Archive for December 6, 2008

بھارت کا روس سے جوہری اور خلائی تعاون کا معاہدہ

نئی دہلی(مانیٹرنگ سیل) روس اوربھارت میں نئی دہلی میں ایٹمی توانائی اور خلائی تحقیق میں تعاون کے سمجھوتوں کا معاہدہ طے پاگیا، روسی صدر اور بھارتی وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط کیے، معاہدے کے تحت روس 4جوہری ری ایکٹر بنانے میں ہندوستان کی مدد کرے گا، پہلے ہی ایک ہزار میگاواٹ کے 2 ری ایکٹر تعمیر کر رہا ہے ،بھارت کو 80 فوجی ہیلی کاپٹر کی فراہمی سمیت 2015ء تک بھارت انسان بردار خلائی جہاز خلاء میں بھیجے گا دوسری جانب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ جوہری اور خلائی سمجھوتے سے روس اور ہندوستان کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، روس کی مدد سے جوہری پاور پلانٹ جنوبی بھارت میں تعمیر کیا جائے گا، دونوں رہنماؤں نے یہاں بھارتی دارالحکومت میں دستخط کیے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ممبئی دہشت گردی کے بعد بھارتی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، قبل ازیں روسی صدر نے بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی سے بھی ملاقات کی،یاد رہے کہ روسی صدر دیمیتری میدیدوف تین روزہ دورے پر بھارت پہنچے ہیں، دیمیتری میدیدوف کے دورے کا مقصد خطے کی صورتحال پر تبادلہ ٴ خیال کرنا تھا، روس اور بھارت کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت روس بھارتی ریاست تامل ناڈو میں چار نئے ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کرے گا، امریکا اور فرانس کے بعد روس تیسرا ملک ہے جس نے بھارت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ روس کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخ کے نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ روس کے صدر نے کہا کہ روس ممبئی حملوں کی چھان بین اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ روسی وزیراعظم ولادیمیر پیوٹن نے امید ظاہر کی ہے کہ اوباما کے صدارت سنبھالنے کے ساتھ روس کے تعلقات میں گرم جوشی کی امید ہے۔ روسی صدر نے نئی دہلی میں بھارتی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روس، بھارت کے ساتھ فوجی تعاون میں اضافہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مستقبل میں دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کے لئے عالمی و دفاعی نظام تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے جارجیا یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے لئے حتمی ٹائم ٹیبل مقرر نہ کرنے پر مغربی اتحاد کی تعریف کی۔

Leave a Comment

لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

لاقانونیت کی جڑ؟….صبح بخیرڈاکٹر صفدر محمود، روزنامہ جنگ

اصولی طور پر فرح بیٹی کے نمبر بڑھوانے کا راز کھلنے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنے عہدے کا وقار برقرار رکھنے کے لئے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا بشرطیکہ انہیں اتنے بلند عہدے کا وقار عزیز ہوتا یا پھر اپنا وقار ملحوظ خاطر ہوتا، لیکن اصل پرابلم یہ ہے کہ ہم اصولوں کی بات اس معاشرے میں کر رہے ہیں۔ جہاں بے اصولی ہی اصول بن چکی ہے اور ہر طاقتور اصولوں کو ہماری نگاہوں کے سامنے پامال کر رہا ہے۔ جس معاشرے میں لوگ عہدے، دولت اوراثرورسوخ کا فائدہ اٹھا کر قوانین کو اپنی ضرورت کے سانچے میں ڈھالنے لگیں اور اصولوں کو روندنے لگیں ایسے معاشروں میں ہم جیسے قلمکاروں کی آواز صدابصحرا ہوتی ہے اور خلق خدا چپ چاپ ظلم و بے انصافی سہنے کی عادی ہو جاتی ہے۔ اپنے اردگرد نگاہ ڈالئے اور دیکھئے کہ ہمارے با اثر کس طرح قوانین اوراصولوں کا مذاق اڑا رہے ہیں جبکہ بے اثر و بے سہارا انہی قوانین کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قوم دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک بااثر طبقہ جو ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہے اور دوسرا بے اثر عوام کا ہجوم جن پر ہر قسم کا قانون لاگو کیا جاتا ہے اور وہ چپ چاپ ظلم سہتے رہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہ صورت حال اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی قائم نہیں کی جاتی لیکن سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی میں کونسی قوتیں حائل ہیں؟ کون لوگ ہیں جو قانون کی حکمرانی سے خوفزدہ ہیں اور ظاہر ہے کہ قانون کی حکمرانی سے صرف امراء، حکمران اور اعلیٰ طبقے خوفزدہ ہیں اور صرف وہی اس کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ عدلیہ کو اپنا تابع فرمان بنا کر رکھیں تاکہ وہ قانون کو جس طرح چاہیں اپنی ضروریات و مفادات کے سانچے میں ڈھالتے رہیں اورانہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ موٹی سی بات ہے کہ اگر ہمارے ”محبوب“ حکمران افتخار چوہدری اور ان کے معزول ساتھیوں کو بحال کر دیتے تو اس سے ملک میں چھوٹا سا خاموش انقلاب آ جاتا اورعدلیہ مضبوط ہو کر قانون کی حکمرانی کے چراغ روشن کر دیتی لیکن یہ بات ہمارے حکمرانوں کو گوارہ نہیں تھی کہ عدلیہ ان کی من مانی اور قانون شکنی اور کرپشن پر گرفت کرے یا این آر او کے تحت حلال ہونے والے کھربوں روپوں کی جائیدادوں پر ہاتھ ڈالے چنانچہ انہوں نے معزول ججوں کو طریقے سے ”کھڈے لائن“ لگا دیا۔ اب صورت یہ ہے کہ ساری قوم ان کی بحالی کے حق میں ہے لیکن لوگوں کی رائے کا احترام کرنے کے دعوے دار حکمران آواز خلق کو سننے سے انکاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اب تو حکمران کئی قدم آگے جا کر مستقبل کی پیش بندی کر رہے ہیں اور آنے والے وقت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ ہائی کورٹس کیلئے جن ججوں کو منتخب کیا جا رہا ہے یا کیا جا چکا ہے ان کا یہ انتخاب پارٹی وفاداری کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ کل کلاں سیاست کی کڑی دھوپ میں ایسے جج سایہ دار درخت بن سکیں۔ اے کاش کوئی حکمرانوں کو سمجھاتا کہ مشکل اور کڑے وقت میں صرف دیانتدار اورباکردار جج ہی قانون کی پناہ مہیا کرتے ہیں جبکہ نااہل اور بے کردار حضرات اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں وقت کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں اور ہر حاکم کو خوش رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عدلیہ کو اپنے پسندیدہ ججوں سے بھرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ عدلیہ کے ہاتھوں ہی پھانسی چڑھ گیا۔
اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ اقتدار اور طاقت انسان کا بہترین امتحان (
TEST) ہوتا ہے اوراس لئے کہا جاتا ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ کچھ بزرگ تو اولاد اور دولت کو اس لئے فتنہ قرار دیتے ہیں کہ یہ اکثر اوقات انسان کی تذلیل کا باعث بن جاتی ہیں۔ حضرت عمر نے بحیثیت خلیفہ اپنے بیٹے کو شراب نوشی کے جرم میں اتنے کوڑے مارے کہ وہ مر گیا کیونکہ وہ روز قیامت جوابدہی سے ڈرتے تھے یوں وہ دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہوگئے اور قانون کی حکمرانی کی روشن ترین مثال چھوڑ گئے جو قیامت تک انصاف کی راہوں میں روشن مینار کی مانند چمکتی دمکتی رہے گی۔ لیکن ماشااللہ ہمارے ملک میں جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا قانون کے حمام میں تقریباً سبھی ننگے ہیں۔ آج ہم چیف جسٹس ڈوگر صاحب کا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ وہ انصاف کی بلند ترین کرسی پر متمکن ہیں لیکن ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے موجودہ ہیرو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اپنے ڈاکٹر بیٹے کو ایف آئی اے اور پھر پولیس کیڈر کا حصہ بنانے کے لئے اسی طرح اپنے اثرورسوخ کو استعمال کیا تھا۔ لیکن پی سی او کے تحت کئی بار حلف اٹھانے کے باوجود ان کے جنرل پرویز مشرف کے سامنے ”انکار“ نے انہیں ہیرو بنا دیا۔ بعض اوقات انسان کا ایک ”فعل“ اس کے سابق گناہوں کا کفارہ ادا کر دیتا ہے لیکن بدقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی بھر کفارہ ادا کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اولاد انسان کی سب سے بڑی کمزوری اور سب سے بڑا متحان ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوگیا وہ سرخرو ہوگیا لیکن میں نے کم کم لوگوں کو اس پل صراط سے گزرتے دیکھا ہے اوربڑے بڑے انصاف اور قانون کے علمبرداروں کو اس امتحان میں بری طرح ”فیل“ ہوتے دیکھا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک قانون کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوا ہی نہیں اور نہ ہی میں اسے طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
پنجاب کی ہائی کورٹ کے ایک سابق جج اور پھر چیف جسٹس نے اپنے بیٹے کو حکمرانوں کی منت سماجت کرکے پی آئی اے میں ملازم کرایا ۔ بیٹا نالائق تھا اور کسی مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ خود ان جج صاحب کو بھی ان کے ایک قریبی عزیز اور وزیر قانون نے ایڈیشنل جج نامزد کروایا تھا کیونکہ وکالت چلتی نہ تھی۔ پھر ان جج صاحب نے مسلم لیگی حکومت کے حکمرانوں پر اپنے عہدے کا جادو چلایا اوراپنے بیٹے کو پی آئی اے سے نکال کر پی سی ایس کیڈر میں اٹھارویں گریڈ میں تعینات کروا دیا جبکہ غربا کے بچے جو مقابلے کا امتحان پاس کرکے پی سی ایس ہوتے ہیں انہیں عام طور پر اٹھارویں گریڈ میں آنے کیلئے بارہ سے پندرہ سال کی سروس درکار ہوتی ہے پی سی ایس ایسوسی ایشن نے قانون کی اس خلاف ورزی کیخلاف رٹ کی لیکن بردار ججوں نے اس رٹ کو اس طرح دبایا کہ بس گم سم ہوگئی۔ ماشااللہ ایسے مواقع پر سب برادر جج اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ شاید اس طرح کے جذبے کے تحت اب فرح ڈوگر کیس میں پارلیمینٹ کی کمیٹی کی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا گیا ہے اوراس طرح ریاست کے دو اہم اوربنیادی ستونوں کے درمیان تصادم کے لئے زمین ہموار کر دی گئی ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے ایک سیاسی حکمران نے اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلوانے اورپھر دوسرے کالج میں مائیگریشن کروانے کے لئے سبھی قوانین پامال کر ڈالے مختصر یہ کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں اور ملک میں لاقانونیت کی جڑ بھی یہی ہے کیونکہ جب قانون کے محافظ ، عدل و انصاف کی علامات، حکمران اور ”بڑے لوگ“ دن دیہاڑے قانون اور اصولوں پر ڈاکے ڈالیں تو پھر لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند کون باندھے گا؟ قانون کے احترام کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا؟ جس ملک کی اشرافیہ اور بالائی طبقے قانون کو روندنے میں مصروف ہوں اس معاشرے کو لاقانونیت کا شکار ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ذاتی مفادات کی خاطر ملک و قوم کو برباد کرنے والو ذرا سوچو تو۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Pak admits terrorists were Pakistanis: US

Pak admits terrorists were Pakistanis: USامریکا نے کہا کہ پاکستان نے ممبیی دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کا اغتراف کرلیا ہے۔

6 Dec 2008, 1113 hrs IST, TIMESOFINDIA.COM

NEW DELHI: The United States has confirmed to India that Pakistan’s military and intelligence chiefs have effectively admitted that the terrorists involved in last weeks terror attacks in Mumbai were Pakistani nationals and members of terrorist outfit the Lashkar-e-Taiba, according to a Times Now report. ( Watch ) 


Chairman of US joint chiefs of staff admiral Michael Mullen made the revelations to national security advisor MK Narayanan and defence minister AK Antony. 

Mullen told Indian government officials that he had told Pakistan that the US had evidence that the terrorists involved in the Mumbai attacks were Pakistani nationals and members of LeT. 

Earlier, Mullen had asked Pakistan’s top leadership to “investigate aggressively any and all possible ties to groups based in Pakistan”, the US embassy said in a statement. 

While taking note of the recent success of Pakistani security forces in operations against militants on the Afghan border, Mullen “also encouraged Pakistani leaders to take more and more concerted action against militant extremists elsewhere in the country”, the statement said. 

India has blamed Pakistan-based elements, including the outlawed Lashker-e-Taiba terror group, for carrying out the attacks and asked Pakistani authorities to act against them. 

President Zardari has denied Pakistan’s involvement in the attacks and called on India to furnish evidence to substantiate its accusations. 

Pakistani media reported that Zardari and other leaders told Mullen that Pakistan is not involved in any way in the Mumbai attacks. Pakistan is ready to cooperate in the probe into the attacks provided India shares evidence with it, they said. 

The US is concerned about the impact of tensions on the war on terror as Pakistan has threatened to divert troops from the Afghan border to the frontier with India if the situation worsens. 

Pakistan is a key supply route for US troops in Afghanistan. American officials also fear that the diversion of troops from the Afghan border could fuel cross-border raids by the Pakistani Taliban.

Leave a Comment

پشاور: کار بم دھماکا، 25 افراد جاں بحق، 100 زخمی

‏هفته‏، 06‏ دسمبر‏، 2008

پشاور(جنگ نیوز) پشاور میں کار بم دھماکے میں25 افراد جاں بحق اور 100زخمی ہوگئے،جاں بحق ہونے والوں میں چار بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں جبکہ اورکزئی ایجنسی میں بم حملے میں 10افراد ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پشاورکے قصہ خوانی بازارکے قریب گنجان آباد علاقے کوچہ رسالدار میں بم دھماکے کے نتیجے میں25 افراد جاں بحق ہوگئے،کئی گاڑیاں تباہ اور دھماکے کے بعد قریبی عمارتوں میں آگ لگ گئی اور بجلی منقطع ہوگئی، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دھماکے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کوگھیرے میں لے لیا جبکہ جائے وقوعہ کی طرف آنے والی تمام سڑکوں کو ٹریفک کیلئے بلاک کردیا گیا، دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے کے بعد پشاورکے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی اور جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیاگیا، تاہم اسپتال ذرائع کے مطابق اب تک21 افرادکے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ دھماکے کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد علاقے میں موجود تھی جوکہ عیدکی شاپنگ میں مصروف تھی۔جیو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں خفیہ ایجنسی را ملوث ہوسکتی ہے۔ آئی جی سرحد ملک نوید نے صحافیوں کو بتایاکہ دھماکہ خو دکش نہیں لگ رہا کیونکہ دھماکہ انتہائی نوعیت کا تھاجس سے زمین میں پانچ فٹ گڑھاپڑگیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کار بم دھماکہ تھا یا پھر بم نصب کیاگیا تھا، تاہم شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ہی اصل حقائق کا پتہ چل پائے گا، انہوں نے بتایاکہ ایک اندازے کے مطابق دھماکے میں20سے25کلوگرام دھماکہ خیزمواد استعمال کیاگیا، اس قسم کے واقعات کا مقصد صرف صوبے کے حالات کوغیرمستحکم کرنا ہے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں بیرونی اور اندرونی ہاتھ ملوث ہے، تاہم تحقیقات کے بغیر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، جمعہ کی رات دھماکے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ دھماکہ انتہائی شدید تھا اور اس میں بہت زیادہ مقدار میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ دوسری طرف اورکزئی ایجنسی کے کلابازار میں کار بم دھماکے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ8 زخمی ہوگئے۔ اے ایف پی کے مطابق بم کلا کے رابطہ پل کے قریب گاڑی میں نصب کیا گیا تھا‘ دھماکے کے وقت نماز جمعہ اور عیدکی خریداری کے باعث بازار میں رش تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے خودکش حملے کا امکان ظاہرکیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری، قائم مقام صدر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے پشاورکے قصہ خوانی بازار میں بم دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس المناک واقعہ پرگہرے صدمے اور افسوس کا اظہارکیا ہے جس میں بے گناہ افراد جاں بحق اورکئی زخمی ہوئے۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے الگ پیغام میں کہا کہ اس گھناؤنی کارروائی کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، حکومت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور اس قسم کی کارروائیاں حکومت کے پختہ عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔

Leave a Comment