Governor’s rule imposed in Punjab as Sharif brothers disqualified
The News – By Shakil Shaikh – Thursday, February 26, 2009
Under this proclamation, it is presumed that the constitutional machinery has failed in the province and the president is satisfied that the government of the province cannot be carried on in accordance with the provision of the Constitution. Now, Salmaan Taseer will call shots in the Punjab.
The president took the decision hours after the Supreme Court’s decision of disqualifying the Sharif brothers. The proclamation reads as follows:
“WHEREAS I, Asif Ali Zardari, President of the Islamic Republic of Pakistan, on receipt of report from the Governor of the Punjab and other information made available, am satisfied that the situation has arisen in which the Government of the Province of the Punjab cannot be carried on in accordance with the provisions of the Constitution.
“AND WHEREAS an unprecedented and unique constitutional void has been created in the Province consequent upon the decision of the Hon’ble Supreme Court of Pakistan on 25 February 2009 in the matter of disqualification/unseating of Mian Shahbaz Sharif as Member of Provincial Assembly.
“Now, THEREFORE, in exercise of the powers conferred by Article 234 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, I hereby -
a) “Direct the Governor of the Punjab to assume on my behalf the functions of the Government of that Province;
b) Make the following incidental and consequential provision which appear to be necessary or desirable for giving effect to the objects of this Proclamation:-
i) the Chief Minister and Provincial Ministers of that province shall forthwith cease to hold office;
ii) in the exercise of the functions which the Governor has been directed to assume hereinbefore stated, the Governor shall act to such extent and subject to such conditions as I shall, from time to time, deem fit to give or impose. ♣
“This Order shall, unless revoked earlier, remain in force for a period of two months”.
++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++
سپریم کورٹ نے نواز، شہباز کو نااہل قرار دیدیا
روزنامہ جنگ ۔ جمعرات، 26 فروری، 2009 اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے میاں شہبازشریف کے پی پی 48 بھکر سے کامیابی کے نوٹیفکیشن کو منسوخ قرار دیتے ہوئے ان کی پنجاب اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد میاں شہبازشریف وزارت اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے فارغ ہو گئے ہیں۔ جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں جسٹس سید سخی حسین بخاری اور جسٹس شیخ حاکم علی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اہلیت کیس میں دائر کردہ تمام درخواستوں کو خارج کر دیا ہے اور صرف سید خرم شاہ کی جانب سے دائر ایک درخواست کو منظور کیا، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ میاں شہبازشریف کی پی پی 48 بھکر سے کامیابی سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ میر ظفر اقبال اور شکیل بیگ کو عدالت کا وقت ضائع کرنے پرایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا۔ عدم ادائیگیِ جرمانہ پر دونوں کو تین تین ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی۔فاضل عدالت گزشتہ 8 ماہ سے شریف برادران کی اہلیت کیس کی سماعت کر رہی تھی جبکہ عدالت گزشتہ 6 ہفتوں سے اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت کے روبرو اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اہلیت کیس میں چیف سیکرٹری پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اہلیت کے معاملے میں چیف سیکرٹری اور اسپیکر نے بھی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ اس طرح تو اسپیکر کسی بھی ممبر کی اہلیت کے معاملے میں درخواست دائر کر سکے گا۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے بھی چیف سیکرٹری اور اسپیکر کی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ججز کے پی سی او کے تحت حلف کی بات غیر متعلقہ ہے کیونکہ اس وقت تمام ججز نے آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے جبکہ اس کیس میں جج صاحبان کے ذاتی تعصب کی بات درست نہیں ہے کیونکہ یہ کیس جج صاحبان کے ذاتی مفاد کا کیس نہیں ہے۔ اگر کسی کیس سے جج دستبردار ہوتا ہے تو یہ اس جج کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے جبکہ جج کا کیس سے دستبردار ہونا عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لئے درست اقدام نہیں ہے۔ کسی کیس میں بینچ تشکیل دینا چیف جسٹس آف پاکستان کا اختیار ہے یا پھر کسی کیس کو نہ سننے کے بارے میں جج خود فیصلہ کرے۔ انہوں نے دلائل آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف کے تجویز و تائید کنندہ اُس وقت فریق بن سکتے تھے، جب عدالت ان کو اجازت دے، تجویز و تائید کنندہ کا فریق بننا ضروری نہیں ہے۔ میں اس کیس میں میرٹ پر دلائل نہیں دیتا۔ میرٹ پر دلائل دینا فریقین کا کام ہے۔ میں صرف عدالتی معاونت کے لئے پیش ہو رہا ہوں۔ پاکستان میں تحریری آئین موجود ہے ۔عدالتوں نے مکمل انصاف کرنا ہے اور آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا فیصلہ سنانا ہے۔ عدالت کو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کس حد تک بڑھ کر فیصلہ سنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں کسی کیس میں، متاثرہ فریق ہی پٹیشن دائر کر سکتا ہے۔ وفاق کو ہائی کورٹ میں بھی فریق بنایا گیا، اس کو غیر ضروری فریق نہیں کہا جا سکتا۔ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد میاں نوازشریف کے تجویز و تائید کنندہ کے وکیل اکرم شیخ اور جج صاحبان کے درمیان بحث، تکرار اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے عدالت سے کہا ججز کو روزِ آخرت فیصلے کا جواب دینا ہو گا اور جواز دینا پڑے گا کہ انہوں نے فیصلہ کس طرح کیا۔ میں نے ابھی کہا کہ میرٹ پر دلائل نہیں دیئے۔ جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ ہم نے تو کہا تھا کہ میرٹ پر دلائل دیں اور اس کے لئے آپ کو جی بھر کر دلائل دینے کا موقع بھی دیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد شریف برادران کو نااہل قرار دیتے ہوئے میاں نوازشریف کے تجویز و تائید کنندہ شکیل بیگ ، سید ظفر اقبال، اسپیکر پنجاب اسمبلی، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر درخواستیں خارج کر دیں جبکہ صرف ایک درخواست منظور کی جو کہ شریف برادران کے مخالف سید خرم شاہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کے تحت میاں شہبازشریف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا گیا۔ فیصلے کے وقت عدالت میں ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر، احمد رضا قصوری اور ڈاکٹر محی الدین قاضی موجود نہیں تھے۔ میاں شہبازشریف کی نااہلی کے بعد بھکر سے صوبائی اسمبلی کی نشست خالی ہو گئی ہے۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا تھا اور میاں شہبازشریف کو وزارت اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تین جج صاحبان پر مشتمل ٹربیونل تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ جبکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو ہی مسترد کر دیا ہے۔
________________________________________________________
