Archive for December 24, 2008

بھارتی عزائم ۔شاہینوں کی پروازیں اور عوامی ردعمل،جنگ اردارتی صفحہ

بھارتی عزائم ۔شاہینوں کی پروازیں اور عوامی ردعمل

وزنامہ جنگ ۔ ‏بدھ‏، 24‏ دسمبر‏، 2008

بھارت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے، عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے اور سفارتی مہم کو تیز کرنے کے لئے 120بھارتی سفیروں اور ہائی کمشنرز کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کر کے ان خدشات و خطرات کو تقویت دی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا فیصلہ کر چکا ہے اور اس کے لئے تیزی کے ساتھ عملی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کا وعدہ پورا نہ کیا تو بھارت خود کارروائی کرے گا بھارت کے پاس تمام آپشن کھلے ہیں اور وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔ وہ نہ پیچھے ہٹے گا نہ پاکستان کے خلاف کارروائی کے لئے دوسروں پر انحصار کرے گا ہمیں اس مسئلے سے خود نمٹنا ہے۔ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا ڈھانچہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے اسے توڑا جانا ضروری ہے۔ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کا دباؤ کافی نہیں ۔ ممبئی حملوں کے بعد ہم دہشت گردوں کے خلاف موٴثر عملی اقدامات کے عزم پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوجی کارروائی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں لیکن جب حالات مجبور کریں تو پھر ایسا کرنا ہی پڑتا ہے ۔ بھارت کی طرف سے جہاں پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا ہے وہاں بھارتی حکومت نے اپنے جارحانہ اقدامات کے لئے تمام عسکری ذرائع کو پوری طرح متحرک کرتے ہوئے راجستھان سیکٹر میں پاکستانی سرحد پر فوجیں جمع کر دی ہیں اور یہ فوجیں جنگی مشقوں میں مصروف ہیں اور گجرات میں پاکستانی سرحد کے ساتھ تعینات فوجوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ جیسلمیر، بیکانیر، صورت گڑھ، گنگا نگر، بھوج اور دیگر ہوائی اڈوں پر کمانڈوز کی تعیناتی جاری ہے اور وسیع پیمانے پر جنگی ساز و سامان کی ترسیل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ عسکری اور سفارتی محاذ پر بھارت جس سرگرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لئے کئے گئے فیصلوں کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے دو جرنیلوں کی مسلسل پاکستان میں موجودگی بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے اور ایڈمرل مائیکل مولن پاکستان کی عسکری قیادت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستان بھارت کے فضائی حملوں کا جواب نہ دے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ آئندہ 24 گھنٹوں میں لاہور سمیت آزاد کشمیر کے بعض مقامات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر چکی ہے لیکن یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور لاہور کے ہوائی اڈے پر ایف 7طیارے پہنچا دیئے ہیں جو بھارتی فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ ایئر فورس کے تمام اسٹیشنوں کو بھی پوری طرح متحرک کر دیا گیا ہے۔ عسکری قیادت نے امریکہ پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارتی حملے کی صورت میں پاکستان فوراً امریکہ کی لاجسٹک سپورٹ روک دے گا اور مغربی سرحدوں پر اپنی فوجوں کو بھی واپس بلا کر مشرقی محاذ پر تعینات کر دے گا۔ ادھر انٹرپول کے ڈائریکٹر جنرل کی بھی پاکستان آمد متوقع ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ مطلوبہ افراد کو گرفتار کر کے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور عسکری قیادت بھارتی دھمکیوں اور جنگی عزائم سے موثر طور پر نمٹنے اور ان کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پوری طرح متحرک ہے چنانچہ بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے مسلسل دھمکیوں اور دو روزہ کانفرنس سے خطاب کے بعد تینوں مسلح افواج کو چوکس اور بالخصوص فضائیہ اور ایئر ڈیفنس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور پاک فوج کے لڑاکا طیاروں نے لاہور، راولپنڈی ، آزاد کشمیر ، کوئٹہ اور کہوٹہ کی فضائی نگرانی تیز کر دی ہے ۔ بری اور بحری افواج بھی پوری طرح چوکس ہیں۔ پاک فضائیہ کے ایف 16، ایف 7،جے ایف تھنڈر 17 اور میراج طیاروں نے کل ان شہروں پر نیچی پروازیں کیں۔ کامرہ، پشاور اور مصحف میر ایئر بیس سرگودھا سے لڑاکا طیاروں کے فنی اور تکنیکی عملے کو چکلالہ اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر پہنچا دیا گیا ہے۔ لاہور میں ایف 16 جبکہ راولپنڈی میں جے ایف تھنڈر طیارے فضائی حدود کی نگرانی کرنے کے لئے جب محو پرواز تھے تو عوام خوفزدہ ہونے کی بجائے سڑکوں پر نکل آئے، مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے، ان طیاروں کو دیکھ کر بھارت کے خلاف اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے ۔ عورتوں، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد پاکستان زندہ باد اور پاک فضائیہ زندہ باد کے نعرے بلند کرتی رہی۔ اس طرح عوام نے ایک مرتبہ پھر 1965ء کی یاد تازہ کر دی۔ عوام کا کہنا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بھارت نے جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے بدنام کرنا چاہتا ہے۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح پر سفارت کاروں کو متحرک کرے اور پوری دنیا کو اس حقیقت سے باخبر کرے کہ بھارت دہشت گردی کا مرتکب ہے اس موقع پر عوام نے کھل کر امریکہ کے خلاف بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دوستی ہمارے لئے ہمیشہ ایک فریب اور دھوکہ ثابت ہوئی ہے۔ 
اس پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص بھارتی دھمکیوں اور جنگی اقدامات کے جواب میں پاکستان کے ردعمل کے پیش نظر امریکی اور یورپی حلقے خاصے متحرک دکھائی دیتے ہیں چنانچہ امریکہ کے دو فوجی کمانڈر ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی اس موقع پر جنرل کیانی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکومت نے بھارتی جنگی جنون، پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں اور فوجی اقدامات کے پیش نظر قومی سلامتی کانفرنس طلب کر کے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے ایک اچھا اقدام کیا تھا اور کانفرنس کے شرکاء کی طرف سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کے اعلان نے قومی اتحاد و یکجہتی کا ایک حوصلہ افزا تاثر پیدا کیا تھا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی عزائم اور اس کے مغربی سرپرستوں بالخصوص اسرائیل امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی تائید و حمایت اور پاکستان کے خلاف دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے پیش نظر حکومت وسیع تر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے اور بالخصوص (ن) لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ اس مسئلے پر مشاورت کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی اپنی اپنی سنٹرل کمیٹی کا 
اجلاس بلا کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنی چاہئیں تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں حکومت ایک مو
ٴثر قومی حکمت عملی وضع کر سکے۔ بیرونی ممالک میں پاکستانی سفیروں اور ہائی کمشنرز کے مرحلہ وار اجلاس طلب کر کے انہیں بھی صورت حال سے آگاہ کرنے اور سفارتی محاذ کو بھارت کی طرح پوری طرح متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سفیروں کو پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی برادری کو ان سے آگاہ کرنے کا ہدف سونپا جائے۔ بھارت نے اس حوالے سے ہم پر سبقت حاصل کر لی ہے اور عالمی سطح پر بھارتی موقف کے حق میں پاکستان پر پڑنے والا دباؤ اس کا ایک ٹھوس ثبوت ہے اس کا جواب دینا اور ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے پیاف کے چیئرمین اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفاق کے سابق صدر کی یہ تجویز بھی حکومت کی خصوصی توجہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈہ اور جارحانہ عزائم کا موثر جواب دینے کے لئے وفاقی چیمبر سمیت ملک کے دیگر چیمبرز کے نمائندوں کو بھی فوری طور پر بیرون ملک بھیجا جائے ان کے تمام اخراجات کاروباری برادری برداشت کرے گی۔ بھارتی لیڈروں نے بے بنیاد الزام تراشی اور غلط پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جو ٹاسک اپنے سفیروں کو سونپا ہے پاکستان اس کا موثر جواب دینے کے لئے اپنے سفیروں کو متحرک کرے اور کاروباری طبقہ حکومت کی بھرپور معاونت کے لئے تیار ہے۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ اندرونی محاذ مضبوط و مستحکم رہے اور عوام میں اپنے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے مایوسی پیدا نہ ہو لہٰذا تمام ضلعی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ حالات کی نزاکت اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح قرار دے کر انہیں حل کرنے میں کسی تامل یا تاخرکی بجائے بھرپور جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کریں۔ اس طرح تمام محاذوں کو متحرک کر کے ہم دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے اور اپنی آزاد ی، سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کرتے ہوئے ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔

Leave a Comment

پاکستان دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار ہوا،بھارت نے ثبوت دیئے نہ مطلوب افراد کی فہرست، انٹرپول

روزنامہ جنگ ۔ ‏بدھ‏، 24‏ دسمبر‏، 2008

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)انٹرپول کے سیکرٹری جنرل رونالڈ نوبل نے کہا ہے کہ بھارت نے اب تک ممبئی حملوں کے حوالے سے انٹرپول کو کوئی ثبوت یا مطلوب افراد کے نام نہیں دیئے اور نہ ہی وہ اس واقعہ کی انٹرپول کو تحقیقات کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہے، پاکستان کا انتہائی فعال اور متحرک ملک کی حیثیت سے انٹرپول سے بھرپور تعاون قابل تقلید ہے اور یہ سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک ہے، عالمی سطح پر پاکستان کا مرکزی کردار ہے اس لئے اسے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستانی تعاون سراہتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کی تکنیک اور دیگر حوالوں سے سب سے زیادہ معلومات ہمیں یہیں فراہم کی گئیں، انہوں نے کہا کہ ہم ممبئی بم دھماکوں کی تحقیقات میں ہرممکن تعاون پر تیار ہیں لیکن نئی دہلی معلومات دینے پر رضامند نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی دہشتگردی کے حوالے سے بھارتی دعوؤں کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، منگل کو مشیر داخلہ سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کا ہر طبقہ دہشت گردی سے متاثر ہے اس کے بہت سے پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد مارے گئے حتیٰ کہ قوم کی ایک بڑی لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو بھی شہید ہوئیں۔ پاکستان میں صرف سولہ ماہ کے دوران خودکش حملوں میں 1500 افراد مارے گئے ہیں کوئی ملک بھی پاکستان سے زیادہ متاثر نہیں ہوا اس لئے پاکستان بین الاقوامی حمایت اور تعاون کا حقدار ہے۔ انہوں نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انٹرپول کے درمیان قریبی رابطہ ہے اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عالمی سطح پر اپنے تجربات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور پاکستان نے ہی خودکش حملہ آوروں کی تکنیکی اور دیگر حوالوں سے ہمیں سب سے زیادہ معلومات فراہم کی ہیں پاکستان کا تعاون قابل تقلید ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انٹرپول کے دفاتر اپنے طور پر ہر واقعہ کے ثبوت اکٹھے کرتے رہتے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے انٹرپول کو ممبئی حملوں کے حوالے سے کسی قسم کے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اس لئے ہماری معلومات بھی اتنی نہیں ہیں جتنی آپ کو معلومات ہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ تیزی سے معلومات فراہم کرے تاکہ کارروائی ہو سکے پاکستان ہر ممکن تعاون کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بھارت کا حق ہے کہ وہ انٹرپول سے رجوع کرتا ہے یا نہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ انٹرپول تین طریقوں سے کسی سے بھی تعاون کر سکتا ہے ہم ثبوت اکٹھے کرنے میں تعاون کرتے ہیں بلیو نوٹس یا مطلوبہ ملزمان کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرتے ہیں لیکن ہمیں اب تک بھارت کی طرف سے کوئی نام نہیں دیا گیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں انٹرپول کے اہم رکن ہیں بھارت کی طرف سے ممبئی دھماکوں کے حوالے سے کئے جانے والے دعوؤں کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بھارت قومی سطح پر یا انٹرپول کے ذریعے تحقیقات کر سکتا ہے ہم نے اس کے لئے بھارت کو ایک فریم ورک بھی دیا ہے۔

Leave a Comment

Moot on govt-CSO partnership

Moot on govt-CSO partnership

The News – Wednesday, December 24, 2008, By Our correspondent, Islamabad

Development practitioners and stakeholders attending a national consultative workshop on ‘Government-CSO partnerships: towards promoting a PPP framework’ have come up with valuable recommendations that will help find a way forward to foster stronger and effective collaboration between government and civil society organisations (CSOs) on a sustainable basis.

Organised by the Pakistan Centre for Philanthropy, which is an implementing partner of Aga Khan Development Network’s Civil Society Programme (CSP) in Pakistan, the workshop was attended by high ranking government officials, representatives of civil society, donors and eminent citizens. Prominent among the guests were Special Assistant to Prime Minister on Social Sector Shahnaz Wazir Ali, executive director of PCP Anjum R. Haque, and co-chair research, PCP, Zaffar A. Khan, who elaborated on the importance of government-CSO partnerships.

The PCP undertook a small scale exploratory research on the nature and dimensions of government-CSO partnerships in Pakistan. The study attempted to define collaboration on theoretical plane and examined some existing successful examples of collaboration.

As part of the continued consultative endeavour, PCP shared the draft report’s findings with stakeholders. The workshop aimed at soliciting views and recommendations from a diverse and experienced range of stakeholders in Pakistan in order to find a way forward to foster stronger and effective collaboration between government and CSOs on a sustainable basis. The stakeholders’ input will be incorporated in the draft report, which will assist PCP in producing the final report.

Established in 2001, PCP aims to increase the volume and effectiveness of philanthropy for social development in Pakistan through facilitating linkages between philanthropists, non-profit organisations and government. Philanthropy-related evidence-based research is central to PCP’s work and aims to enhance understanding of various dimensions of philanthropy and civil society. 

This programme, on the one hand, endeavours to expand the empirical map on voluntary giving which largely remains untapped, while simultaneously the research findings help stakeholders better plan and organise social investment for civic benefit in Pakistan. Sharing this evidence-based information through effective communication channels is also an integral part of PCP’s mandate.

Leave a Comment

Persevering savioursثابت قدم مسیحاییں

Persevering savioursثابت قدم مسیحاییں 

The News – Wednesday, December 24, 2008, By Aroosa Masroor, Karachi

Rescuing survivors of a disaster is possibly one of the toughest jobs one can do, and given the frequency of both natural and man-made disasters in Pakistan, rescue workers stand at constant vigil to protect citizens. Rozina Qadir, is one such worker who has been volunteering for people’s safety for over two years now. 

At the age of 35, Rozina defies the stereotype that only men are fit for search and rescue operations. During each of her operations, Rozina’s life is on the line, but she faces all such missions fearlessly. She is one of nine females in a team of 40 members of FOCUS Humanitarian Assistance, an international crisis and response and disaster risk reduction agency, which has been working in Pakistan for over a decade now. 

FOCUS was founded in 1998 by the Ismaili community and is affiliated with the Aga Khan Development Network in Pakistan. Operating in Karachi, Islamabad, Peshawar, the Northern Areas and Chitral, the team is trained in urban, mountain, avalanche, and water search and rescue. 

More than their rigorous training, what is surprising is the commitment of these workers – all of whom are volunteers. From Karachi alone there are 20 members comprising professionals, students, and housewives. “I had always wanted to help humanity in some way, but when my children were younger, I knew I could not engage in an emergency operation. Now that they are older, I feel its time I give something back to society,” said Rozina, now a mother of three teenaged children.

Amyn Dossa, Chairman FOCUS Pakistan, believes it is all about commitment. “You can only become a rescue worker if you understand the value of human life and are committed towards serving humanity. No one can force or train you to be one unless you are convinced from within,” he said. He added that the team has been trained with the help of international rescue teams, including Avalanche and fire-fighting rescue workers from Sweden and France. 

Moreover, Rapid UK regularly visits to train the Pakistani rescue team. Dossa, however, stressed that it is not just training that the workers need. “Possessing the right equipment and technical expertise is just as essential.” 

Citing the example of the recent Marriott bomb blast in Islamabad, he said that government rescue teams were unable to evacuate the top floors of the hotel because they lacked the sophisticated equipment needed to carry out rescue operations. 

In the aftermath of the October 2005 earthquake, FOCUS provided relief to victims initially in Margalla Towers, Islamabad and later in Balakot and Muzaffarabad. The team was also present in the recent Balochistan earthquake in October 2008. “Before the rescue operation begins,” said Dossa, “a Disaster Assessment Response Team first carries out the initial damage and needs assessment in the area after which the rescue team follows through.”

The team has not only responded to the disasters within the country, but also in neighbouring countries including China (during the May 2008 earthquake) and India (during the 2004 tsunami). Dossa added that the government recently approached FOCUS to train CDGK’s Urban Search and Rescue team, and is working in collaboration with the government’s National Disaster Management Authority. “It is difficult to work in isolation, and such efforts should be collective. In areas where FOCUS does not have access, we work in assistance with the Army too.”

When not working in disaster-struck areas, the team shifts its focus to disaster-prone areas of the country through its PMP (Prevention, Mitigation and Preparedness) programme. “Through the PMP programme, we have trained communities in ‘red zone’ areas of Gilgit and Chitral – two naturally hazardous regions of the country,” said Dossa, adding that people residing in these strong seismic zones were earlier unaware of the risks of living in the area. “An attitude change has been noticed. 

People are now aware of the importance of such training, and this awareness in itself is a powerful source of motivation,” he said. This degree of self-reliance has helped women in the area overcome their fear too. “They feel safer and better prepared now,” he added.

During the training programme, necessary equipment is stored in each participating village as well. A standard emergency stockpile comprises blankets, shovels, tarpaulins, tents, ropes, torches, batteries, axes, bamboo poles, crowbars and first aid kits. “Satellite telephones for emergency communications have also been introduced.” When asked why more people have not volunteered for the programme in a span of ten years, Dossa explained: “The problem is that we do not value human life as we should. The need for more rescue teams will not be realised until we educate people and convince them to come forward.” 

Keeping in mind the climate change and severe weather conditions, natural disasters across the world are expected to rise in the coming years, including Pakistan. “Urban and rural communities are equally vulnerable. We need to prepare ourselves so we can help minimise the impact of disasters.” For this, Dossa suggests that more volunteers like Rozina, irrespective of their gender or profession, should come forward. 

Leave a Comment

Chitralis want extra PIA flights, chopper service

Chitralis want extra PIA flights, chopper serviceچترال کے لیے پی آیی اے کی اضافی پروازیں شروع کی جاییں،یا پھر چوپر ہیلی کاپٹروں سروس جلد شروع کیا جایے

The News | Wednesday, December 24, 2008

By Bureau report 

PESHAWAR: Unrest among the inhabitants of Chitral is growing with each passing day as no proper arrangement has so far been made to connect the area with the rest of the country after the closure of the Lowari Pass. Hundreds of people have reportedly been stranded both in Chitral and Peshawar after the closure of the Lowari Top. 

“Neither an agreement has been signed with Afghanistan to allow safe passage through Kunar province, nor the number of PIA [Pakistan International Airline] flights has been enhanced after the closure of the pass,” lamented a number of Chitralis, who failed to get tickets for their native valley from Peshawar. “We are visiting the PIA office for the last many days but failed to get tickets owing to cancellation of flights due to bad weather,” they said.

They said the government should start chopper service from Dir to facilitate the people. “We are also ready to travel through Afghanistan provided proper arrangement is made for our security,” they said.

The Chitralis, led by former MNA Maulana Abdul Akbar, also staged a protest demonstration outside Peshawar Press Club in support of their demands. Holding banners and placards, the protesters chanted slogans in favour of their demands. They said their district remained cut off from rest of the country during entire winter due to heavy snowfall on the Lowari Top, a lone ground link to the landlocked district. 

They said that presently PIA was undertaking only one flight a day. They demanded that the number of Peshawar-Chitral flights should be increased to four from one to enable more people have access to their native district. The protesters also said that C-130 flights to the district should also be approved keeping in view the rush. 

“These days, we have been receiving large number of Hajis but there are very few flights to take them to their homes, so C-130 aircraft should be employed to fly them to Chitral,” Abdul Akbar said. 

Leave a Comment