اردومضامین


کھوار حمد نگاری پر ایک نظر

مقالہ نگار : اکبر علی غازی

کھوار اس زبان کا نسبتی نام ہے جو کھوہ قوم بولتی ہے (۹۴)۔ پاکستان کے خوبصورت ترین خطوںمیں سے ایک خطہ چترال ہے جسے ’’مشرقی سویٹزرلینڈ ‘‘کا نام دیا جاتا ہے(۹۵)خطے کی مناسبت سے اس زبان کو چترالی بھی کہا جاتا ہے۔جسے علاقائی لہجے میں مقامی لوگ چھتراری پکارتے ہیں۔ چترال سے باہر اس زبان کو چتراری، چترالی،کھوہ وار،کھوار، قشقاری اور آرنیہ بھی کہا جاتارہا ہے(۹۶)۔ یہ زبان چترال کے علاوہ شمالی علاقہ جات کے ضلع غدر میں بھی بولی جاتی ہے۔اس کے علاوہ سوات، کالام، واخان، پامیر اور نورستان کے افغان اضلاع میںبھی مادری زبان کے طور پر کھوار بولنے والوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد ہیں(۹۷)۔دیگر زبانوں کی طرح کھوار ادب کی ابتداء بھی لوک ادب سے ہوئی البتہ کھوار ادب میں نظم اور نثر دونوں شامل ہیں۔ جن سے اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کھوار میں نثر قدیم ہے یا نظم ۔ البتہ لوک گیتوں کی قدامت کے شواہد زیادہ ہیں۔ کیونکہ موزوں ضرب الامثال اور پہیلیوں کو آسانی سے نظم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔’’کھوار لوک ادب میں تین ہزار سال پرانی داستانوں، پہیلیوں، ضرب الامثال اور قصے کہانیوں کا سراغ ملتا ہے اور یہ ادب زیادہ تر لوک گیتوں پر مشتمل ہے‘‘(۹۸)۔ کھوار میں لوک گیتوں کو ’’باشو نو‘‘ کہا جاتا ہے(۹۹)۔ کھوار لوک ادب کو اپنے میعار اور مقدار کے حوالے سے دیگر زبانوں کے لوک ادب کے سامنے برابری کی سطح پر رکھا جاسکتا ہے۔ البتہ اس ادب میںخالص حمدونعت کے موضوعات بہت کم ہیںاگرچہ کہیں کہیں مناجات کا رنگ ضرور جھلکتا ہے جیسے کھوار لوری میں ہمیں اللہ کی طرف رحمت و برکت کی طلب بھری باتیں ملتی ہیں۔


قدیم کھوار ادب میں ہمیں تین سو سال قدیم شعری نمونے ملتے ہیں مگر ان کو حمد میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ البتہ حمدیہ عناصر سے انکار کرنا بھی مشکل ہے۔ کھوار ادب کا پہلانام اتالیق محمد شکور غریب )
۱۶۹۵ء تا ۱۷۷۲ء ( ہے۔ بنیادی طور پر ان کو فارسی کا شاعر مانا جاتا ہے البتہ ان کے فارسی دیوان کے آخری باب’’بلغت چتراری کو کھوار ادب میں اولیت کا درجہ حاصل ہے(۱۰۰)۔ اتالیق محمد شکور غریب بیک وقت مصاحب شاہ، جنگجو، شمشیرزن اور اہل قلم تھے۔ ان کا کلام عشقیہ مضامین سے پر ُہے۔جس میں عربی فارسی اصطلاحوں کے ساتھ ساتھ متصوفانہ رنگ بھی موجود ہے۔ کھوار غزل کے حوالے سے انہیں اولیت کا شرف حاصل ہے۔ان کے ہاں حمد کے مضامین نہیں ملتے البتہ نقشبندی اولیاء کی منقبتیں ملتی ہیں۔جن میں جزوی طور پر حمدیہ عناصر پائے جا سکتے ہیںمکمل حمدیہ اشعار نہیں۔


مرزا محمدسیر جنھیں پروفیسر اسرارالدین نے مولانا محمد سیئر (
۱۰۱) لکھا ہے چترال میں مہسیار کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کو چترال کاعظیم ترین شاعر خیال کیا جاتاہے۔ ان کا زیادہ تر کلام فارسی میں ہے البتہ ان کا کھوار رومان ’’یار من ہمیں‘‘ایک عظیم کھوار دستاویز ہے جو کہ چترال میں زبان زدخاص وعام ہے۔ ان کے فارسی کلام میں حمدکے اعلٰی نمونے ملتے ہیں۔ مگر ان کے ہاں بھی حمدیہ اشعار نہیں مل سکے۔البتہ ان کے کھوار کلام میںتصوف، معرفت اور عشق مجازی کے بے شمار رنگ ملتے ہیں جو کہ مجازی سے بڑھ کر حقیقی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ان کے بارے میں ڈاکٹر فتح محمد ملک لکھتے ہوئے ان کی شاعری کو شیرازخراسان اور ہندکی صوفیانہ شاعری کا حسین امتزاج قرار دیا ہے(۱۰۲)َ۔ شہزادہ تجمل شاہ محوی کھوار ادب کا ایک اور معتبرنام ہے۔ آپ کٹور مہتر چترال کے فرزند تھے اور بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ وہ ۱۷۹۰ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۴۳ء میں شہید ہوئے۔ان کا فارسی دیوان موجودہے مگرکھوار میں کچھ غزلیات اور قطعات بھی محفوظ ہیں۔ آپ کے کلام میں عارفانہ کلام کثرت سے ہے جس میں معرفت اور عشق و مستی کا خاص رنگ ملتا ہے۔ ان کے ہاں دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی فکر عام ہے۔کلاسیکی دور کے شعراء جین ،آمان، زیارت خان زیرک،گل اعظم خان ،حسیب اللہ ، باچہ خان ھما ، مرزا فردوس فردوسی ، بابا ایوب، مہر گل ،اور منیر عزیزالرحمن بیغش شامل ہیں ان میں سے زیادہ تر کا کلام ابھی شائع نہیں ہوا۔


باچہ خان ہما کلاسیکی شعراء کے متا خرین میں ایک خصوصی اہمیت کے حامل شاعر ہیں۔ ان کے کلام میںصنائع، بدائع، لطافت اور ظرافت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔وہ عالم باعمل اور صاحب دل بھی تھے۔ شگفتہ مزاجی ان کے مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ البتہ ا
ٓپ ایک مشکل پسند شاعر تھے۔ آپ کے کلام میںعربی اور فارسی الفاظ کا بھاری پن ہے۔ اپنے گاؤں کے ایک مجذوب مجید کا ذکروہ اپنے کلام میں جا بجا کرتے ہیں ۔ جس سے تصوف اور سلوک کی منازل کے حصول کی نشاندہی کرتے ہیں۔یاد رہے آپ کھوار زبان کے سب سے پہلے صاحب دیوان شاعر بھی ہیں(۱۰۳)۔ ان کے ہاںایک دو کی بجائے کئی جگہ حمدیہ مضامین ملتے ہیں گو انھوں نے حمد کے عنوان سے کچھ نہیں کہا۔ ان کے دو اشعار کا ترجمہ پیش ہے:۔
اے محبوب تم اپنے حجاب اور پردے کو ہٹا کر کیا کمال کرتے ہو کہ افلاطون جیسا عاقل بھی مجید جیسا فاترالعقل بن جاتا ہے۔ اے محبوب اپنے حسن کی بہار دکھادے جوزندگی کا سر چشمہ ہے۔ اس بہار کی مسکراہٹیں بکھیر کر مجھ جیسے لاکھوں عاقلوں کو مجید جیسا دیوانہ بنا دے۔(
۱۰۴)


ا
ٓپ۱۶ دسمبر ۱۹۸۹ء کو سول ہسپتال دروش میںانتقال کر گئے۔کلاسیکی دور کے ایک اہم نام امیر گل خان ہیں ان کے کلام میں تصوف اور معرفت کی چاشنی بھر پور طور پر موجود ہے۔ آپ کو چترال میں موسیقی کے حوالے سے خصوصی مقام حاصل ہے۔ آپ جتنے اچھے گیت نگار ہیں اتنے ہی اچھے مو سیقاربھی ہیں۔ آپ نے عشقیہ گانوں کے علاوہ حمد ، نعت ، مرثیے اور قومی ترانے بھی لکھے (۱۰۵)۔ پروفیسر اسرار الدین کے مطابق آپ پہلے کھوار شاعر ہیں ۔جنہو ں نے باقاعدہ طور پر حمد لکھی ۔ ان کا ایک حمدیہ بند حا ضر ہے جو کہ صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ[
L: 58]خداتعالی طرح طرح سے اپنا جلوہ ظاہر کرتا ہے کہیں صلیب کے اُوپر منصور کی مستی میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اور )اس سب کے باوجود(اللہ تعالی لا شریک بادشاہ ہے۔اور اس کی ہستی واحد اور بلند ہے(۱۰۶


قدیم دور کے مقابلے میں جدید دور میں کھوار ادب میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے۔قدیم ادوار میںحکمرانوں کی زبان کیو ں کہ فارسی رہی ہے۔ اس لیے کھوار ادب بھی ترقی نہیں کر سکامگر قیام پاکستان کے بعد عموما
ً اور موجودہ دور میں خصوصاً کھوار ادب میں نئے نئے تجربے ہوئے اور شعراء نے دیگر اضاف ادب کے ساتھ ساتھ حمد اور نعت پر بھی توجہ صرف کی۔کھوار ادب میں نعت تو کافی ملتی ہے البتہ حمد کے حوالے سے یہ ادب اتنا ثروت مند نہیں۔روایت کے طور پر حمد تقریباً سارے شعراء کے ہاں ملتی ہے مگر ابتداء میں ہو،یہ ضروری نہیں ۔ جدید دور کے شعراء کے ہاں کوشش کی جارہی ہے کہ تمام شعری کتب حمد و نعت سے شروع ہوں البتہ بسم اللہ سے دیوان کی ابتدا کرنے کا رجحان قدیم ہے۔حمد کو صنف شاعری کے طور پر رواج دینے والے شعراء میں قاضی ملغت خان بڑے اہم شاعر ہیں ۔یہ تورکھو سے تعلق رکھتے تھے مگر ان کا کلام دستیاب نہیں ہو سکا۔ان کے بعد بابا فردوسی، باباایوب خان ایوب، ناجی خان ناجی، محمد چنگیز خان طریقی، مولاناپیر محمد چشتی، مولانا نقیب اللہ رازی، گل نواز خان خاکی، اقبال حیات، محمد جاوید حیات، جاوید حیات کاکا خیل، فداالرحمن فدا۔ عبدالولی خان، پروفیسر اسرارالدین، رحمت عزیزچترالی، نورالہادی، عنایت الرحمن پرواز وغیرہ حمد لکھنے والے شعراء میں شامل ہیں۔مرزا فردوس فردوسی کو سبقت حاصل ہے کہ انھوں نے اپنے مجموعہ کلام میں حمدیہ اشعار شامل کیے ان کے بعد رحمت عزیز چترالی نے اپنے مجموعہ کلام ۔’’گلدستہ رحمت‘‘ میں کئی حمدیں شامل کیں جو کہ ایک نیارجحان ہے۔ان کی ایک نظم کا ترجمہ پیش ہے جو کہ انھوں نے بچوں کے لئے لکھی۔وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ[
L: 58]اے اللہ! اے میرے خدایا! یہ زمین بھی تیری ،یہ آسما ںبھی تیرا ، یہ پتھر ،یہ مٹی،یہ ریت اور پتے بھی تیرے ۔یہ پودے ،یہ فصلیں ، گاجر اور آلو ، سیب ، خوبانی اورآرڑوکے یہ درخت بھی تیرے ۔تیری رحمتوں کا شکر میں ادا نہیں کر سکتا)یعنی تیری رحمتیںبے کنار ہیں(میری سانسیں بھی تیری عطا ہیں ۔میری حرکت اور جان بھی تیری ہے۔میں گنہگار بندہ ہوں مگر پھر بھی تیری رحمت سے نا اُمید نہیں ہوں۔ تو ہی مجھ جیسے گنہگار پر رحم کر کیونکہ تو رحیم ہے۔تو غفور بھی ہے، تو غفار بھی ہے۔ اے اللہ سب مسلمانوں کے گناہ معاف فرما کیونکہ یہ سب تیرے ہی بندے ہیں (۱۰۷


کھوار ادب میں اب ایک تحریک کی صورت میں حمد نگاری کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ اور ان تحریک کو فروغ دینے میں جمہور الاسلام، ماہنامہ شندور، ماہنامہ ژھنگ، صدائے چترال ، ہندو کش ، ھمکلام، بزم کھوار اورچترال وژن پیش پیش ہیں۔کھوار ادب میں کچھ مجموعہ جات حمد سے خالی بھی دستیاب ہیں اس حوالے سے ذاکر محمد زخمی کے مجموعہ کلام کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ جس کی ابتداء حمد سے نہیں کی گئی (
۱۰۸)کھوار ادب میں بھی حمد سے زیادہ قدیم مناجات ہے گو مناجات بھی حمد کے ذیل میں شامل ہے مگر وہ مناجات بہت کم ہیں جن میں شاعر نے تعریف و توصیف کے بعد دعا مانگی ہے۔اور تعریف و توصیف اور بڑائی کے بغیر مانگی گئی دعایا مناجات التجا، درخواست، منت اور زاری تو ہو سکتی ہے حمد نہیں۔ کھوار زبان میں ابھی تک کوئی حمدیہ مجمویہ شائع نہیں ہوا مگر چند مجموعے ایسے ہیں جن میں حمد و مناجات کو روایت سے ہٹ کرزیادہ صفحات دئیے گئے ہیں ۔اس حوالے سے رحمت عزیز چترالی کو اولیت حاصل ہے کہ انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے ’’ گلدستٗہ رحمت ‘‘میں پہلی دفعہ تیرہ حمدویں شامل کیں ان کے بعد پروفیسر اسرارالدین کے مجموعے ’’درون ہنو‘‘کی باری آتی ہے کہ اس میں ۲۹ سے ۶۶ صفحہ تک حمدومناجات کو جگہ دی گئی ہے۔پروفیسر اسرارالدین کی حمد کا منظوم ترجمہ پیش ہے :۔
اللہ ہو اللہ ہو تو ہی تو
لا شریک وحدہ
لا الہ الا ھو
اللہ ہو اللہ ہو تو ہی تو
ارد گرد بھی تو
درمیان میں بھی تو
ادھر بھی تو
ادھر بھی تو
غائب بھی تو
حاضر بھی تو
اللہ ہو اللہ ہو تو ہی تو
(
۱۰۹) مترجم)رحمت عزیز چترالی


موجودہ دور میں تاج محمد فگار، امین چغتائی، ذاکرمحمد زخمی، مولانا نقیب اللہ رازی اور پیر محمد چشتی نے حمد کو اپنے مجموعہ جات میں شامل کیا ہے۔اب تو اکثر شعراء حمد کو اپنے مجموعے میںاولیت دیتے ہیں ان شعراء میں پروفیسر اسرارالدین ، رحمت عزیز چترالی، ناجی خان ناجی، امین چغتائی، پیر محمد چشتی ، ولی زار خان ولی، ولی الرحمن ولی اورتاج محمد فگار شامل ہیں۔
۱۹۷۸ء میں جب انجمن ترقی کھوارچترال اور 1996میں کھوار اکیڈمی کراچی کا قیام عمل میں آیا تو کھوار ادب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس وقت تک یہ انجمن قابل قدر کام کر چکی ہے۔ اب اس انجمن کے ڈائریکڑ رحمت عزیز چترالی ہیںجو کہ ایک ایثار پسند، ملنساراور علمی کام میں ہر وقت مدد کے لئے تیار رہنے والے شخص ہیں ان کی وجہ سے کھوار ادب میں خاطر خواہ ترقی ہوئی۔ان کے قلم سے کئی ایک مجموعہ جات چھپ چکے ہیں۔جبکہ حمدکے حوالے سے ایک نثری کتاب ’’کھوار حمد ونعت کی مختصر تاریخ‘‘اور ایک خاص حمدیہ شعری مجموعہ ’’حمد و ثنائے رب جلیل‘‘ عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہونے والا ہے۔یہ دونوں کتب بلاشبہ کھوار ادب میں ایک نیا اور صحت مند اضافہ ہونگی اور کھوار حمد و نعت کو اردو ،سندھی اور پنجابی کی صف لا کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہو نگی ۔
جاوید حیات کاکا خیل جدید دور کے شعراء میں سے ایک اہم شاعر ہیں ان کی ایک حمدیہ نظم پیش ہے ۔وہ لکھتے ہیں:
ترجمعہ[
L: 58]اے میرے پروردگار!تو کیڑے مکوڑوں سے لیکر انسانوں تک سب کا رازق ہے تو سب کے لئے رحم کرنے والا ہے تو مہربان ہے۔اے میرے پاک اللہ صرف ایک لفظ ’’کن‘‘سے تو نے اس حکمت سے بھر پورکائنات کو بنایا۔ تیری قدرت کی کوئی انتہا نہیں )بلکہ وہ لامحدودہے ( تیری قدرت عظیم الشان ہے ،اے میرے پاک اللہ !(۱۱۰)۔ مترجم( رحمت عزیز چترالی)


صفدر ساجد اس دور کا شاعر ہے جو کہ حمد و نعت ، نظم اور غزل پر یکساں دسترس رکھتا ہے ان کا کلام قلمی صورت میں انجمن ترقی کھوار کی لائبریری میں شائع ہونے کے لئے منتظر ہے وہ اللہ جل شانہ کے حضور یوں عرض گزارہے: ۔
ترجمہ[
L: 58]اے میرے خدا! اے میرے پروردگار، تیرا یہ بندا بڑا گنہگار ہے۔ میری زندگی نا فرمانیوں میںگزر رہی ہے، اے اللہ ! تو اس گناہ کے ملبے کو ختم کر کے میرے دل کو صاف کیجییو(۱۱۱)۔ مترجم( رحمت عزیز چترالی)


کھوارشعراء کی توجہ حمد و نعت کی طرف مبذول ہو چکی ہے جس کا ثبوت نعتیہ مجموعہ
’’ آقائے نا مدار‘‘ ہے جو کہ مولانا محمد نقیب اللہ رازی کا تخلیق کردہ ہے (۱۱۲)جسے کھوار ادب میں ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔انجمن کھوارچترال کی کوششوں سے ’’ققنوز‘‘ کے نام سے دو شعری انتخاب شائع ہوئے تھے جن میں حمد و نعت کے بھی قابل ذکر نمونے ملتے ہیں۔بہرحال یہ انتخاب کھوار ادب کا بھرپور اور متوازن منظرنامہ ہے جس میں حمد و نعت کا پہلو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے ۔کھوار ایک قدیم زبان ہے مگر اس کی ادبی تاریخ تین سو سال سے زیادہ قدیم نہیں البتہ لوک ادب کی قدامت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کھوارلوک ادب زیادہ تر گیتوں پا مشتمل ہے جسے ’’باشونو‘‘کہا جاتا ہے (۵)۔ باشونو کے آگے کئی سابقوں کے ساتھ اہم موقعوں کی مناسبت سے گائے جانے والے گیتوں کو الگ الگ نام دیا جاتا ہے ۔ آشور جان بھی اس ادب کی ایک مقبول صنف ہے جو نہ صرف ہردلعزیز ہے بلکہ ہر عمر کے فرد کو کچھ نہ کچھ یاد ہے(۶)۔ کھوار ادب میں ماں سے متعلق تمام گیتوں کو مہرو شونو (۷)کہا جاتاہے اس میں ذیلی طورپر لوری )ہووئینی(شامل ہے جسے مائیں بچوں کو سلانے کے لیے گاتی ہیں۔ اس میں بچوں کے لیے نیک تمنائیں اور کامیابی کی دعائیں مانگی گئی ہوتی ہیں۔ کھوار لوری میں حمد یہ عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔جیسے:۔
ترجمہ: دم دارستارہ ا
ٓسمان کی ایک سمت سے چل کے دوسری طرف جائے گا میرا بیٹا بہت ہی اچھا ہے۔ یہ بالکل روئے گا نہیں بلکہ سوئے گا۔ اللہ بہت بڑا ہے اس نے چاند کو پیدا کیا ہے اور ستاروں کو چاند کے ساتھ بطورپہرہ دار بنایا ہے اور چاند کی روشنی ہر جگہ پہنچے گی میرا بیٹا بہت ہی اچھا ہے۔ یہ با لکل روئے گا نہیںبلکہ سوئے گا(۸
مثنوی کے حوالے سے کھوار ادب میں کافی ذخیرہ ہے اس حوالے سے تقریبا سارے رومان مثنوی میں ہیں البتہ حمد کے حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ
’’یار من ہمیں‘‘ایک رومان ہے مگر اس کے اشعار میں حمد کا وجود نہیں ملتا البتہ تصوف کی گنجاش ہے۔ کیونکہ رومان یا مثنوی کی ابتدا حمد سے ہوتی ہے تو شائد اس رومان کی ابتدا بھی حمد سے ہوئی ہو مگر تمام تمام شعر دستیاب نہیں مختلف محققین نے اس کے مختلف شعر درج کیے ہیں اور ابتدائی اشعار بھی طے نہیں ہو سکے۔ تاج محمد فگار کی ایک حمدیہ مثنوی کے تیرہ میں سے دو شعرپیش ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:۔
اللہیئے کا پورہ کوئی تہ سار غیر مہ حاجتو
رحم کو روم کہ ریتاو
ٔ کہ کھنار شیر تہ رحمتو
اے مہ غفور الرحیم اوہ بو گنہگار اسوم
اگر کہ گنہگار تہ رحمتو امیدوار اسوم (
۱۸)


ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی حاجتیں پوری کرنے والا نہیں اگر وہ رحم کرے تو اس کے لیے رحم کرنا مشکل نہیں۔تو ایک اللہ ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تیرا کوئی شریک نہیں نہ ذات میں اور نہ صفات میں ۔ مترجم (محمد انور چترالی)
سی حرفی کو کھوار ادب میں وہ مقام نہیں مل سکا جوہند کو میں ہے البتہ اس کی چند ایک مثالیں ضرور مل جاتی ہیں مگر حمد کے حوالے سے کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔
چاربیتہ کی صنف کھوار ادب میں پشتو ادب سے ا
ٓئی اور اس نے یہاں خوب ترقی کی۔ اس حوالے سے کھوار میں قابل ذکر کام ہوا ہے۔ رحمت عزیزچترالی ایک چاربیتہ حاضرہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: پرندے تیری حمد و ثنا میں مصروف ہیں اور بلبل بھی ان کا ہمنواہے۔ کانٹے بھی تیری حمدوثنا سے خالی نہیں اور پھول بھی ان کے ساتھ ہیں ۔رحمت عزیز تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ معافی کی التجا میں اکیلا نہیں بلکہ اس کا بڑا بھائی رحمت گل بھی ساتھ ہے (
۵۹)۔مترجم ( رحمت عزیزچترالی)


کھوار ادب میں اردو میں مروجہ تمام اضاف ادب موجود ہیں البتہ کھوار گیتوں کی صنف قدیم شاعری میں سب سے نمایاں اور کثرت سے ہے ۔مگر جدید شاعری میںاب نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں اور نئی نئی اضاف کا اضافہ دیکھنے میں ا
ٓ رہا ہے۔ غزل کے حوالے سے دیکھیں تو کھوار ادب کی معلوم تاریخ کا پہلا شاعر ہی غزل گو ہے اور انکی غزل اس سطع پر تھی جہاں ان کی فارسی شاعری تھی ۔ یعنی اتالیق محمد شکور غریب نے اپنے دیوان کے آخر پر جو کھوار ادب کا باب شامل کیا ہے اس میں غزل زیادہ ہے ۔وہ نہ صرف فارسی شعری روایت کے اساتذہ میں سے تھے بلکہ فارسی غزل کے نامور شاعر تھے۔ اس لیے جب وہ اپنی مادری زبان کی طرف رجوع ہوئے تو ان کی کھوار غزل میں فارسی غزل کا تمام تجربہ اور فن منتقل ہو گیا۔ مگر پہ کام فارسی زدہ سا لگتا ہے ان کے بعد مولانامحمد سیئر سیئر اور باچہ خان ہما نے غزل کو بلند مقام ہے تجمل شاہ محوی، حبیب اللہ فدا برنسوی ، مرزا فردوس فردوسی، بابا ایوب ایوب اور عزیرالرحمن بیغش نے کھوار غزل میں انپے قلم کے جوہر دکھائے۔ جدید ادب میں بھی غزل کا جادہ سر چڑھ کر بول رہا ہے البتہ روایتی مضامین کی جگہ جدید مضامین نے لے لی ہے ۔ جدید غزل لکھنے والوں میں امین الرحمن چغتائی کا مقام کسی تعارف کا معتاج نہیں ۔ انکی غزل میں تنوع،جدت،نازک خیالی،ندرت اور چابک دستی کا حسین امتنراج ہے۔ ذاکر محمد زخمی ، پروفسیراسرارلدین، فضل الرحمن بیغش، سعادت حسین مخفی، جمشید حسین مخفی اور محمد چنگیز خان طریقی جدید غزل کے اہم شعراہیں ان کی غزل بلاشبہ اردو اور فارسی غزل کی ہمسری کا دعوی کر سکتی ہے۔ موجودہ دور میں بھی غزل کا سفر جاری ہے جس میں بے شمار نئے لکھنے والے اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔ان میں سے چند نام یہ ہیں : پروفیسر اسرارالدین،جاوید حیات کا کا خیل، جاوید حیات، رحمت عزیزچترالی، امین اللہ امین، سبحان عالم سبحان، انورالدین انور، محمد شریف شکیب رب نواز خان نوازاور عطا حسین اظہر شامل ہیں۔سبحان عالم ساغر کی غزل سے تین حمدیہ اشعارپیش ہیں۔وہ لکھتے ہیں:۔
ہر دورا،ہر زمانہ جلوہ تہ نمایان شیر
طورا ، چاہ کنعانہ ، جلوہ تہ نمایان شیر
گمبو دیو خاموشیہ ، ہو رنگو چ ووریا
بلبلو ہے ترانہ ، جلوہ تہ نمایان شیر
زندہ کرے ماریس تو،ماری اجی زندہ کوس
بہار اوچے خزاں،جلوہ تہ نمایان شیر(
۷۰)
ترجمہ: ہر دور میں ہر زمانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے، کوہ طور میں، چاہ کنعان میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔پھول کی خاموشی میں، اس کے رنگ اور خوشبو میں اور بلبل کے ترانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔زندہ کر کے مارے گا بھی تو ہی اور مار کر زندہ بھی تو ہی کرے گا ، بہار اور خزاں میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔ مترجم ( رحمت عزیز چترالی)

کھوار حمد نگاری میں صنفی اشتراک
کھوار ایک قدیم زبان ہے مگر اس کی ادبی تاریخ تین سو سال سے زیادہ قدیم نہیں البتہ لوک ادب کی قدامت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کھوارلوک ادب زیادہ تر گیتوں پا مشتمل ہے جسے
’’باشونو‘‘کہا جاتا ہے (۳۶)۔ باشونو کو آگے کئی سابقوں کے ساتھاہم موقعوں کی مناسبت سے گائے جانے والے گیتوں کو الگ الگ نام دیا جاتا ہے جن میں آشور جان جیسی مقبول صنف بھی شامل ہے جو نہ صرف ہر لعزیز ہے بلکہ ہر عمر کے فرد کو کچھ نہ کچھ یاد ہے(۳۷)۔ کھوار ادب میں ماں سے متعلق تمام گیتوں کو مہرو شونو (۳۸) کہا جاتاہے اس میں ذیلی طورپر لوری )ہووئینی(شامل ہے جسے مائیں بچوں کو سلانے کے لیے گاتی ہیں۔ اس میں بچوں کے لیے نیک تمنائیں اور کامیابی کی دعائیں مانگی گئی ہوتی ہیں۔ کھوار لوری میں حمد یہ عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔جیسے:۔
ترجمہ: دم دارستارہ ا
ٓسمان کی ایک سمت سے چل کے دوسری طرف جائے گا میرا بیٹا بہت ہی اچھا ہے۔ یہ بلکل روئے گا نہیں بلکہ سوئے گا۔ اللہ بہت بڑا ہے اس نے چاند کو پیدا کیا ہے اور ستاروں کو چاند کے ساتھ بطورپہرہ دار بنایا ہے اور چاند کی روشنی ہر جگہ پہنچے گی میرا بیٹا بہت ہی اچھا ہے۔ یہ بلکل روئے گا نہیںبلکہ سوئے گا(۳۹


کھوار ادب میں اردو میں مروجہ تمام اضاف ادب موجود ہیں البتہ کھوار گیتوں کی صنف قدیم شاعری میں سب سے نمایاں اور کثرت سے ہے ۔مگر جدید شاعری میںاب نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں اور نئی نئی اضاف کا اضافہ دیکھنے میں ا
ٓ رہا ہے۔ غزل کے حوالے سے دیکھیں تو کھوار ادب کی معلوم تاریخ کا پہلا شاعر ہی غزل گو ہے اور انکی غزل اس سطع پر تھی جہاں ان کی فارسی شاعری تھی ۔ یعنی اتالیق محمد شکور غریب نے اپنے دیوان کے آخر پر جو کھوار ادب کا باب شامل کیا ہے اس میں غزل زیادہ ہے ۔وہ نہ صرف فارسی شعری روایت کے اساتذہ میں سے تھے بلکہ فارسی غزل کے نامور شاعر تھے۔ اس لیے جب وہ اپنی مادری زبان کی طرف رجوع ہوئے تو ان کی کھوار غزل میں فارسی غزل کا تمام تجربہ اور فن منتقل ہو گیا۔ مگر پہ کام فارسی زدہ سا لگتا ہے ان کے بعد مولانامحمد سیئر سیئر اور باچہ خان ہما نے غزل کو بلند مقام ہے تجمل شاہ محوی، حبیب اللہ فدا برنسوی ، مرزا فردوس فردوسی، بابا ایوب ایوب اور عزیرالرحمن بیغش نے کھوار غزل میں انپے قلم کے جوہر دکھائے۔ جدید ادب میں بھی غزل کا جادہ سر چڑھ کر بول رہا ہے البتہ روایتی مضامین کی جگہ جدید مضامین نے لے لی ہے ۔ جدید غزل لکھنے والوں میں امین الرحمن چغتائی کا مقام کسی تعارف کا معتاج نہیں ۔ انکی غزل میں تنوع،جدت،نازک خیالی،ندرت اور چابک دستی کا حسین امتنراج ہے۔ ذاکر محمد زخمی ، پروفسیراسرارلدین، فضل الرحمن بیغش، سعادت حسین مخفی، جمشید حسین مخفی اور محمد چنگیز خان طریقی جدید غزل کے اہم شعراہیں ان کی غزل بلاشبہ اردو اور فارسی غزل کی ہمسری کا دعوی کر سکتی ہے۔ موجودہ دور میں بھی غزل کا سفر جاری ہے جس میں بے شمار نئے لکھنے والے اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔ان میں سے چند نام یہ ہیں : پروفیسر اسرارالدین،جاوید حیات کا کا خیل، جاوید حیات، رحمت عزیزچترالی، امین اللہ امین، سبحان عالم سبحان، انورالدین انور، محمد شریف شکیب رب نواز خان نوازاور عطا حسین اظہر شامل ہیں۔سبحان عالم ساغر کی غزل سے سے ایک حمدپیش ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: ہر دور میں ہر زمانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے، کوہ طور میں، چاہ کنعان میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔پھول کی خاموشی میں، اس کے رنگ اور خوشبو میں اور بلبل کے ترانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔زندہ کر کے مارے گا بھی تو ہی اور مار کر زندہ
بھی تو ہی کرے گا ، بہار اور خزاں میں تیرا جلوہ نمایاں ہے(
۴۰)۔ مترجم ( رحمت عزیز چترالی)


نظم کے حوالے سے کھوار ادب میں کافی کام ہوا ہے اور اس کام کو نثر سے زیادہ وقیع کہا جا سکتا ہے۔ اس میں اگر غزل کے علاوہ تمام قسم کی شاعری کو شامل کر لیا جائے تو یہ کام قابل فخر ہے۔ اس میدان میں مثنوی کے حوالے سے اتالیق محمد شکور غریب کا نام ابتدائی حوالہ ہے جبکہ مثنوی کی صنف قدیم ہے ۔ قطعات کے حوالے سے بھی اتالیق کا نام لیا جا سکتا ہے۔ مرز امحمدسیئر کو بھی مثنوی اور نظم کے حوالے سے اہم مقام حاصل ہے جبین، ا
ٓمان ، زیارت خان زیرک گل اعظم خان وغیرہ کو گیتوں کی وجہ سے اہم مقام حاصل ہے جدید ادب میں نظم کے حوالے سے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، گل نواز خاکی ،سلطان علی، صالع نظام، مبارک خان ، عبدالولی خان عابد ، محمد عرفان عرفان، محمد جناح الدین پروانہ، امتیاز احمد امتیاز، صمصام علی رضا اور سیلم الٰہی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔رحمت عزیز چترالی کی حمدیہ نظم کا ترجمہ پیش ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: اے میرے پرودگار! یہ زمین تیری تخلیق ہے اور ا
ٓسمان بھی تیری ہی تخلیق ہے۔ یہ چرند،پرند،حیوان اور انسان بھی تیری تخلیق ہیں۔ تمام روحوں کو بھی تو نے ہی پیدا کیا ہے۔ ہمارے جسموں میںیہ جانیں بھی تیری ہی تخلیق ہیں یہ ناشکرا انسان پھر اس آیت کا مطب نہیں سمجھتا اور تیرا شکر ادا نہیں کرتا کہا’’تم انپے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے‘‘(۴۱)مترجم( رحمت عزیز چترالی)


مثنوی کے حوالے سے کھوار ادب میں کافی ذخیرہ ہے اس حوالے سے تقریبا سارے رومان مثنوی میں ہیں البتہ حمد کے حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ
’’یار من ہمیں‘‘ایک رومان ہے مگر اس کے اشعار میں حمد کا وجود نہیں ملتا البتہ تصوف کی گنجاش ہے۔ کیونکہ رومان یا مثنوی کی ابتدا حمد سے ہوتی ہے تو شائد اس رومان کی ابتدا بھی حمد سے ہوئی ہو مگر تمام تمام شعر دستیاب نہیں مختلف محققین نے اس کے مختلف شعر درج کیے ہیں اور ابتدائی اشعار بھی طے نہیں ہو سکے۔ تاج محمد فگار کی ایک مثنوی نما حمد کے تیرہ میں سے دو شعرپیش ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی حاجتیں پوری کرنے والا نہیں اگر وہ رحم کرے تو اس کے لیے رحم کرنا مشکل نہیں۔تو ایک اللہ ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تیرا کوئی شریک نہیں نہ ذات میں اور نہ صفات میں (
۴۲) مترجم (محمد انور چترالی)


سی حرفی کو کھوار ادب میں وہ مقام نہیں مل سکا جوہند کو میں ہے البتہ اس کی چند ایک مثالیں ضرور مل جاتی ہیں مگر حمد کے حوالے سے کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ چاربیتہ کی صنف کھوار ادب میں پشتو ادب سے ا
ٓئی اور اس نے یہاں خوب ترقی کی۔ اس حوالے سے کھوار میں قابل ذکر کام ہوا ہے۔ رحمت عزیزچترالی ایک چاربیتہ حاضرہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: پرندے تیری حمد و ثنا میں مصروف ہیں اور بلبل بھی ان کا ہمنواہے۔ کانٹے بھی تیری حمدوثنا سے خالی نہیں اور پھول بھی ان کے ساتھ ہیں ۔رحمت عزیز تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ معافی کی التجا میں اکیلا نہیں بلکہ اس کا بڑا بھائی رحمت گل بھی ساتھ ہے (
۴۳)۔مترجم ( رحمت عزیزچترالی)

((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((((

وہ قو م کی حیات ہے۔

نور شمس الدین شمسی

میں اس کے قریب مٹی  کے ڈھیر پر بیٹھ گیا اور سو چتا رہا کہ مو ت سے ہر ذی روح کو  واسطہ پڑ تا ہے اور پڑتا رہے گا ۔ مگر بعض اموات ایسی ہو تی ہے جو سوگواروں کے قا بل فخر اور سا تھیوں کیلئے قا بل رشک ہوتے ہیں۔وادی زئیت کے سپوت شہزاد رحیم کی مو ت بلکہ شہا دت بھی ایسی ہے جس نے لواحقین پر انمٹ نقوش چھو ڑے۔ یہ شہا دت مشیت ایزدی ہے لیکن حالا ت وواقعا ت کی کڑیو ں کو یکجا کیا جا ئے تو ایک ایسے ا فسانے کیصورت اختیار کرلیتاہے۔ جسمیں خو شیوں اور اہوں کی امتزاج کیسا تھ روایتی زندگی کی حرمتیں اور شادمانیاں بھی شامل ہیں۔ صرف 23سال کی عمر میں جا م شہا دت نو ش کر نے والا یہ نو جو ان چترال سکا وٹس میں بھرتی ہو تے ہی دنیا کی مشکل ترین محا ذ سیا چن میں خد ما ت سرانجا م دیتے رہے۔ پھر سوات کے حالات خر اب ہوئے تو وطن عزیز کو اس بہا در سپا ہی کا خیا ل آیا ۔ گزشتہ ایک سا ل سے وہا ں پر مامور شہزاد ایک دفعہ زخمی بھی ہو ا لیکن مہربان ماں کو پتہ چلا نہ دوستوں کو کا نو ںکا ن خبر ہو ئی ۔ زخم بھرائے تو گھر کا رخ کیا کچھ عر صہ گزارنے کے بعد واپس چلے گئے۔ لیکن مور خہ 27 جون 2009  کو  واپس آئے بھی تو ایمبو لینس کی سا ئیرن اور فو جی جو انو ان کی جھر مٹ میں سبز ہلالی پر چم میں لپٹے۔ گائو ں کی ہر انکھ اشکبا ر تھی۔ اہو ںاور سسکیو ں کے سا تھ ہرکوئی دھکم پیل میں مصر و ف تھا۔ ہر کو ئی ایک مرتبہ وہ حسیںچہرہ دیکھنا چاہتاتھا۔ جس نے ان کے گا ئو ں کو زندوں کی صف میں کھڑا کیا تھا۔

نا چیز کو تو اخر ی دید اد نصیب نہ ہو ا لیکن جنہوں نے دیکھا تھا  بتائے کہ شہزاد کا چہرہ ہمیشہ کیطرح کھلا ہو اتھا۔ چہرے کا زرد رنگ گائو ں والو ں کو بتا رہا تھا کہ میں نے خو ن کا اخر ی قطر ہ تک اپ کی حفا ظت میں بہا دی ہے۔ بیشانی پر زخم ما ںسے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا دیکھو امی جان !اپ کا بیٹا بزدل نہیں۔۔۔ پیٹ پر گو لی نہیں کھایا ۔۔۔مقا بلہ کیا تو سراٹھا کے۔۔۔ اور۔۔۔ شہید ہوا تو پیشانی پر گولی لے کے ۔

ہونٹو ں پر معمولی زخم والد سے مخاطب تھا۔ ابا! رونا مت ۔۔۔ دیکھو آپ کا بیٹا مسکرارہا ہے ۔۔۔ سرا ٹھا کے بتا دے گا ئوں والوں کو کہ آپ کے حصے میں جو عزت ائی ہے وہ میرے گھر سے ۔۔۔ ابا جان کہہ دے انھیں کہ سو کی ابادی میں اللہ نے میرے گھر کا انتخاب کیا ۔۔۔ابامجھے پتہ ہے کہ والد کے کندھے پر نوجوان بیٹے کی لاش سے بھاری بوجھ کچھ نہیں ہو سکتا ۔ لیکن ابا جان! آپ کا بیٹا تو مراہی ہے نہیں۔۔۔ پھرلاش کیسی۔۔۔ اور بوجھ کیسا۔۔۔ دیکھ ابا میں تو زندہ ہوں اور یہ گواہی خد ا دے رہا ہے ۔  ﴿اور جو  ا للہ کی راہ  میں قتل ہو تے ہیں انھیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور تم اس کا شغو ر نہیں رکھتے     . ﴾ابا جان  آپ کا بیٹا زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔

شہزاد کے اُ وپر بچھا ئی سبز ہلا ل پر چم گواہی دے رہا تھا ۔ کہ دوستی اور وفاداری کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ دیکھو لو گو !نصف آبادی کی موت پر نہ جھکنے  والا پر چم آج اس کی وفاداری کی وجہ سے اس کے ساتھ جارہا ہے ۔ اوپر سے مٹی گرے گی تو مجھ پر ۔اطراف سے کو ئی آئے گا  تو مجھے چھو ئے بغیر شہزاد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ دیکھو اس نے میرے ساتھ  وفا کیا آج میر ی باری ہے اور میں بے وفا نہیں ۔ ایک ایسے جگے پر میں اس کے ساتھ جارہا ہوں جہاںکوئی کسی کے ساتھ نہیں جا تا ۔

اور جب تدفین کے وقت فوجی جوان سلام دے رہے تھے تو لوگوں کا جو ش و خروش قا بل دید تھاہر کوئی اشک بار تھا لیکن اس بار خوشی کے انسو تھے ۔ ہر کوئی فخر کر رہا تھا ۔ اس عظیم سپوت جس نے سو ہنی دھرتی کی خاطر آپنی جان کی بازی لگادی ۔ ہر کوئی سلام کہہ رہا تھا اس ماں کی عظمت کو جس نے وفاداری کا  نہ ختم ہونے والا درس دیا تھا ۔ تدفین کے بعد شہزاد کے چچا جنا ب عارف اللہ نے ایک مختصر مگر جامع تقریر کی جس کا لب و لباب یہ تھا کہ اس چھوٹے گائوں کو اللہ نے ہر عزت دی ہوئی ہے اگر کمی تھا تو ایسے قبر کی جس کے اُپر قومی پر چم سدا لہراتا رہے ۔ آج و ہ کمی شہزاد نے پوری کر دی آج سے تاحیات زندہ رہنے والا یہ نوجوان میرا نہیں پورے گائوں کا بیٹا ہے ۔

شہزاد رحیم کی مقبر ے کے ساتھ بیٹھے ہو ئے یہ ساری  باتیں میرے ذہن میں گردش کررہی تھی ۔ ایک لمحے کے لیے خیا ل آیا کہ کیا واقعی شہزاد زندہ ہے ؟ کیا واقعی ہم شعور  نہیں رکھتے۔ دوسرا ہی لمحے خود ہی جواب دیا کہ اگر اللہ کا قرآن کہہ رہا ہے تو یقینا شہزاد زندہ ہے ۔ دل نے کہا اگر اسے دیکھنا ہے تو پر سکون نیند میں اسے دیکھیں ۔ اسے تلاش کر نا ہے تو پر امن فضا ئ میں تلاش کر ۔ آذادی کی ہر سانس میں آپ کی مہک ملے گی ۔ خوشی کی ہر مسکرا ہٹ میں اس کی آواز آئے گی ۔ میں وہا ں سے اُٹھا قبر پر چڑ ھے پاکستانی پر چم کی طرف دیکھا ۔ اور اُپر لہراتے ہوئے سبز ہلالی کو سلوٹ کیا اور کہا کون کہتا ہے پاکستان کمزور ہے ۔۔۔کون کہتاہے یہ ملک غیر مستحکم ہے اور ٹوٹے گا۔ جب تک قربانی کے جذبے سے سرشار شہزاد جیسے نوجوانو ں کا چترال سکاوٹس قا ئم ہے اس ملک پر انچ نہیں اسکتا۔

سلام شہزادتجھے سلام۔۔ چترال سکا وٹس ذندہ باد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s