بھارتی عزائم ۔شاہینوں کی پروازیں اور عوامی ردعمل
وزنامہ جنگ ۔ بدھ، 24 دسمبر، 2008![]()
بھارت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے، عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے اور سفارتی مہم کو تیز کرنے کے لئے 120بھارتی سفیروں اور ہائی کمشنرز کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کر کے ان خدشات و خطرات کو تقویت دی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا فیصلہ کر چکا ہے اور اس کے لئے تیزی کے ساتھ عملی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کا وعدہ پورا نہ کیا تو بھارت خود کارروائی کرے گا بھارت کے پاس تمام آپشن کھلے ہیں اور وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔ وہ نہ پیچھے ہٹے گا نہ پاکستان کے خلاف کارروائی کے لئے دوسروں پر انحصار کرے گا ہمیں اس مسئلے سے خود نمٹنا ہے۔ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا ڈھانچہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے اسے توڑا جانا ضروری ہے۔ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا دباؤ کافی نہیں ۔ ممبئی حملوں کے بعد ہم دہشت گردوں کے خلاف موٴثر عملی اقدامات کے عزم پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوجی کارروائی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں لیکن جب حالات مجبور کریں تو پھر ایسا کرنا ہی پڑتا ہے ۔ بھارت کی طرف سے جہاں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا ہے وہاں بھارتی حکومت نے اپنے جارحانہ اقدامات کے لئے تمام عسکری ذرائع کو پوری طرح متحرک کرتے ہوئے راجستھان سیکٹر میں پاکستانی سرحد پر فوجیں جمع کر دی ہیں اور یہ فوجیں جنگی مشقوں میں مصروف ہیں اور گجرات میں پاکستانی سرحد کے ساتھ تعینات فوجوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ جیسلمیر، بیکانیر، صورت گڑھ، گنگا نگر، بھوج اور دیگر ہوائی اڈوں پر کمانڈوز کی تعیناتی جاری ہے اور وسیع پیمانے پر جنگی ساز و سامان کی ترسیل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ عسکری اور سفارتی محاذ پر بھارت جس سرگرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لئے کئے گئے فیصلوں کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے دو جرنیلوں کی مسلسل پاکستان میں موجودگی بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے اور ایڈمرل مائیکل مولن پاکستان کی عسکری قیادت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستان بھارت کے فضائی حملوں کا جواب نہ دے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ آئندہ 24 گھنٹوں میں لاہور سمیت آزاد کشمیر کے بعض مقامات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر چکی ہے لیکن یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور لاہور کے ہوائی اڈے پر ایف 7طیارے پہنچا دیئے ہیں جو بھارتی فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ ایئر فورس کے تمام اسٹیشنوں کو بھی پوری طرح متحرک کر دیا گیا ہے۔ عسکری قیادت نے امریکہ پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارتی حملے کی صورت میں پاکستان فوراً امریکہ کی لاجسٹک سپورٹ روک دے گا اور مغربی سرحدوں پر اپنی فوجوں کو بھی واپس بلا کر مشرقی محاذ پر تعینات کر دے گا۔ ادھر انٹرپول کے ڈائریکٹر جنرل کی بھی پاکستان آمد متوقع ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ مطلوبہ افراد کو گرفتار کر کے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور عسکری قیادت بھارتی دھمکیوں اور جنگی عزائم سے موثر طور پر نمٹنے اور ان کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پوری طرح متحرک ہے چنانچہ بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے مسلسل دھمکیوں اور دو روزہ کانفرنس سے خطاب کے بعد تینوں مسلح افواج کو چوکس اور بالخصوص فضائیہ اور ایئر ڈیفنس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور پاک فوج کے لڑاکا طیاروں نے لاہور، راولپنڈی ، آزاد کشمیر ، کوئٹہ اور کہوٹہ کی فضائی نگرانی تیز کر دی ہے ۔ بری اور بحری افواج بھی پوری طرح چوکس ہیں۔ پاک فضائیہ کے ایف 16، ایف 7،جے ایف تھنڈر 17 اور میراج طیاروں نے کل ان شہروں پر نیچی پروازیں کیں۔ کامرہ، پشاور اور مصحف میر ایئر بیس سرگودھا سے لڑاکا طیاروں کے فنی اور تکنیکی عملے کو چکلالہ اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر پہنچا دیا گیا ہے۔ لاہور میں ایف 16 جبکہ راولپنڈی میں جے ایف تھنڈر طیارے فضائی حدود کی نگرانی کرنے کے لئے جب محو پرواز تھے تو عوام خوفزدہ ہونے کی بجائے سڑکوں پر نکل آئے، مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے، ان طیاروں کو دیکھ کر بھارت کے خلاف اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے ۔ عورتوں، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد پاکستان زندہ باد اور پاک فضائیہ زندہ باد کے نعرے بلند کرتی رہی۔ اس طرح عوام نے ایک مرتبہ پھر 1965ء کی یاد تازہ کر دی۔ عوام کا کہنا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بھارت نے جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے بدنام کرنا چاہتا ہے۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح پر سفارت کاروں کو متحرک کرے اور پوری دنیا کو اس حقیقت سے باخبر کرے کہ بھارت دہشت گردی کا مرتکب ہے اس موقع پر عوام نے کھل کر امریکہ کے خلاف بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دوستی ہمارے لئے ہمیشہ ایک فریب اور دھوکہ ثابت ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص بھارتی دھمکیوں اور جنگی اقدامات کے جواب میں پاکستان کے ردعمل کے پیش نظر امریکی اور یورپی حلقے خاصے متحرک دکھائی دیتے ہیں چنانچہ امریکہ کے دو فوجی کمانڈر ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی اس موقع پر جنرل کیانی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکومت نے بھارتی جنگی جنون، پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں اور فوجی اقدامات کے پیش نظر قومی سلامتی کانفرنس طلب کر کے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے ایک اچھا اقدام کیا تھا اور کانفرنس کے شرکاء کی طرف سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کے اعلان نے قومی اتحاد و یکجہتی کا ایک حوصلہ افزا تاثر پیدا کیا تھا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی عزائم اور اس کے مغربی سرپرستوں بالخصوص اسرائیل امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی تائید و حمایت اور پاکستان کے خلاف دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے پیش نظر حکومت وسیع تر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے اور بالخصوص (ن) لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ اس مسئلے پر مشاورت کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی اپنی اپنی سنٹرل کمیٹی کا
اجلاس بلا کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنی چاہئیں تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں حکومت ایک موٴثر قومی حکمت عملی وضع کر سکے۔ بیرونی ممالک میں پاکستانی سفیروں اور ہائی کمشنرز کے مرحلہ وار اجلاس طلب کر کے انہیں بھی صورت حال سے آگاہ کرنے اور سفارتی محاذ کو بھارت کی طرح پوری طرح متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سفیروں کو پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی برادری کو ان سے آگاہ کرنے کا ہدف سونپا جائے۔ بھارت نے اس حوالے سے ہم پر سبقت حاصل کر لی ہے اور عالمی سطح پر بھارتی موقف کے حق میں پاکستان پر پڑنے والا دباؤ اس کا ایک ٹھوس ثبوت ہے اس کا جواب دینا اور ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے پیاف کے چیئرمین اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفاق کے سابق صدر کی یہ تجویز بھی حکومت کی خصوصی توجہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈہ اور جارحانہ عزائم کا موثر جواب دینے کے لئے وفاقی چیمبر سمیت ملک کے دیگر چیمبرز کے نمائندوں کو بھی فوری طور پر بیرون ملک بھیجا جائے ان کے تمام اخراجات کاروباری برادری برداشت کرے گی۔ بھارتی لیڈروں نے بے بنیاد الزام تراشی اور غلط پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جو ٹاسک اپنے سفیروں کو سونپا ہے پاکستان اس کا موثر جواب دینے کے لئے اپنے سفیروں کو متحرک کرے اور کاروباری طبقہ حکومت کی بھرپور معاونت کے لئے تیار ہے۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اندرونی محاذ مضبوط و مستحکم رہے اور عوام میں اپنے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے مایوسی پیدا نہ ہو لہٰذا تمام ضلعی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ حالات کی نزاکت اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح قرار دے کر انہیں حل کرنے میں کسی تامل یا تاخرکی بجائے بھرپور جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کریں۔ اس طرح تمام محاذوں کو متحرک کر کے ہم دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے اور اپنی آزاد ی، سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کرتے ہوئے ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔