب میں ابھرنے والے اسلام اور مسلمانوںکے متعلق غلط تصور صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم ابھی تک عالمی تہذیب و تمدن سے دور رہے ہیں۔ ہمیں اسلام کی مدنی تعلیمات کو ثانوی نظام تعلیم میں شامل کرنے کے لئے مغربی نظام تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

مجھے بے حد خوشی ہے کہ دبئی اور خلیج کے دوسرے ممالک اس سلسلے میںمیوزیمز کی تعمیر کے ساتھ آغاز کیا ہے۔ہماری تاریخی ورثے کو پھر سے زندہ کررہے ہیں اور ان کو دور جدید میں واپس لے کر آنابہت اہم ہے۔

سوال: آپ عالمی سطح پر دہشت گردی کے مسئلے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا باعث ہے یا یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموںکے درمیان؟
پرنس کریم آغا خان: میں ذاتی طور پران (انتہاپسندی اور دہشت گردی )کو اسلام سے منسوب نہیں کرتا۔ میں ان کو سیاسی مسائل کے زمرے میں دیکھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سیاسی مسائل ہی مشرق وسطی کو درپیش مسئلے کی اصل وجہ ہیں۔ یہ 1977ء میں شروع ہواتھااس وقت سے آج تک یہ مسئلہ روز بروزگھمبیر ہوتا جارہاہے۔
کشمیر کا مسئلہ بھی سیاسی مسئلہ ہے جو انگریزوں کے برصغیر چھوڑنے کے بعد سے شروع ہوا تھا۔ بالکل اسی طرح عراق کا مسئلہ بھی سیاسی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن اب ہمیں اس چیز کو قابو کرنا ہے۔ جب تک یہ مسائل مسلم امہ کے اندر موجود رہیں گے ، کُل امت مسلمہ اس کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا۔
میڈیا جہاں تک ان مسائل کو اجا گر کر رہی ہے ویسے ہی مسلم امہ کی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان سارے حالات کا منفی تصویرپیش کرنا غلط ہے کیونکہ تصوراسلام کااس سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ اسلامی دنیا کی سیاست سے متضمن ہے۔
دوسری بات یہ کہ ، یہ ( انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ)صرف اور صرف اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیاہواہے ، مغربی یورپ کے ممالک، آئرلینڈ اور سپین بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ امت مسلمہ مستحکم نہیں ہے اور باقی دنیا مستحکم اور مکمل ہے۔

سوال: اس مسئلے کے حل کے لئے کیا اقدامات کر نے چاہئیں؟
پرنس کریم آغا خان: سیاسی بحرانوں کو حل کرنے کے لئے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہاں حکومتیں اور ادارے ہیںوہ جانتے ہیں کہ یہ مسئلے کتنے طویل ہیں، ان کو حل کرنابہت مشکل کام ہے۔جس طرح کہ ، آئرش اورسپین کے مسئلے کئی عشرون سے موجود ہیں۔

سوال: دنیا میں خانہ جنگی اورامن وامان کے مسئلے کے حوالے سے بہت سی نظریات قائم ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دنیا”قدرتی وسائل پر قبضے کی جنگ”کے عنوان کی جانب بڑھ رہی ہے؟
پرنس کریم آغا خان: میں آ پ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ لوگ بہتر طرز زندگی کی تلاش میں ہیں اور وہ اس کے لئے بہت جلد بازی سے کام لے رہے ہیں۔ بہت سے ممالک میں وقت کے زیاں کا احساس موجود ہے اور جب وقت کے زیاں کا احساس موجود ہو تو ضرورت کا بھی احساس رہتا ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں ضرورت کے احساس میں اضافہ ہورہا ہے، میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ وسائل کی طرف دھیان دیا جارہا ہے جو ترقی کی پروسس کو بڑھاتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں،بہت سے ممالک میں دولت مرتکز چیز ہے۔ وہ قومی اور حکمت عملی کے مقاصدکی تکمیل کے لئے نئے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ اس صورتحال کو نیوکلیر پاور کی طرف توجہ دیکر تبدیل کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ اس کے اندر عالمی معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لئے استعداد موجود ہے۔

سوال: آپ کی امامت کی گولڈن جوبلی پر مبارک باد قبول ہو۔ کیا آپ اس خصوصی سال کے اندر کوئی اہم منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: مجھے امید ہے کہ اس سال کے آخر تک ہم دو نئے منصوبوں کو ترقی دیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا منصوبہ ، دنیا بھرکے کمیونیٹیزکامعاشرتی تجزیہ ہے جس کے ذریعے سے ہم غربت کے اصل اسباب کا تغین کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہت سے ممالک کی آبادی کے بہت سے حصے غربت کی انتہائی نچلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جیسے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ معیشت بہتر ہورہی ہے، لیکن ہم حیران ہیں کہ یہ حصے غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اس کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںتاکہ اس کو اگر ختم نہیں کر سکتے تو کم ازکم اس کو کم کیا جاسکے۔ہم جانتے ہیںکہ غربت نہ صرف معاشی بلکہ معاشرتی بھی ہے۔ بہت سے خاندانوں کی رسائی کسی ایسے پلیٹ فارم تک نہیں ہے کہ جس سے وہ ترقی کی راہ تلاش کرسکیں، اور نہ صحت کی ضروریات ، تعلیم، مائیکروکریڈٹ اورنہ انکی کسی قسم کی عام امدادی نظام تک رسائی ہے۔ یہ ایک مسئلہ ہے جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔

جہاں تک ہمارے دوسرے پروگرام کا تعلق ہے اس میں ،ہم درازی عمر (صحت کے مسائل)پر توجہ دے رہے ہیں۔ لوگ زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور کثیر تعداد میں معمر لوگ اپنے آپ کو اپنے خاندانوں اور معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک پروگرام ڈیویلپ کررہے ہیں۔جب سے صنعتی دنیا میں مشترکہ خاندانی نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ،اب اس مسئلے پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہوگیاہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہم ضعیف العمر افراد کو باعزت زندگی گزارنے میں مدد انکی کریں گے۔
اس کے علاوہ اس جوبلی سال کے دوران ہم بہت سے تعلیمی اور صحت کے مراکز کی بنیاد رکھیں گے۔

سوال: آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے پاس کمیونیٹیز کی فلاح وبہبود کے کئی منصوبے ہیں۔ آپ علاقوں کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں،اور کیوں؟
پرنس کریم آغا خان: منصوبوں کے اجراء کے لئے علاقوں کا انتخاب ضروریات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔منصوبے کا آغاز کرنے سے پہلے علاقہ کاتجزیہ کیا جاتا ہے کہ کس قسم کی سہولیات کا فقدان ہے اور اس کے مطابق منصوبہ دیا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی پسماندہ علاقہ میں دیکھتے ہیں کہ وہاں پر کریڈت سسٹم نہیں ہے ، تو ہم اس علاقے میں مائیکرو کریڈٹ پروگرامز شروع کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایک حکومت کسی صنعت کونجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے اور وہ غلط جاہاہے ، ہم وہاں پرمداخلت کی کوشش کرتے ہیں۔ بس یہی ہمارے دنیا بھر میں تعلیمی ، صحت اور تہذیب و تمدن کی ترقی کے منصوبوں کے ساتھ بھی ہے۔

سوال: ترقی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: یہ حقیقت ہے کہ ترقی انسانیت کی بنیادوں پر ہونا چاہئے۔اور اسی بنیاد پر اس کی پیمائش ہونی چاہئے، آپ کو زندگی کی استعداد کو دیکھنا ہے جس کا براہ راست تعلق تعلیم ،تعمیرات اور صحت کی دیکھ بھال سے ہے ۔
آج ، دنیا کے بہت سے معاشی اور تجارتی ادارے صرف اور صرف معاشی کاموں کے لئے قرضے نہیں دے رہے۔ وہ تعلیم اور صحت سے متعلق منصوبوں کے لئے بھی قرضے فراہم کرتے ہیں۔ یہ ترقی کے عمل میں تعاون کے پرانے نظام کو تبدیل کر رہاہے۔
تعلیم ، صحت کی دیکھ بھال اور مائیکروکریڈٹ کے میدان میں نجی شعبہ بھی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ دونوں نجی اور عوامی اداروں کے اشتراک سے مخلوط سہولیات کا حصول ترقی پزیر ممالک کے بہتر مفاد میں ہے۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ نے اپنے کمیونیٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس کے وسیع نیٹ ورک میں کامیابی حاصل کی؟
پرنس کریم آغا خان: کامیابی کا انحصار منصوبے کی پختگی پر ہے۔ ہمارے پاس اپنے صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں بہت پختگی ہے اور انہی مقاصد کے لیے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ تاہم ہم اپنے ثقافت سے متعلق منصوبوں میں اس مقام تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ ہم ثقافتی منصوبوں کی طرف رجحان کودیکھنا شروع کر رہے ہیں اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ میں ثقافتی منصوبوں سے مطمئن ہوں لیکن وہ ابھی تک نا پختہ ہیں۔
ثقافتی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ کیرو میں الازہر پارک کی تعمیرو ترقی ہے جس کا مقصد زندگی کی استعداد کار کو بہتر کرنا ہے۔میں اطمینان کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم اس طرح کے ثقافتی منصوبے دنیا کے دوسرے حصوں میں دہرا سکتے ہیں۔
اس قسم کے ثقافتی منصوبوں کے اجراء سے ،ہمار ا مرتکز توجہ زندگی کی استعداد کو بہتر کرنااور انتہائی غریب طبقے کے لئے مواقع پید کرنا ہے۔

سوال: آ پ نے دبئی میں اسماعیلی سنٹرکیوں قائم کیا اور دوسرے ممالک میں اس قسم کے سنٹرز کے قیام کے پیچھے آپ کی بصیرت کیا ہے؟
پرنس کریم آغا خان: مجھے امید ہے کہ یہ سنٹر اداراتی مقاصد کااحساس لائے گا۔ ہم انہیں سفاراتی تعمیرات کہتے ہیں کیونکہ وہ اسماعیلی جماعت اور انکے امنگوں کے نمائندے ہیں۔
ہم نے سب سے پہلے مغرب میں سینٹر کے قیام کا آغاز کیا۔ جیسا کہ لندن میں اسماعیلی سنٹر، ونکووراور لزبن۔ دبئی کے اسماعیلی سنٹرفارورڈ آوٹ لک، دوستی اوردسری جماعتوں کے روبط کو فروغ دے گا۔اس قسم کے مزید سنٹرز ٹورنٹو اور دوشنبے میںتعمیر کر رہے ہیں۔
اس تعمیر کے دو مقاصد ہیں ۔پہلا، یہ اسماعیلی کمیونیٹی کے لئے ادارے کے طور پر کام کریںگے اور دوسرا ،لوگوں سے رابطہ قائم ہوجائے گا ،معیاری نمائشوں ،ثقافتی اور موسیقی نمائندوں کیلئے نمائشوں کے انعقاد کے لئے جگہ بھی فراہم کریں گے۔ ان سینٹرز کے ذریعے مختلف کمیونیٹیز ،علاقوں اور ثقافتوں کو ملانے کا کام کریں گے۔

سوال: آپ بہت سے امور سے وابستہ ہیں۔فرصت کے لمحات میں کیا کرتے ہیں؟
پرنس کریم آغا خان: مسکراتے ہوئے؛ عموماًکام، کام اور زیادہ کام۔بعض اوقات، اگر تھوڑا ساوقت ملا، تو میں سمندر کے کنارے جاتا ہوں یا برف پریا گھوڑوں کو دیکھتا ہوں جو ہم نے پالے ہوئے ہیں، کیونکہ جووقت میرے پاس ہے ،اس کے مطابق فی الحقیقت یہی مشعلہ معقول اور مناسب ہے ۔

سوال: جماعت کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
پرنس کریم آغا خان: اسلام کی اصل روح یہ ہے کہ تعلیم کو دوسروں تک پہنچائیںاور میں ہمیشہ جماعت کو یہ بتاتا ہوںکہ مادی اصطلاح میں نہ سوچیں۔دانش مندی کی اصطلاح پر سوچیں اور سوچیں کہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہمارے اداروں کے لئے کیا خدمت پیش کر سکتے ہیں ۔

صحت ،تعلیم ، فنانشل سروسز اور شہری معاشروں میں ہماری کارکردگی کو مزیدبڑھائیں۔ مشرق وسطیٰ سے کئی نوجوان مغرب میں رہائش پزیر ہیں۔ سوچیں کتنی اچھی بات ہوگی کہ اگریہ نوجوان خواتین اور مرد جب اپنے ممالک میں واپس جائیں اداروں کو مظبوط بنائیں اور اپنے اپنے ملکوںکے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ ***

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) : آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) غیر طباقی ترقیاتی ایجنسیز کانجی گروپ ہے ،اس کے انتظامی درجات صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم سے لیکر فن تعمیرات، دیہی ترقی اور نجی شعبے کے اداروںکی ترقی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ایجنسیز اور ادارے ایک ساتھ کام کرتے ہیں جماعتوں اور افراد کی خود اختیاری ،اکثرنامساعد حالات میںطرز زندگی کی بہتری اور مواقع پید کرنا،اورترقی کی راہ حائل مسائل کے حل کے لئے جو خصوصاً ایشیاء اور ایسٹ افریقا میں معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیںکے حل کے لئے اختراعی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔
وہ ایک ہی مقصدکے لئے یعنی ایسے اداروںکی تعمیر اور پروگرامز کی تشکیل جو معاشرے،معیشت اور تہذیب و تمدن کو درپیش چیلنچز کوتسلسل کے ساتھ مقابلہ کرسکیںکے، ملکر کام کرتے ہیں۔ یورپ ، ایشیاء ، افریقہ اور نارتھ امریکہ کے 20سے زائد ممالک میں مصروف عمل ہیں۔ نیٹ ورک کا بنیادی تحریک اخلاقی دردمندی کی بنیاد پر معاشرے کے غیر محفوظوں کے لئے ہے۔ اس کے ایجنسیز اور ادارے تمام شہریوں کی بغیر کسی ذات پات ،جنس یا مذہبی تفریق کے عمومی بھلائی کے لئے کام کرتے ہیں ۔ نیٹ ورک کے ایجنسیز گلف اور مشرق وسطیٰ کے شہری علاقوں کی ترقی، تحفظ، بحالی، تعلیم ، صحت ،مائیکرو فنانس، اعلیٰ تعلیم ، ثقافت اور دیہی علاقوں کی ترقی کے عمل میں مصروف ہیں۔ اے کے ڈی این ایک آزاد خود اختیار ایجنسیز، اداروں اور پروگرامزکا نظام ہے جو اسماعیلی امامت کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ ان اداروں کی امداد و تعاون کا اہم ذریعہ اسماعیلی جماعت ہے جو اپنی روایتی انسانی ہمدردی ،رضاکارانہ خدمت اور خودانحصاری کے جذبے سے امدادفراہم کرتے ہیں۔

پرنس کریم آغاخان : پرنس کریم آغا خان اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے بعد11جولائی، 1957کو شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کی امامت کی مسندپر جلوہ افروز ہوئے ۔آپ شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے انچاسویں امام ہیں۔ پرنس علی خان اور پرنسس تاج الدولہ علی خان کے صاحبزادے ہیں، آغا خان 13دسمبر 1936ء کو جنیوا میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنا بچپن نیروبی ،کینیامیں گزارے اور اس کے بعد آپ9سال تک سوئزر لینڈ کے لی روزی سکول(Le Rosey School) میں زیر تعلیم رہے۔آپ سن1959میں اسلامی تاریخ میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ آ پ نے تصور اسلام کو روحانی سچائی، ایسے مذہب جوانسانوںسے محبت ، بردباری کا پیکراور انسانیت کی قدر دان کے طور پر نمایاں کیا ۔ تاریخ کے اوراق میں اسماعیلی جماعت کی،اپنے ہرزمانے کے اماموں کی بہترین رہنمائی میں اسلامی معاشرے کی ترقی و ترویج میں خدمات سنہرے حروف سے موجود ہیں ۔

پرنس کریم آغا خان کی ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔ ان کے نام بالترتیب پرنسس زہرا، پرنس رحیم،پرنس حسین اور پرنس علی محمد ہیں۔

اسماعیلی جماعت ان دنوں اپنے امام زماںکی امامت کی گولڈ جوبلی کی تقریبات منارہی ہے جو 11جولائی 2007ء سے شروع ہوئیںاور یہ تقریبات سال رواں کے 11جولائی تک جاری رہیںگے۔ اس جوبلی سال میں پرنس کریم آغاخان تقریبا 35ممالک کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس موقع پر ان ممالک کے سربراہان اور حکومتوں کے ساتھدوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔نئے منصوبوں اور پروگراموں کے اجراء سمیت ،آپ اسماعیلی امامت کے ساتھ کام کرنے والوں کومستقبل کے لئے ہدایات دیں گے۔ بشکریہ گلف نیوز

افسر خان چترالی،
ای میل:khansconcepts@gmail.com, afsar.kn@gmail.com
سیل نمبر:0346-2231281