Archive for December 26, 2008

پاکستان کی جانب سے مکمل جنگ کی وارننگ کے بعد بھارت حملے کے منصوبے پر نظر ثانی کیلئے مجبور

 پاکستان کی جانب سے مکمل جنگ کی وارننگ کے بعد بھارت حملے کے منصوبے پر نظر ثانی کیلئے مجبور

 

جمعه‏، 26‏ دسمبر‏، 2008

اسلام آباد (جنگ نیوز) پاکستانی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں نے خطے میں جس کشیدگی کو جنم دیا ہے وہ شاید کئی برسوں تک ختم نہ ہو سکے لیکن ان کی حکمت عملی نے بھارت کو فوجی، سفارتی اور سیاسی سطح پر اس مقام پر زیادہ دن قائم نہیں رہنے دیا جو اس نے ’ممبئی حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری کی ہمدردی، پرجوش سیاسی بیانات اور پاکستان کے اندر محدود فضائی حملوں یا سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کر کے حاصل کر لیا تھا۔‘ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت اپنی سب سے بڑی کامیابی ان کے ’اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کئے جانے کو قرار دے رہے ہیں کہ ان ممبئی حملوں میں پاکستانی ریاست یا اس کا کوئی ادارہ ملوث نہیں ہے۔‘ ذرائع کے مطابق ’جس واضح انداز میں پاکستانی فوجی قیادت نے امریکی فوجی قیادت کو بتایا کہ پاکستان میں محدود فضائی حملے خطے میں ایک مکمل جنگ کا باعث بنیں گے، اس نے پاکستان کی اطلاعات کے مطابق بھارت کو پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس (حملوں) کے منصوبے پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ’باخبر عسکری ذرائع کے مطابق‘ پیر کی شب گئے ایڈمرل مولن کو بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کے اندر بعض مقامات پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن کو اس بھارتی ایس- یو تیس جہاز کی تصاویر بھی دکھائی گئیں جو تمام اسلحے سے لیس پاکستان کے صوبے پنجاب کے مرکز میں واقع فوجی چھاؤنی کھاریاں کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق جس جہاز نے بارہ دسمبر کے روز لاہور سیکٹر میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اسے پہلے سے منتظر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے اپنی ’فائرنگ رینج‘ میں لے لیا تھا لیکن مار گرانے سے پہلے دی جانے والی تنبیہ پر اس طیارے نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ اس بھارتی طیارے کو مگ انتیس جہازوں کی ایک ٹکڑی کی پشت پناہی یا ضڈبیک اَپ سپورٹ بھی حاصل تھی جو بھارتی فضائی حدود سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ پاکستانی فوجی ذرائع کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ کا قبائلی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکمت کاروں کا کہنا ہے کہ بارہ دسمبر کو ہندوستانی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی فارمیشنز میں بعض اعلانیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے بارے میں امریکی فوجی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر خیبر ایجنسی میں آئندہ چند روز میں متوقع فوجی آپریشن کو بھی موٴخر کر کے اس کی اطلاع بھی پاکستان کے دورے پر آئے امریکی چیف آف سٹاف ایڈمرل مائک مولین کو دے دی گئی تھی جنہوں نے امریکہ پہنچنے کے بعد ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے اثرات شمالی پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس خیبر ایجنسی میں اس متوقع آپریشن پر تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہو سکے تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے باخبر ایک اور فوجی افسر نے تصدیق کی کہ خیبر ایجنسی میں پاک فوج کی نقل و حمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس نقل و حمل کو معمول کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ زیر کارروائی علاقوں میں فوجی دستوں کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

 

حالات کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں،جنگ کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا،وزیرخارجہ

 

ملتان (نمائندہ جنگ/ایجسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حالات کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں بہرحال جنگ کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا، بھارت سرجیکل اسٹرائیک کی غلطی کبھی نہ کرے، اگر ایسی غلطی ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت حالات کا مکمل جائزہ لے رہی ہے، اشتعال میں آئیں گے نہ دباؤ قبول کیا جائے گا، پاکستانی فورسز پوری طرح چوکس ہے اور ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، ملتان ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے جنگ نہیں چاہتا لیکن ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ سب ٹھیک ہے۔ پاکستان حالات کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔ ہمیں بھارت سے غافل نہیں رہنا چاہئے، اشتعال میں آئیں گے اور نہ دباؤ قبول کریں گے۔ افواج پاکستان اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا جانتی ہیں اور پوری طرح چوکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک سے رابطے میں ہیں، انہیں حالات سے باخبر رکھا جا رہا ہے، پاکستان اس حوالے سے او آئی سی سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اور انٹرپول کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہمارے موٴقف کی تائید کی ہے۔اے پی کے مطابق وزیرخارجہ نے کہاکہ ہمیں بہتری کی امید رکھنے کے ساتھ بدترین صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کو پیغام دے دیا ہے کہ محدود پیمانے پر جنگ کی غلطی نہ کرے، پاکستان بھر پور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پاکستان اپنے ایلچی دنیا کے مختلف ممالک میں بھجوائے تاکہ پاکستان کے موٴقف کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار ہو۔ قوم متحد ہے اور اپنی جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر مسلط کی گئی تو باوقار، غیرت مند اورغیور قوم کی طرح ملک کا دفاع کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کے ممبران کا کردار مثبت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو جارحانہ گفتگو کر رہے ہیں۔ جارحانہ گفتگو کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ہمیں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی، ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے، اپنے پر اعتماد ہے خدا کے فضل سے قوم متحد ہے۔

 

فوج کو عوام اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے،وزیراعظم

 

لاڑکانہ(بیورورپورٹ) وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پوری قیادت،قوم اور افواج ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری جنوبی ایشیا میں کشیدگی ختم کرائے۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کیلئے چوکس ہیں اور فوج کو عوام سمیت سیاسی جماعتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کیا گیا ہے اور اس پر ملک کی تمام سیاسی قوتیں اور صوبائی حکومتیں متفق ہیں۔ہم اس قتل کی تحقیقات اس لئے نہیں کرنا چاہتے کہ متاثرہ فریق ہونے کی وجہ سے ہم پر جانبداری کا الزام لگ سکتاہے۔گڑھی خدابخش بھٹو میں محترمہ بینظیربھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید مفاہمت پر یقین رکھتی تھیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد اسی پرعمل کیا اور تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر حکومت قائم کی۔ہم پنجاب سمیت پورے ملک میں نظام کو مستحکم کرنا اور اسے بچانا چاہتے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم پنجاب میں اگر کوئی غلط فہمی ہوگئی تو ہم پارٹی کو ہدایت کریں گے کہ وہ اس طرح کا ماحول پیدا نہ کریں جس سے سسٹم عدم استحکام کا شکار ہو۔

 

ملکی سلامتی کیلئے علماء نے حکومت اور افواج کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا

 

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وزارت داخلہ میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پاکستان کی سلامتی کیلئے حکومت اور مسلح افواج کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مشیر داخلہ رحمن ملک کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں محرم الحرام کیلئے 10 نکاتی ضابطہ اخلاق کی بھی متفقہ منظوری دے دی گئی۔ علمائے کرام کے اس اجلاس میں قومی سلامتی اور داخلی خطرات کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور شرکاء نے محرم کے دوران امن و امان کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے بعد مشیر داخلہ رحمن ملک نے سینیٹر علامہ عباس کمیلی، علامہ ایاز ظہیر ہاشمی اور مفتی منیب الرحمن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی منظوری ہماری قومی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات کو فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر رکھنا چاہئے۔ علما کو مذہبی مراکز سے اعتدال، ضبط و تحمل اور رواداری کے جذبوں کو فروغ دینا چاہئے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضابطہ اخلاق پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں ملک کے تمام مکاتب فکرکے آئمہ و خطباء سے اپیل کی گئی کہ 26 دسمبر کے جمعة المبارک کے خطبات میں قومی یکجہتی، پاکستان کی داخلی و خارجی سلامتی بین المسالک ہم آہنگی اور جیو اور جینے دو یعنی پرامن بقائے باہمی کو موضوع بنایا جائے اور وحدت ملت پر تقاریر کی جائیں۔

 

Leave a Comment

فرسٹ مائیکرو فنانس بنک دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر آگیا

FMFB ranked 7th among top 100 MFIs of world

فرسٹ مائیکرو فنانس بنک دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر آگیا

 

The News: Thursday, December 25, 2008
KARACHI: The First Micro Finance Bank Limited (FMFB) has been ranked 7th in the 2008 MIX Global 100 Composite Rankings of Microfinance Institutions (MFIs).

An announcement to this effect was made in a statement of the bank issued here on Wednesday. It said that the rankings issued by the Microfinance Information Exchange, Inc highlighted the performance of well rounded; leading MFIs that boost outreach and lower costs to serve clients in a transparent manner.

The statement further said that according to the report made available on the mix website www.themix.org on December 22, FMFB with the 7th position was the only MFI from Pakistan to make it to the top 25 MFIs of the world.

It said that the Aga Khan Agency for Microfinance as a global network was represented twice in the list of top 100 MFIs with FMFB, Tajikistan ranking in the top 100.

Based on data from MIX Market, the world’s most comprehensive public database on MFIs, the MIX Global highlights the leading performers in each of seven categories within outreach, scale, profitability, efficiency, productivity and portfolio quality.

The 2008 MIX Global surveyed 971 institutions for FY 2007, an increase of over 20 per cent over last year. And leading performers were drawn from a diverse sample of MFIs that served over 67 million borrowers with over $35 billion in loans and held $15 billion in deposits from 65 million micro-finance clients from all regions of the globe.

Overall, FMFB – Pakistan scored 80.58 per cent while the number one ranked MFI, MBK Ventura of Indonesia scored 87.18 per cent.

FMFB’s outreach was ranked relatively higher at 80.20 per cent with an exponential growth in borrowers of about 93.8 per cent as compared to the averaged borrower growth rates of 56 per cent by the leading 100 MFIs.

FMFB attained a 100 per cent score on transparency, meaning that it maintained at least three years of standard performance results on MIX market, with the last two verified by audit reports.

The statement further pointed out that the FMFB scored a 61.55 per cent as against the industry average of 56.42 per cent on efficiency, which was highlighted as a challenge for the overall industry.

The First Micro Finance Bank, a part of the Aga Khan Development Network, has played an instrumental role in reaching out to the poor segments of society by enabling individuals to strengthen their entrepreneurial base and build financial, physical and human capital for a sound and secure future.

The bank strives to alleviate poverty through sustainable economic development by offering credit, savings and life insurance services along with an efficient and low cost funds transfer service to its target populations.

With over 89 automated branches all over Pakistan and access to 4,000 Pakistan Post outlets, FMFB has disbursed over 380,000 loans in a short span of six years.

Leave a Comment

Scarcity of essentials in Chitral feared

Scarcity of essentials in Chitral feared

 

 

The News : Thursday, December 25, 2008
Our correspondent

CHITRAL: Former member of the provincial assembly member and leader of Jamiat Ulema-e-Islam-Fazl Maulana Jehangir on Wednesday blasted the government for not making proper arrangements to airlift the stranded Chitralis.

Addressing a press conference here, he said: “Hundreds of people have been stranded in Chitral and Peshawar but the government and the elected representatives have failed to make proper arrangements to airlift them.”

The JUI-F leader said the Chitralis were facing immense hardship, as there was no alternative arrangement in sight after the Lowari Top closure. He said the area was fast running short of essential items. Food items, fuel, sugar and other essentials in the area might be available for a week and then there would be acute scarcity of the commodities, he added.

Maulana Jehangir urged the federal and provincial governments to impress upon the authorities in Kabul to open Kunar-Arundao Pass to facilitate the Chitralis. He demanded the government to reduce the airfare for the under-developed people of Chitral besides increasing the PIA flights to the area. He also demanded of the government to ban the trees cutting forthwith as forest were fast depleting due to the timber mafia in Chitral.

_________________________________________________________________________________

 

Mega projects in Chitral soon

 

The News : Thursday, December 25, 2008
By By our correspondent

CHITRAL: The government will launch two mega projects to improve lifestyle of local people, especially womenfolk, stated Chitral Tehsil Nazim Sartaj Ahmad Khan here on Wednesday.

Briefing local journalists at his office, Sartaj Khan said a marble handicraft training centre would be set up to promote mosaic and handicraft sector. The centre would also provide livelihood opportunities to womenfolk, he said.

A management board comprising representatives of Small & Medium Enterprise Development Authority and the All Pakistan Marble Industries Association would maintain the centre. A marble mining and processing unit, a joint venture of local and foreign investors, would also be set up in Chitral at the total cost of Rs 275 million, Sartaj said, adding that the project would be completed in two years.

Leave a Comment